کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں کہ بندہ سوچنا اور بولنا ہی بھول جاتا ہے !

نمرتا ہلاکت معاملے پر زیر حراست مہران ابڑو اور علیشان کو آزاد کر دیا گیا ہے ورثہ کی جانب سے رہائی کی تصدیق کی جا چکی ہے دونوں طالبعلم 17 ستمبر سے بغیر کسی مقدمے اور کمپلین کے پولیس کی زیر حراست تھے اس دوران پولیس کی جانب سے انہیں لمس لیبارٹری جامشورو لے جا کر ڈی این اے کروایا گیا جو کہ نمرتا کے ڈی این اے سے میچ نہیں ہوا تھا اور جوڈیشل انکوائری جج اقبال حسین میتلو کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا تاہم بیانات قلمبند ہونے کے بعد بھی جوڈیشل کمیشن نے دونوں طالبعلموں کی رہائی کے احکامات نہیں دیے تھے، ذرائع کے مطابق جوڈیشل انکوائری کے جج اقبال حسین میتلو نے اپنی 17 صفحات پر جاری کردہ رپورٹ میں نمرتا ہلاکت کو خودکشی قرار دیا ہے اور وجہ مہران ابڑو کو قرار دیا گیا ہے جس پر دفعہ 322 کے تحت قتل بل سبب کا مقدمہ درج کرکے مزید پولیس تفتیش کی سفارش کی گئی تھی جبکہ نمرتا کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر امرتا کو بھی مبہم رپورٹ جاری کرنے پر شامل تفتیش کرنا تھا۔

تاہم سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر مکیش چاولا سمیت اقلیتی برادری کے دیگر اراکین اسیمبلی اور نمرتا کے ورثہ کے دبائو پر رپورٹ جاری نہ کرنے کا فیصلا کیا گیا ہے نمرتا کے ورثہ بھی معاملے کو ہمیشہ کیلیے ختم کرنا چاہتے ہیں لہذا نمرتا قتل ہوئی یا خودکشی یہ کبھی کوئی نہیں جان سکے گا کیونکہ نمرتا معاملے پر پولیس کو نہ تو آزاد تحقیقات کے اختیارات دیے گئے اور نہ ہی پولیس تفتیش مزید آگے بڑھانے کا فیصلا کیا گیا ہے نمرتا کے کپڑوں اور وجود سے ملنے والے تیسرے شخص کے ڈی این اے کا معمہ بھی ایک راز ہی رہے گا کوئی نہیں جان پائے گا کہ وہ شخص کون تھا ؟ نمرتا ہلاکت واقع کے بعد ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا کہ شاید نمرتا کسی وجہ سے بلیک میل ہوئی اور بل آخر تنگ آ کر اس نے خودکشی کر لی صرف مہران ابڑو کی وجہ سے یہ سب ممکن نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ وہ مہران ابڑو کی اچھی دوست اور ہر جگہ زندگی سے بھرپور دیکھائی دی اس طرح اچانک موت کا سبب مہران ابڑو ہی بنا اس کی بھی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور اب ذرائع کے مطابق مہران ابڑو کے ورثہ پر بھی دبائو ڈال کر ضمانت لی گئی ہے کہ مہران کو میڈیا سے دور رکھا جائے گا اگر ایسا ہوا تو ذمہ داری ورثہ کی ہوگی اس کیس میں نہ تو جوڈیشل رپورٹ سامنے آ سکی ہے اور نہ ہی دونوں طلبہ کے اپنے تاثرات اور بیانات جبکہ عدالت میں بھی مہران ابڑو کا بیان جوڈیشل انکوائری جج کے چیمبر میں لیا گیا تھا قانونی تضاضوں کو شروع سے ہی پورا نہیں کیا گیا۔

پولیس چاہتی تو اسٹیٹ کی جانب سے مقدمہ درج کر سکتی تھی لیکن پولیس نے بھی ایسا نہیں کیا فارنسک شواہد اکٹھے کرنے میں بے حد لاپرواہی برتی گئی جس سے کیس بے حد کمزور ہوا انڈیا کی جانب سے اس کیس کو عالمی میڈیا میں اچھالنے اور اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کائونسل میں اس کیس کو لے کر درخواست دائر کرنے کے بعد اس کا قتل ثابت ہونا ویسے بھی بے حد مشکل ہو گیا تھا کیونکہ قتل قرار دینے کی صورت پر عالمی دبائو بڑھ جاتا جوڈیشل انکوائری کے جج اقبال حسین میتلو نے اپنی جاری کردہ انکوائری رپورٹ کے ساتھ منسوب کورنگ لیٹر میں نمرتا ہلاکت رپورٹ کی کاپی لاڑکانہ پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کو مانگنے پر جاری کرنے کی واضع ہدایات دی گئیں تاہم ذرائع کے مطابق ہوم سیکریٹری عثمان چاچڑ نے پولیس اور وائیس چانسلر جامع بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو رپورٹ حاصل کرنے کیلیے مراسلہ لکھنے سے بھی روکا اور وزیر اعلی سندھ کے سامنے رپورٹ پیش کرنے کی وجہ بتائی گئی تاہم آج تک نہ تو یہ رپورٹ متعلقہ محکموں کو جاری ہوئی اور اب نہ ہی آزاد کیے گئے طالبعلم مل رہے ہیں سب کچھ غائب کر دیا گیا ہے یہ بات ایک سوال بن کر رہ جائے گی کے یہ طریقہ کار انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے؟ کیا نمرتا کے ساتھ سالہا سال پڑھنے والے طالبعلموں، دوستوں اور اس ملک کے 20 کروڑ عوام کو کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ آخر نمرتا کہ ساتھ ہوا کیا تھا ؟ کیوں ایک ہنستا مسکراتا چہرہ اس درد ناک طریقے سے لمحوں میں غائب ہوگیا جیسے کہ اسکا وجود ہی کبھی نہ تھا۔

