حکومت کو نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے!

کالم : مدار
عرفان مصطفی ٰصحرائی
پاکستان تحریک انصاف نے ملک کا اقتدار کیا سنبھالا،ملک و قوم کو بربادی کی سند مل گئی۔گزشتہ ڈیڑھ سال میں حکومت نے معاملات سلجھانے کی بجائے بگاڑے ہیں۔غیر سنجیدگی کی کوئی حد نہیں ہے اور حکمرانوں سے کسی معاملے کو سمجھداری سے حل کرنے کی توقع بے کار ہے۔معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ،اسے حل کرنے میں حکمت عملی کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔
لاہور جیسا خوبصورت شہر چند روز سے گچرا کُنڈی کا سما پیش کر رہا ہے۔لاہور،کراچی کو کچرے سے نجات حاصل کرنے کے گر سکھاتے سکھاتے خود کراچی کے نقشہ قدم پر چلنا شروع ہو گیا ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت مستحکم کر دی گئی ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کا ہر شعبہ معاشی تنزلی کا شکار ہے۔حکومت کے لئے تنخواہوں تک دینا محال ہے ۔پنشن لینے والے حضرات پریشان ہیں،انہیں وقت پر پنشن نہیں مل رہی۔ایسی صورت حال میں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔جب کسی کمپنی کو حکومت کی جانب سے رقوم کی ادائیگی نہیں ہو گی،وہ کام کیسے کر سکتی ہیں۔کیوں کہ لاہور کی صفائی کا ٹھیکہ ترک کمپنی کے پاس تھا جو بڑی احسن طریقے سے سالوں سے کام کر رہی تھی،مگر ان کی 3ارب کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے صفائی کا کام بند کر دیا گیا ۔جس کا نتیجہ لاہور شہر اور شہریوں کو جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کی صورت میں جھیلنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ پنجاب حکومت مسلم لیگ (ن) کی تھی۔وزیر اعلیٰ کے منصب پر میاں شہباز شریف بیٹھے تھے۔جنہیں پی ٹی آئی چور ،ڈاکو اور کرپٹ کہتے نہیں تھکتے،لیکن اب وسیم اکرم پلس عثمان بزدار اسی منصب پر براجماں ہیں۔ان کی کارکردگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔پورے پنجاب کے لاءاینڈ آڈر اور دوسرے معاملات کو چھوڑیں،لاہور جسے باغوں کا شہر کہا جاتا ہے،کچرا کُنڈی کا سما پیش کر رہا ہے۔پی ٹی آئی کو ہمیشہ تکلیف رہی ہے کہ میاں شہباز شریف نے اپنے دور میں لاہور کو مثالی بنانے کے لئے تمام تر توجہ مرکوز کر دی تھی۔اب اسی مثالی شہر کو برباد کرنے کی ٹھانی گئی ہے۔سیکرٹری بلدیات ،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سب خاموشی سے تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
پاکستان بھر میں سالانہ 2 کروڑ ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے اور اس میں سالانہ 2.4فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔اس کچرے سے کی وجہ سے بھیلنے والی بیماریوں سے ہر سال 50لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔کراچی اور پشاور کی طرح اب لاہور جہاں صفائی کی مثالیں دی جاتی تھیں،وہ گندگی کے ڈھیروں کے مسائل کا شکار بنا دیا گیا ہے۔لاہور شہر کی 274 یونین کونسلز میں بڑے کچرے کے ڈھیروں کا راج ہے ۔ایسی تشویش ناک صورت حال میں انتظامیہ کی بے حسی ان کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

کچرے کا مسئلہ انتہائی خطرناک ہے ،جیسے انتہائی سنجیدگی سے لینا ہو گا۔اس سے نہ صرف شہر کی تصویر خراب ہوتی ہے، بل کہ انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے ۔ابھی تک ہسپتالوں کے کچرے کا معاملہ تسلی بخش نہیں ہوا تھا،کیوں کہ اس سے مختلف قسم کا کیمیائی،تابکاری اور عمومی فضلہ ہوتا ہے جو انسانی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔آپریشن تھیٹر میں استعمال ہونے والی سرنجیں،ڈرپس،خون کی بوتلیں اور دیگر آلات بری حد تک مناسب طریقے سے تلف نہیں کیے جاتے ۔یہ شہریوں کے لئے زہر قاتل ہیں ۔کچرا عموماً کھلی جگہوں پر پھینکا جاتا ہے،جو بیمایوں کے پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔اسی طرح فیکٹریوں کا فضلہ اور کوڑا کرکٹ اکثر و بیشتر خالی پلاٹس ،کھلے نالوں،سمندر اور دریاﺅں پر ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔صنعتی فضلہ کی مناسب تلفی نہ ہونے کی وجہ سے غیر صحت بخش کیمیکلز جاری ہوتے ہیں۔جو نہ صرف ماحول کو متاثر کرتی ہیں بل کہ لوگوں کی صحت خراب کرتی ہیں۔

 

