دوسروں کو مٹاتے مٹاتے خود نہ مٹ جاﺅ!

اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا ہے کہ جب ہمارے اعمال بگڑ جائیں گے تو ہم پر ایسے ہی حکمران مسلط کئے جائیں گے۔ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ سے زیادہ بہتر کون جانتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہیں،لیکن ہمیں اس بات پر کامل یقین ہے کہ اللہ رب العزت کے اپنے بندوں پر احسانات و اکرام بہت ہیں ۔وہ اپنے بندوں پرمظالم ڈھانے والوں سے انتقام بھی لیتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اقتدار سنبھالتے ہی تکبر کی بلند ترین سطح کو چھونے لگی تھی،مگر عمران خان کو ان کے ارد گرد مشیران نے ہی رسوا کیا ہے۔حالت یہ ہے کہ نہ آسمان ہاتھ آیا نہ ہی قدموں تلے زمین رہی ہے۔سیاسی مخالفین کو مٹاتے مٹاتے خود مٹتے جا رہے ہیں۔

عمران خان کو ابھی اقتدار کا خمار باقی ہے،اس لئے وہ محسوس کرنے سے قاصر ہیں کہ یہ ان کا نقطہ زوال ہے ۔ہزاروں سال پہلے یا حالیہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جنہوں نے ظلم ڈھایا ان کا انجام عبرتناک ہوا ہے۔یہ اقتدار ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے۔اس ملک پر وہ حکمران بھی رہے ہیں،جو اپنے اقتدار کے لئے معصوم لاشوں اور تباہی و بربادی کے ذمہ دار رہے ہیں ،لیکن ان سے اقتدار چھین لیا گیا۔رسوائی ان کا مقدر بن گئی،بلکہ مرنے کے بعد رسوائی نے جان نہ چھوڑی۔لیکن یہ باتیں اسے سمجھ نہیں آتیں ،جس کی اللہ رب العزت نے رسی پر گرفت کمزور کر دی ہو۔
اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے جہاں انصاف درکنار حقیقت سننے کی طاقت نہ ہو۔سچ کہنا تو دور،سچ برداشت کرنے کی ہمت نہ ہو۔جس حکومت کے وزیر قانون فروغ نسیم جیسے ہوں جو جھنڈا متحدہ کا لہراتے اور حکم گیریژن سے لیتے ہوں۔پاکستان تحریک انصاف کی اناڑی اور نا اہل حکومت کو سہارا دینے کے لئے تمام قانونی اصول بھول گئے ہوں ،ان کی ذہانت گھاس چرنے چلی جائے ۔اس بات کی دلیل یہ ہے کہ جب وزیر قانون کے خیال کے مطابق افضل گورو کو پھانسی دینے کے لئے بھارتی سپریم کورٹ نے یہ استدلال اختیار کیا کہ انہیں پھانسی نہ دی گئی تو دشمن خوش ہوگا۔بھارتی سپریم کورٹ کے اس احمقانہ اصول کو عدلیہ کو اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔یعنی عدلیہ فیصلے دیتے ہوئے خیال رکھے کہکہیں ان کے فیصلوں سے ہمارے ملک دشمن خوش تو نہیں ہو رہے ۔یعنی عدالتیں فیصلے آئین و قانون کے بجائے دشمن کی خوشی یا افسردگی پر کریں ۔اس کا مطلب صاف ہے کہ جس کو حکومت اچھا سمجھتی ہے ،وہی فیصلے آنے چاہیے ۔اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ مشرف کے فیصلے کو اپنی منشا کے مطابق کروانا چاہتے ہیں ۔کیوں کہ جنرل(ر) پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 پر سزائے موت دینے کے فیصلے نے دشمنوں کو خوش کیا ہے اس لئے جنرل مشرف کو رہا کر دیا جائے ،ان کے تمام گناہ،ظلم ،زیادتیاں ،آئین شکنی سب بھلا دی جائے تاکہ جب چاہے اس ملک میں جس کا داﺅ چلے وہ اپنا ظلم و زیادتی کرتا رہے اور ایسے چند پیادے اس ملک میں رکھ لے جو ہر حکومت اور مقتدر اداروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے وقت آنے پر انہیں بچاتے رہیں ۔