 


کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں کہ بندہ سوچنا اور بولنا ہی بھول جاتا ہے !
اسلام آباد کے نواح میں معصوم عُمر کی ہنستی کھیلتی تصاویر اور ٹیپ سے بندھی بے بس لاش کی تصاویر کی نیوز فیڈ میں بس ایک جھلک سی ہی دیکھ پایا ہوں !!

جُرم ہمیشہ سے اور ہر قسم کے ہوتے چلے آ رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن سزا کا ایسا ماحول کہیں نہیں دیکھا جو مملکت خداداد میں ہم پر مسلط ہے !!
ننھے عُمر کی درجنوں زاویوں سے اور پیدائش سے قتل اور پھر تدفین تک کی تصاویر پوری قوم کو دیکھنے کو ملیں گی لیکن قاتلوں کو پہلے تو سزا ہی شاید نہ ملے یا کم ملے اور اگر پوری بھی مل جائے تو ہمیں اُن کی تصاویر دیکھنے کو نہیں ملیں گی کہ کیسے اُن کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالا گیا ۔ جب لیور کھینچا گیا تو کیا منظر تھا ۔ جب اِن درندوں کی آنکھیں پھندہ لگنے سے باہر اُبلیں تو کیسی لگ رہی تھیں ۔
سزا کے بعد کی تصاویر تو چھوڑیں گرفتاری کے بعد کی تصاویر میں بھی اُن کے چہروں پر کپڑا ڈال دیا گیا ، کس حکمت کے تحت ، کون پوچھ سکتا ہے !!!
کون سا تیر مارا گیا بھائی 14 اگست 1947 کو ؟؟؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان ؟؟
اچھا کیا کیا بدلا پھر ؟؟
کوئی ایک چیز بتادو ؟؟
صرف ایک چیز بدلی کہ انگریز کم از کم جو دنیاوی نظام ڈھنگ سے چلا رہے تھے !! اب وہ نظام بھی دیسی خنازیر کے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا ۔
اگر یہی نظام رکھنا ہے تو خان صاحب آپ سو بار پیدا ہو کر واپس آ جائیے !! لعنت ہی سمیٹیں گے !!
خان صاحب کی تو خیر اوقات ہی کیا ہے !
نظام یہی رکھنا ہے تو قائد اعظم کو دوسرا جنم دے دیجیے !! کچھ نہیں بدلے گا !!
دین کے نام پر حاصل کی گئی سرزمین پر دین سے بغاوت کا انجام بھلا لعنت کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے !!
دین کہتا ہے جُرم کی تشہیر مت کرو !! سزا کی تشہیر کرو !!
پہلے تو سزا دیتے ہی نہیں ہو !!
پھر درجے ہیں کہ کس کو سزا دینی ہے اور کس کو دیت کی آڑ میں بچانا ہے !!
ننھے عُمر کے قاتل ان شاءاللہ لٹک جائیں گے کہ نہ وہ سی ٹی ڈی کے اہلکار ہیں نہ اُن کا نمبر ون سے کوئی رشتہ لیکن ہم انہیں بھی لٹکتا دیکھ نہیں پائیں گے ۔
سؤر اللہ کی مخلوق ہے ۔ سؤر سے کوئی کراہت نہیں کوئی نفرت نہیں کہ اللہ کی کوئی حکمت ہو گی کہ اُسے پیدا کیا گیا ۔ کھانے سے منع کیا گیا سو حرام سمجھتا ہوں ۔
مثال کے لیے سؤر کو بیچ میں لایا ہوں ۔
عرض ہے کہ جس دِن مادہ سؤر نے کسی ہرن کو جنم دے دیا !! اُس دِن اِس نظام سے بھی کوئی خیر برآمد ہو ہی جائے گی !!!
لہذا قائد کی سالگرہ پر سوال تو بنتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

جگر کا خُوں پلا کے تم نے بنیادیں رکھی تھیں کیوں ؟؟؟
اِک ایسے آشیانے کی !!!
کہ جس کے سب مکینوں کو سلاسل میں ہی پلنا تھا
کہ جس کے صحن میں تازہ گُلابوں کو پگھلنا تھا
نہ شاہیں پھڑپھڑاتے ہیں !!
نہ تارے جگمگاتے ہیں !!
نہ سایہ لا الٰہ کا ہے
نہ سکہ مصطفےٰ ﷺ کا ہے
خُودی دَر دَر بھٹکتی ہے
مسلمانی سسکتی ہے
اگر وہ خواب سچا تھا تو یہ تعبیر کیسی ہے ؟؟؟؟
اگر معمار مُخلص تھے تو یہ تعمیر کیسی ہے ؟؟
۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی