نہ صرف پارٹی کے جیالوں نے بلکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ تجدید عہد وفا کیا : وزیراطلاعات و محنت سندھ سعید غنی

کرا چی   : وزیراطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ 27 دسمبر کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 12 ویں برسی پر پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں جلسہ منعقد کیا گیا جہاں محترمہ بینظیر بھٹو کو 12 سال قبل شہید کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف پارٹی کے جیالوں نے بلکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ تجدید عہد وفا کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ لیاقت باغ کے بڑے جلسوں میں سے ایک جلسہ تھا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے ہفتے کے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے لئے ایک نیا آرڈیننس لایا گیا ہے۔کل وزیر اعظم عمران نیازی نے کراچی اپنی تقریر میں کہا کہ نیب کے قانون میں نئی ترامیم لانے سے ان کے کچھ دوست ہیں جن پر نیب کے کیسز ہیں جو بڑے پریشان ہے اب وہ یقینا خوش ہونگے، کیونکہ اب ان کو نیب کے دائرے سے باہر نکالا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے نیب کے آرڈیننس میں تبدیلی محض عمران خان یا پی ٹی آئی کے فنانسرکو فائدہ پہچانے کے لئے کی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے پروجیکٹس جن کی تحقیقات ہونی ہے جو کہ نیب کے دارئرے میں آسکتے ہیں ان کو نیب کے دائرے سے بچایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ نیب کے قانون کی مخالفت کی ہے کیونکہ نیب کا قانون کالا قانون ہے۔اور اس قانون کے ذریعے لوگوں کے ساتھ شدید زیادتیاں ہورہی ہیں ۔ اور کئی لوگوں نے اس قانون کی زد میں آکر مجبور ہوکرکر اپنی جانیںدے دی ، کچھ لوگوں نے خودکشی تک کرلی، کچھ لوگوں کی جیلوں میں موت ہوگئی ۔لیکن نیب کے لوگوں کو عقل نہیں آئی ، انہوں نے اپنے رویوں کو تبدیل نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ آج بھی اپوزیشن جماعتوں کی لیڈرشپ کے خلاف نیب جس تیزی سے کاروایاں کر رہی ہے وہ آپ کے سامنے ہیں اور جس تیزی سے نیب بے نقاب ہورہی ہے و ہ بھی عوام کے سامنے ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کا جو نیب نے میڈیا ٹرائل کیا گیااور یہ بتایا گیا کہ خورشید شاہ صاحب کے ا ثاثہ 500 ارب روپیہ ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ خورشید شاہ صاحب کے اکاو ¿نٹس کی تعداد 100 کے قریب ہے ، ایک مزاق کے سواءکچھ نہیں۔اب تین ، چار ماہ گزرنے کے بعد اب ایک ریفرنس جوفائل کیا گیا اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خورشید شاہ صاحب کے اثاثہ ایک ارب اور کچھ کروڑ اوان کے اکاو ¿نٹس صرف پانچ ہے۔ سعید غنی نے کہا جو تماشہ کیا گیا اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہے ، نیب سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔اس طرح کے بیشمار مثالیں موجود ہیں آصف علی زرداری کا کیس ہو، فریال تالپور کا کیس ہو ، آغا سراج درانی کا کیس ہو۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری ، فریال تالپو ر اور اآ غا سراج درانی کے ضمانت کے آرڈرز ہیں اگر وہ آرڈر پڑھ لیں تو اس میں واضح ہے کہ عدالتوں نے کس طرح سے ہماری لیڈرشپ پر لگنے والے الزامات کو مسترد کیا ہے اور ان کی گرفتاریوں کو غلط قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے قانون میں وہ ترامیم کی جاتی جس کی وجہ سے ہر شخص مصیبت میں ہیں ، جس کی وجہ سے عزتدار لوگوں کی عزت اچھالی جاتی ہے۔غلط طریقے سے لوگوں کوجیلوں میں ڈالا جاتا ہے ، ریمانڈ لیا جاتاہے، یہ تبدیلی سرکاری افسران کے لئے ہے اور بزنس کمیونٹی کو نیب کے قانون سے آزادکرنے کے لئے ہے۔جبکہ پی ٹی آئی، علیمہ باجی اور پی ٹی آئی کے جو اتحادی ہیں وہ پہلے ہی نیب کے دائرے سے باہر ہے۔او صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ر نیب کادائرہ اختیار اور نیب کا قانون ہے۔ اس طرح سے اگر نیب کے قانون کو استعمال کرنا ہے تو یہ ایک بڑا مذاق ہے ا ور بہت بڑی زیادتی ہے ا س سے ملک کی خدمت نہیں ہو رہی یہ احتساب کے نام پر انتقام ہے۔

 انہوں نے عمر ایوب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک وفاقی وزیر یہ کہے کہ صوبہ سندھ میں جو گیس کی قلت ہے ،وہ صوبائی حکومت کی وجہ سے ہے۔انہون نے کہا کہ کسی شعبہ میں ہمیں گیس نہیں مل رہی اور الزام صوبائی حکومت پر ڈالا جا رہا ہے، گیس فراہم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔کیونکہ سوئی سادرن گیس اور سوئی نادرن گیس وفاقی ادارے ہیں۔البتہ ہم کہتے رہے ہیںاور کہتے رہیں گے کہآئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق جس صوبے سے پیدا ہوتی سب سے پہلا حق اس صوبے کا ہوتاہے، اور اس کے بعد جو گیس بچے گی وہ تقسیم کی جائے گی۔کئی برسوں سے یہ ہورہا ہے کہ سندھ میں لوڈشیڈنگ رہی ہے یابندش کردی جاتی ہے۔لیکن اگر وفاقی حکومت صوبہ سندھ کے لوگوں کوبلکل گیس مہیا نہیں کریں گے تو یہ سوال ہم اٹھاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی مصیبت ہیں اور گیس کی لوڈشیڈنگ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔اور بجلی مزید مہنگی کردی گئی ہے ، لوگوں کی زندگی گذارنا مشکل ہوگئی ہے۔

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی نااہل حکومت ایک منصوبہ بتادیں جو کہ تھر کول جیسا ہویا این آئی سی وی ڈی جیسا ہو۔ سندھ حکومت نے بیشمار کام کئے ہیں۔مخالفین چاہے جتنی تنقید کریں لیکن سندھ کی عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیئے ہیں۔ اور ہرسال ہمارے ووٹرز بڑھ رہے ہیں، کیونکہ ہم سندھ کے عوام کے لئے کام کر رہے ہیں، اس لئے سب سے زیادہ ووٹ ہمیں 2018 کی الیکشن میں ملے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے یہ کہنا اس کے ذریعے صرف اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچا یا گیا ہے بلکل غلط ہے۔سعید غنی نے کہا کہ آٹھ لاکھ بیس ہزار مستحق لوگوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالنا یہ ظلم ہے ، ہم اس پر اپنا ضرور احتجاج کریں گے۔