”اصل “ پاکستان کے قائد ، محمد علی جناح …… امیر محمد خان

آ ج پاکستان کے اصل خالق قائد اعظم محمد علی جناح کی یوم پیدائش ہے ، ہر سال کی طرح صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان،مختلف تنظیموں کی جانب سے روائتی بیان بازیاں، تقریبات کا اہتمام ہوگا اور دن ڈھلنے کے ساتھ ہی ہم جس قائدکی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے سارا دن گزارا ان بیانات کو ”فائل “کرتے ہوئے اپنی خرمستیوں میں لگ جائینگے ۔جس طرح قران کی صرف تلاوت کافی نہیں ، وہ اسلئے اتارا گیا کہ وہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو خالق کائنات نے اپنے بندو کو دیا ہے ، اس قران کو ماننے والے اسلام کو ماننے والوں تعداد دنیا میں کم نہیں بلکہ خرابی یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد ، اسے مشعل راہ بنانے کا عمل بلکل نہیں ہے اسلئے اسلام کو ماننے والوں کی تعداد دنیا میں بہت ہے مگر قران کے دئے ہوئے ضابطہ حیات کو بالائے طاق رکھ جاچکا ہے ۔پاکستان اور قائد اعظم کے حوالے سے بھی بات کچھ یوںہی ہے۔ قائد نے جو امور حکومت اور حکومت کے ذمہ داروں کیلئے جو مثالیں قائم کی ہیں وہ کتابی نہیں بلکہ اسے پہلے اپنے اوپر لاگو کرکرے ، اپنی زندگی کو اس میں ڈھال کر پھر وہ رہنماءاصول اپنی قوم اور ملک کے مستقبل کیلئے دئے ہیں ، مگر گزشتہ ستر سالوں سے ہماری قیادتیں اسکے برعکس جارہی ہیں اسلئے جہاں دنیا ترقی کررہی ہے۔

ہم تباہی کے دہانے پر ہیں اور اسٹیج پر اپنا کردار ادا کرکے اپنی ذات کیلئے قوانین اور زندگی کے اصول کچھ اور عوام کو اپنا غلام سمجھتے ہوئے انکے لئے کچھ اور جسکی وجہ سے ہم ایک قوم نہیں بن پارہے ۔یقین قائد کی روح تڑپتی ہوگی کہ میری قوم کس طرف جارہی ہے جہاں نہ قانون کی پاسداری ہے اور نہ کوئی مستقبل کی متعین راہ ۔متفقہ آئین ایک مذاق بن چکا ہے جسے میں کبھی کانٹ چھانٹ اپنے مفادات کی وجہ سے کی جاتی ہے اور اگر کوئی آئین کے کسی حصے پر عمل کر بیٹھے تو اسکا بھی تماشہ بنا دیا جاتاہے۔ آج کی اسمبلیوں میں مجھے سوفیصد یقین ہے کہ ننانوے فیصد وہ لوگ ہیں جنہیںپاکستان کے آئین کا الف بے بھی نہیں پتہ ۔ قائد اعظم نے ملک کے ہر ادارے کو آزادی سے اپنی اپنی ذمہ داریاںادا کرنے کی تلقین کی چونکہ امور مملکت کو سہل چلانے کا یہ ایک رائج طریقہ ہے مگر ہر اچھی چیز کو خراب کرنے کا ٹھیکہ ہم نے لیاہواہے اسلئے ہر ادارہ دوسرے کے امور میں ٹانگ اڑا تا ہے جو خرابی کا سبب بنتاہے ۔پاکستان اللہ کا عطا کردہ ایک تحفہ ہے جو حضرت قائداعظم ؒکی معرفت ہمیں ملا۔ اگر قائداعظم ؒنہ ہوتے تو پاکستان نہ بن پاتا۔ پاکستان کی بدولت ہی ہم آزاد ہیں۔ آزادی سب سے بڑی نعمت اور غلامی بالخصوص ہندو کی غلامی سب سے بڑی لعنت ہے۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو ہم ہندوﺅں کے غلام ہوتے اور اگر آپ ہندﺅ کی غلامی کا اندازہ لگانا چاہیں تو بھارت چکر لگاآئیں۔ وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہندو کی غلامی کس چیز کا نام ہے؟ہماری اپنی لیڈر شپ اور ہماری آزادی کے خلاف تاک لگائے دشمن نے قائد کے دو قومی نظیریہ پر وار کیا بنگلہ دیش بنوایا ،اورکہا کہ دو قومی نظریہ سمندر غرق کردیا ہے ، بھارت کی توسیع پسندہ ریاست نے قومیت کے حوالے سے قوانین لا کر میرے قائد محمد علی جناح کے دو قومی نظریہ کو جلا بخشی ہے ۔ کچھ لوگ قائداعظم ؒپر سیکولر ہونے کی تہمت لگاتے ہیں حالانکہ انہوں نے متعدد مواقع پر بڑی وضاحت سے یہ کہا تھا کہ”ہم جو مملکت بنانا چاہ رہے ہیں وہ ایک اسلامی، فلاحی و جمہوری مملکت ہو گی جس کا آئین قرآن و سنت پر مبنی ہوگا“نیز انہوں نے کہا ”ساتھ قرانی فرمان کی رووے اقلیتوں کو بھی مکمل آزادی ، عبادات کا عندیہ دیا ۔