حکمرانوں اور انتظامیہ سے کوئی اچھے کی امید کرنا بے وقوفی ہے،لیکن صحت مند معاشرہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اگر اس بات کو دیکھا جائے تو ہر فرد کو سوچنا ہوگا کہ شہر بھر میں جا بجا کچرے کے ڈھیر میں کسی حد تک قصور اس کا اپنا بھی ہے ۔ہم اپنے گھر کا کچرا کہیں بھی پھینک دیتے ہیں،جہاں وقت کزرنے کے ساتھ ساتھ کچرے کا ڈھیر جمع ہو جاتا ہے ،جو بعفن کا باعث بنتا ہے۔لاہور فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر ہے۔شہر کی فضائی آلودگی 233درجے پر ہے۔لاہور میں اسموگ معمول کی بات بن گئی ہے۔یہ سب ماحولیات کی خرابی کے باعث ہے ۔ریاست عوام کو بنیادی سہولیات تو دینا دور کی بات سانس لینے کا حق بھی چھین چکی ہے ۔
یہ تو ایک شہر میں گندگی کی صورت حال پیش آ رہی ہے۔پورا معاشرہ ذہنی طور پر کچرا بنتا جا رہا ہے ۔مہنگائی،بے روزگاری،قبضہ گروپ ،لینڈ مافیا،تجاوزات،بے ہنگم ٹریفک جیسے کئی اور مہلک امراض میں مبتلاہجوم ہے،جسے صرف دعوے، دعوے اور دعوے یا وعدے،وعدے اور وعدے،یقین دہانیاں دی جا رہی ہیں،لیکن یہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوئی ہیں۔لاہور میں کچرے کی بات لیں،اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے دعوے،وعدے اور یقین دہانیاں سامنے آئیں،مگر عمل درآمد کہیں نظر آیا۔انہیں صرف خود ہی لگائے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں کے تبادلے کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔کسی محکمے میں کارکردگی خراب ہو،اس کی بنیادی وجہ جانے بغیر وہاں عملے کے تبادلے کر دیئے جاتے ہیں۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی مکمل طور پر لا وارث ہو چکی ہے۔عثمان بزدار نے وسیم اجمل کو ایم ڈی لگایا،جن کی سربراہی میں ایل ایم ڈبلیوسی اچھے طریقے سے کام کر رہا تھا کہ نیب نے وسیم اجمل کو گرفتار کر لیا۔حکومت نے بار بار محکموں کے افسران کے تبادلے کر کے بیوروکریسی میں بے اعتمادی پیدا کر رکھی ہے۔انتظامیہ ذہنی انتشار کا شکار ہے،ایسے ماحول میں کارکردگی کیسے سامنے آئے گی۔جب افسران ”وقت ٹپاﺅ“کی پالیسی کو اپنائے گے تو انتظامی معاملات کیسے چلیں گے۔

ایک سچائی وہ ہوتی ہے ،جس کو تلاش کرنا پڑتا ہے،لیکن ایک سچ وہ ہوتا ہے،جیسے جھٹلانا نا ممکن ہوتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اور ان کے حواری نا اہل ہیں،ان سے حکومتی اور انتظامی معاملات چلانا تو دور کی بات،معاملات کو خراب کرنے پر مہارت رکھتے ہیں۔عمران خان نے قوم کو گمراہ کیا ہے اور بدستور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم نہایت اعتماد کے ساتھ بے اعتمادی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔وہ ملک میں انتشار چاہتے ہیں،تاکہ عوام بڑھتی مہنگائی،بیروزگاری اوردیگر بے شمار مسائل سے توجہ ہٹا کر غیر ضروری معاملات میں الجھا دیا جائے۔عوام کو تنگ دستی اور افلاس میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا،اس کی مثال یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔پیڑول کی قیمت میں دو سے تین روپے اضافے کا امکان ہے۔جس سے مہنگائی بڑھے گی۔ عوام اور اہل دانش با خوبی سمجھ رہے ہیں کہ معاملات خود خراب کئے جا رہے ہیں۔

 

بڑے محکموں کا آمنے سامنے آنا،عوام کو 72 سالوں میں بد ترین حکمران کے نرغے میں پھنسایا گیا ہے۔یہ ایک لمبی سازش ہے۔جس کے  تانے بانے انہیں اندرونی بیرونی طاقتوں سے ملتے ہیں جو پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں،کیوں کہ پاکستان ہمیشہ اپنے جغرافیائی وجہ سے بین القوامی سازشوں کا شکار ہوا ہے۔جہاں پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ لے سکتا تھا،اندرونی مفادپرست میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگوںکی وجہ سے نقصان اٹھاتے آ رہے ہیں اور ایسے لوگوں کی کمی نہیں بل کہ اضافہ ہو رہا ہے۔اگر حقیقت پسند ہو جائیں تو ایک لمبی قطار ہے جس پر آرٹیکل 6لگتا ہے۔
حکمران ”سفید جھوٹ“کا سہارا لینا چھوڑ کر حقیقت کی جانب لوٹ آئیں۔اس سچائی کا سامنا کریں کہ حکمرانوں سے حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔مخالفین کو گرفتار کر کے یا عوام کو بیوقوف بنا کر کتنے اور دن حکومت کر لیں گے،لیکن دن بدن ملک کمزور ہو رہا ہے۔مشکلات کا شکار ہے۔اب حکومت کو نوشتہ¿ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