یہ کیسی حکومت ہے جو انصاف کے نام پر عوام کو بیوقوف بنا کر اقتدار میں آئی اور اب ظلم و بربریت کی مثال بن چکی ہے۔کرپشن کا اتنا واہ ویلا کیا کہ کرپشن کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ان کی حکومت میں کرپشن کا ریٹ آسمانوں پر پہنچ چکا ہے۔کون سا محکمہ ایسا ہے جہاں رشوت ،کرپشن موجود نہیں ہے،بلکہ پچھلے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔اگر ان کا کوئی انکشاف کرتا ہے تو اس پر ہی عتاب نازل ہو جاتا ہے۔درست تصویر دکھانے والے کو بے آبرو کرنے کے لئے جال بچھا دیا جاتا ہے۔عمران خان کی حکومت کا عقلی اختلال حیرت انگیز تماشا یہ ہے کہ مخالفین کی گرفتاریوں کے بےتابانہ شوق میں کسی کو بھی اس بات کا ہوش نہیں رہا کہ جو جرم گرفتاری کی بنا قرار دیا گیا ہے فی الحقیقت اُس کا کیا حال ہے اور کم از کم ابتدائی درجہ کا قانونی مواد بھی اُس کے لئے موجود ہے یا نہیں؟رانا ثنا اللہ کو منشیات کے کیس میں پکڑا گیا۔”اللہ کو جان دینی ہے“ والے وزیر نے پارلیمنٹ،نیشنل ٹی وی اور کہاں کہاں تمام ثبوتوں کے دعوے کیے۔حقیقت ملک کے بچے بچے کو معلوم ہے،لیکن ایک شخص پر ظلم کی انتہا کر دی،چھے ماہ تک عقوبت خانے کی صحبت برداشت کرنا پڑی،لیکن تمام مظالم کا رانا ثناءاللہ نے جاں فشانی سے مقابلہ کیا۔کیوں کہ عمران خان تکبر کے اس پیمانے کو چھو چکے ہیں، جہاں مثبت دیکھنا،سننا اور سمجھنا ختم ہو جاتا ہے۔اگر اس کے ساتھ ساتھ حکمران میں عقل کے اختلال تدبیر و سیاست کا فقدان اور حکمانہ اقتدار کی نامرادی ہو تو ایسے ہی تماشے سامنے آتے ہیں۔

 

حکومت کو اندازہ نہیں کہ اس کے قدم خشکی پر ہیں یا دلدل پر؟ٹھیک اُس طرح عقلمند کی طرح جو دلدل پر کودے ، اُس کی تیزی ہی نے اُسے زیادہ پھنسایا اور اب وہ حیران و درماندہ ہو کر رہ چکی ہے۔نہ چل سکتی ہے اور نہ واپس آ سکتی ہے۔حکمرانوں نے بیوقوفیوں کی انتہا کر دی ۔اگر کوئی ملک لوٹنے والے تھے ان کے ساتھ ساتھ ان شریف النفس لوگوں پر زیادہ ظلم کیا،جیسے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اب احسن اقبال کی گرفتاری سے اندازہ لگانے کے لئے بڑی دانشوری کی ضرورت نہیں ۔بیوقوف آدمی بھی سمجھ جاتا ہے کہ حکومت کس قدر عقلمند ہے۔ان کی گرفتاری سے حکومت نے یہ سمجھا تھا۔ایسی گرفتاریوں سے حزب اختلاف کو بند گلی میں لگا دیں گے اور سکون سے اپنے ظلم و زیادتی کی داستانیں رقم کرتے رہیں گے۔انہیں یقین تھا کہ ان گرفتاریوں کے دو نتیجے نکلیں گے ۔یا مخالفین بھڑک اٹھیں گے یا ڈر جائیں گے۔اگر بڑھکیں گے توحکومت کی نا اہلیوں سے ان کی توجہ ہٹی رہے گی ،وہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔اگر ڈر کر سہم گئے،تو ان کی سیاسی طاقت خود بہ خود ختم ہر کر رہ جائے گی۔لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ مخالفین نے تیسرا راستہ اپنایا ہے ،انہوں نے صبر و سکون ہاتھ سے نہیں جانے دیا،پہلی بار گیٹ نمبر چار کی طرف سجدہ نہیں کیا بلکہ سنجیدہ جوش و آمدگی کے ساتھ حکومت کا چیلنج قبول کر لیا ہے۔اب دیگر حزب اختلاف کے قائدین مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے۔کاش حکومت ایسا نہ کرے ۔ایک ہی بار آگے بڑھے گرفتاریوں کی بھرمار کر دے،جیل خانے زندان بھر دے،لیکن حکومت کو اندازہ نہیں ہو رہا کہ لوگوں کی تمام تر غلط فہمیاں دور ہو چکی ہیں۔جس اصول پسندی اور احتساب کی بات کرنے والے عمران خان کا پول کھل کر سب کے سامنے آ چکا ہے۔