 

انہوں نے اپنی بے مثال قیادت اور فراست سے برصغیر کے مختلف حصوں میں منتشر اور دل شکستہ مسلمانوں کو ایک قوم کی صورت یکجا کر دیا‘ اس کے لیے ایک سمت کا تعین کیا اور مادی وسائل سے تہی دامن ہونے کے باوجود اس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی فلاحی مملکت تخلیق کر دکھائی۔ امریکی مورخ سٹینلے والپرٹ نے بانی پاکستان کی تاریخ ساز شخصیت کی بڑی صحیح عکاسی کی ہے۔ اس کے مطابق ”بہت کم شخصیات تاریخ کے دھارے کو قابل ذکر انداز سے موڑتی ہیں‘اس سے بھی کم وہ افراد ہیں جو دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جسے ایک قومی ریاست تخلیق کرنے کا اعزاز حاصل ہویہ حقیقت بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو چکی ہے کہ متعصب ہندو اکثریت نے مسلم دشمنی کے باعث برصغیر کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرکے اور انہیں اپنے سے کمتر انسان کا درجہ دیکر خود دو قومی نظریے کی بنیاد رکھی تھی جو تحریک پاکستان کی بھی بنیاد بنی اور بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی‘ جس میں قائداعظمؒ کی قیادت میں ایک ایسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی تشکیل اور اس آزاد و خودمختار پاکستان کا تصور متعین ہوا‘ جس میں مسلمانوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی بلکہ انہیں اقتصادی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے والی ہندو بنیاءذہنیت اور انگریز کے ٹوڈی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے استحصال سے بھی نجات ملے گی اور اس خطہ کے مغلوب مسلمانوں کی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں قائم ہونیوالی اس مملکت خداداد میں خلقِ خدا کے راج کا تصور بھی عملی قالب میں ڈھل جائیگا۔ جہاں برصغیر کے مسلمانوں کے اقتصادی‘ معاشی استحصال اور انکی بدحالی نے ان کیلئے الگ مملکت کے حصول کی سوچ کو پروان چڑھایا‘ وہیں مذہبی‘ نظریاتی تفاوت بھی حصول پاکستان پر منتج ہوئی جس میں مسلمانانِ برصغیر کے قائدین علامہ اقبال اور قائداعظم محمدعلی جناح نے نہ صرف اپنی سوچ‘ مشن اور منشور کے تحت مسلمانوں کو منظم و متحرک کیا بلکہ انہیں ہر مرحلے پر اپنی الگ مملکت (پاکستان) کے مقاصد سے بھی آگاہ کرتے رہے۔

 

قائد اعظم قانون کی حکمرانی، معاشی عدل اور انسانی مساوات کے ساتھ ساتھ جاگیرداری نظام کا بھی خاتمہ چاہتے تھے، وہ ہر قسم کی کرپشن کو جڑ سے ا کھاڑ دینا چاہتے تھے۔ پاکستان کو درست سمت میں گامزن کرنے میں ہم اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں کہ قائد اعظم کے افکار کی حرز جاں بنالیں اور انکے نقشِ قدم پر چلیں۔قائد اعظم کی سالگرہ کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان کے افکار کی روشنی میں قومی مقاصد کی یاد دہانی اور ان کی تکمیل کا عہد کریں۔کرپشن کو اپنے لئے جائز اور دوسرے کیلئے شجر ممنوع نہ بنائیں ۔ہم کتنی بد قسمت قوم ہیں کہ ہم نے قائد کے پاکستان کا یہ حال کر دیا ہے۔اسی وجہ سے آدھا پاکستان ہم گنوا چکے ہیں۔باقی پاکستان کو بھی ختم کرنے کی پوری کوشش میں ہیں۔ یہ تو قدرت کی مہربانی ہے کہ باقیماندہ پاکستان قائم ہے۔ معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی حال باقی اداروں اور طاقتور لوگوں کا ہے۔ یہاں جتنا کوئی زیادہ طاقتور ہوتا ہے اُتنے ہی اُس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔ اُس کا ایک ہاتھ غریب اور بے بس عوام کی گردن پر ہوتا ہے اور دوسرا حکومت کی جیب میں۔یہاں بازار سے آٹا،گھی اور چینی کیوں غائب ہوجاتے ہیں۔ غریب کی ویلفیئر کے نام پر غریب کا خون کیوں نچوڑ لیا جاتا ہے غریب انصاف کے حصول کیلئے ساری عمر ٹھوکریں کھا کھا کر قبر میں کیوں اتر جاتے ہیں۔ غریبوں کی عزتیں گھروں سے کیوں اُٹھالی جاتی ہیں اور کہیں شنوائی تک نہیں ہوتی۔ کون لوگ ہیں جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں اور اُن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ یہی لوگ ہیں جو ہر طرح سے عوام کو لوٹتے ہیں اور قانون کے رکھوالے اُن کی مدد کیلئے اُن کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔یقیناً قائد اعظم نے پاکستان ان لوگوں کے لئے نہیں بنایا تھا۔