تاک میں دُشمن بھی تھے اور پُشت پہ احباب بھی۔۔۔

پرویز مشرف صاحب زندگی کے اس موڑ پر اور عمر کے اس حصے میں جو پزیرائی آپ کو ملی ہے وہ شاید اس سے پہلے کسی کا مقدر نہیں بنی
راہ چمن ۔ چوہدری عبدالغفور خان کا فکر انگز کالم ‘ کویت میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے لئے….
دشمنانِ اسلام ہمیشہ سے پاکستان کو توڑنے کی سازشوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف طریقے آز مائے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کھربوں ڈالر لگائے مگر اللہ کے فضل کے ساتھ ناکام رہے ۔ میں پہلے تحریر کر چکا ہو ں کہ عالمی کافرانہ نظام نے پے در پے ناکامیوں کے بعد “ففتھ جنریشن وار ” شروع کر دی ہے اب اداروں پر ڈائیریکٹ اٹیک کیا جا رہا ہے ۔ اس میں بھی ناکامی اُن کا مقدر بنے گی مگر اس وقت تک وہ کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ بد قسمتی سے ملک کے بڑے شعبوں کو آپس میں لڑا دیا گیا ہے وکلاء اور ڈاکٹرز کے بعد عدلیہ اورفوج میں غلط فہمیاں جنم لینے کے ساتھ سیاستدان بھی آپس میں دست و گریباں ہیں ۔

کشمیر میں خون کی ندیاں بہانے کے ساتھ مسلمانوں کی بیٹیوں کی عزتیں تار تار کی جا رہی ہیں اور ہم کس طرف جا رہے ہیں کیا پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک وکیل صاحب اور ایک ڈاکٹر صاحب کی لڑائی کے بعد سابقہ آرمی چیف اور عدلیہ کے درمیان غلط فہمیاں جنم لے لیں اور پرویز مشرف کو آئوٹ آف ٹرن پروموشن دینے والے آرٹیکل 6کے تحت کاروائی شروع کروا کر فیصلہ آنے کے بعد لند ن میں بیٹھ کر یہ کہیں کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا اور نواز شریف کو فیصلے کا علم ہی نہیں ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف جنہوں نے ملک میں صاف شفاف انتخابات کروائے ، میڈیا کو آزادی دی، مختلف یونیورسٹیاں بنانے کے ساتھ پاکستان میں مختلف چھوٹے ڈیم کے ساتھ منگلا اور تربیلا ڈیم پر کام کیا۔ IMF سے تقریباً چھٹکارا حاصل ہو گیا لٹریسی ریٹ بڑھنے کے ساتھ غربت میں کمی ہوئی اور بینکنگ منافع دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ۔ ڈالر کو ایک جگہ کنٹرول کیا جس نے کبھی دس روپے نہیں دیکھے تھے وہ کروڑوں کی بات کرنے لگا۔


ہم نے سید پرویز مشرف کا کوئی رشتہ دار امور مملکت چلاتے نہیں دیکھا اور نہ ان کو کمیشن کھاتے دیکھا بلکہ جلا وطن ہونے والے لیڈران کی باقیات کو بھی انہوں نے سہولتیں دی ۔ دُنیا میں کہیں بھی محل تعمیر نہیں کروائے اور نہ ہی کبھی پاکستان کے مفاد کا سودا کیا۔ میں بحیثیت پاکستانی یہ سمجھتا ہوں کہ روزانہ صبح اُٹھ کر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو سلیوٹ کرنے والا اس سے بے وفائی نہیں کر سکتا ۔ بحیثیت کمانڈو جنرل مشرف نے سیاچن اور کارگل پر بحیثیت کمانڈر اپنا رول ادا کرکے ہندوستان کی شہ رگ کاٹ دی اگر اس پر جمہوری قوتیں بہادری کا مظاہرہ کرتیں تو شایدآج مقبوضہ کشمیر ہمارا باقاعدہ حصہ ہوتا اور یہ ظلم و بر بریت کی کہانیاں سننے کو نہ ملتیں۔ پاکستان میں جس اقدام کے بعد ہندوستان میں خوشیاں منائی جائیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے دشمن کا وہ کام کر دیا جو وہ نہیں کر سکتا تھا ۔

 


انتہائی دُکھی دل کے ساتھ بڑے باادب طریقے سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ صاحبِ اختیار ضرور دیکھیں کہ ہمارے سسٹم میں کہا ں کہاں خرابی ہے۔ جو کچھ یہاں ہو رہا ہے کیا یہ ہونا چاہیے ؟ کون کس کا ایجنٹ ہے ۔ ہر حکومت کے اندر بیٹھ کر پاکستان دشمن ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کون کیا رول ادا کر رہا ہے اُن پر نظر رکھنے کے ساتھ انھیں اُنکے انجام تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف صاحب وائسرائے ہند نے اپنی بیوی کے ساتھ تاج محل کا وزٹ کیا اور جب وہ وزیٹر بک میں اپنے تاثرات لکھنے لگی تو اُس نے وائسرائے کو مخاطب کر کے لکھا کہ:۔ اگر تم مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے مرنے کے بعد میری یاد میں اسی طرح کا تاج محل بنوائو گے “تو میں ابھی مرنے کیلئے تیار ہوں ” ۔ جناب سید پرویز مشرف صاحب زندگی کے اس موڑ پر اور عمر کے اس حصے میں جو پزیرائی آپ کو ملی ہے وہ شاید اس سے پہلے کسی کا مقدر نہیں بنی ۔ آپ کو جج صاحبان کا شکر گزار ہونا چاہیے جنھوں نے پاکستانی قوم اور آپکے ادارے کے دلوں میں چھپی آپکی محبت کودنیا کے سامنے اُجاگر کیا ہے۔ کسی چیف کو ریٹائر منٹ کے بعد یہ عروج نہیں ملا بلکہ یہ پزیرائی تو آپکو بحیثیت صدر اور آرمی چیف کے بھی شاید نہ ملی ہو ۔ مجھے افسوس ہے کہ جنھوں نے آپ سے فائدے اُٹھائے جو آج آپکا جرم تصورکیے جا رہے ہیں پھانسی تو انھیں لگنی چاہیے کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ”انسان کے قاتل سے پہلے احسان کے قاتل کو پھانسی چڑھا دینا چاہیے”۔ میں تو آپکے خلاف فیصلے کے بعد یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر آپ اسی حالت میں سٹریچر پر پاکستان سے محبت کے جُرم میں پھانسی کا پھندا چومنے کیلئے یہ کہتے ہوئے پاکستان روانہ ہو جائیں کہ ہاں میں نے پاکستان کی محبت میں ہندوستان کا منہ توڑنے کے ساتھ دنیا کو بتایا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اگر یہ جرم ہے تو میں قبر کی دیواروں تک یہ جرم کرتا رہوں گا۔ اور میری قوم اس جرم میں مجھے پھانسی چڑھانا چاہتی ہے تو آئو میں آرہا ہوں ۔جناب سید پرویز مشرف صاحب پاکستان کی تاریخ میں آج تک اتنا بڑا ستقبال کسی کا نہیں ہوا ہوگا اور ہر پاکستانی آپکے لیے پھانسی کا پھندا چومنے کیلئے تیار ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ ابھی بھی بہت سے راز آپکے سینے میں دفن ہیںآپ جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ کونسا مائنڈ سیٹ ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ آپ شاید ابھی تذکرہ نہ کریں مگر مجھے کہنے دیں کہ :
تاک میں دُشمن بھی تھے اور پشت پہ احباب بھی
تیر پہلا کس نے مارا یہ کہانی پھر سہی