موجودہ حکومت جمہوریت پر داغ ہے۔پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کا ایجنڈا ،احتساب مخالفین سیاستدانوں تک محدود رکھنے کا کام ہو رہا ہے۔اب کرپشن میں ملوث سرکاری افسران و ملازمین اور تاجروں کو نیب کی پکڑ سے آزاد کرانے کی منظوری دے دی ہے۔نیب ترمیمی آرڈیننس مجریہ 2019 لایا گیا ہے۔یہ آرڈیننس وزیر اعظم اپنے دوستوں کے لئے تحفے کے طور پر لائے ہیں۔مؤقف اپنایا گیا کہ سرکاری افسران نیب سے خوف زدہ تھے ان کا خوف اتارا گیا ہے۔میاں نواز شریف کے دور میں بھی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد نے نیب کی طرف سے بلا وجہ تنگ کرنے کی شکایات کی تھیں،مگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کر سکی تھی۔کیوں کہ الزام لگ جاتا کہ وہ اپنے کاروباری دوستوں کو بچانے کے لئے ایسا آرڈیننس لائے ہیں ۔اگر نیب کا گزشتہ ریکارڈ دیکھا جائے تو زیادہ تر کارروائی نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور سرکاری افسران کے خلاف کی گئی ہے۔جس میں ٹیکس چوری،افسران کی کرپشن و اختیارات کے نا جائز استعمال وغیرہ کے مقدمات شامل ہیں۔

 

یہ آرڈیننس حزب اختلاف کو اعتماد کے بغیر لایاگیا ہے۔اس سے حکومت کی جمہوریت پسندی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ بی آر ٹی پشاور منصوبے کے حوالے سے تحقیقات کروانا ضروری ہو چکا ہے،کیوں کہ گزشتہ ساڑھے چھ برس سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے،بی آر ٹی پشاور کا منصوبہ پی ٹی آئی حکومت نے شروع کیا تھا۔مذکورہ منصوبے کی تاخیر کے ساتھ لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔منصوبے کی تحقیقات کی صورت میں کئی متعلقہ وزیر اور افسران لپیٹ میں آئیں گے۔
آج عمران خان جو بو رہے ہیں انہیں ہر صورت وہی کاٹنا پڑے گا۔اقتدار تو بہر حال ان سے چھین لیا جائے گااور تب انہی قوانین کے تحت ان کی گردن پر شکنجہ کسا جائے گا اور وہ بھی نہیں بچیں گے، جنہوں نے قانون شکنی کی ۔ حکمران جتنا بزدل ہوتا ہے،اتنا ہی جبر وستم کرتا ہے۔ایسے ہی دنیا میں اپنے آپ کو مضبوط،طاقتور سمجھنے والے حکمران آہستہ آہستہ اپنی طاقت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔اس لئے یاد رکھنا چاہیے کہ دوسروں کو مٹاتے مٹاتے خود نہ مٹ جائیے گا۔