جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق پروفیسرانعام باری کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپرد خاک کردیا گیا

کرا چی : جامعہ کراچی کے سابق پروفیسر انعام باری جو کہ جمعہ کی رات حرکت قلب بند ہونے سے رحلت فرما گئے تھے کو ہفتے کے روز بعد نماز ظہر جامعہ کراچی کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔مرحوم کی نماز جنازہ میں عزیز و اکابر کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ او ر ان کے موجودہ اور سابقہ شاگردوں نے شرکت کی۔ پروفیسر انعام باری طویل عرصے سے گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ایک طویل عرصہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہنے کے علاوہ پروفیسر انعام باری نے پاکستان میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی کی سندھ کی شکایت کونسل کے چیئرپرسن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔وہ ریڈیو پاکستان میں بھی کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔اس کے علاوہ پروفیسر انعام باری جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے مشیر برائے اطلاعات بھی رہے۔ انہوں نے ایک طویل عرصہ جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں بطور پروفیسر گذارا۔ان کے شاگرد آج میڈیا انڈسٹری میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔پروفیسر انعام باری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں سندھ کے وزیر برائے اطلاعات ومحنت سعید غنی کے کہا ہے کہ مرحوم پروفیسر ایک انتہائی محنتی و دیانتدار اور تخلیقی استاد تھے۔سندھ کے سیکریٹری اطلاعات عبدالرشید سولنگی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مرحوم پروفیسر انعام باری کی تدریسی ، تحقیقی اور اپنے شاگردوں کو صحافت کی اخلاقیات سمجھانے کے بارے میں کی جانے والی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔جبکہ ڈائریکٹر پریس انفارمیشن سندھ زینت جہاں جو کہ خود مرحوم پروفیسر کی شاگرد رہ چکی ہیںنے پروفیسر انعام باری کو بہت شاندار الفاظ میں خراج عقید ت پیش کیا۔زینت جہا ں کا کہنا تھا کہ ان کی بے غرض ، بے لوث اور تخلیقی شخصیت نے ان سمیت نہ صرف شعبہ ابلاغ عامہ کے تمام طلبہ کو متاثر کیا بلکہ شعبہ صحافت سے منسلک افراد بھی ان کی سحر انگیز شخصیت سے متاثر تھے ۔ ڈائریکٹر پریس انفارمیشن نے کہا کہ پروفیسر انعام باری کے انتقال سے طلبہ ایک محنتی ، عاقل اور تخلیقی استاد سے محروم ہوگئے ہیں۔