مشرق کی بیٹی بےنظیر بھٹو ….. نائمہ برڑو

نائمہ برڑو
سیکریٹری اطلاعات پی پی پی ڈسٹرکٹ ساﺅتھ شعبہ خواتین

ہر روز دنیا، میں انگنت افراد پیدا، ہوتے ہیں اور انگنت فانی دنیا سے فنا ہوتے ہیں مگر کچھ افراد اپنی سچائی خلوص، بشرنوع انسان کے لیے اپنی صفحہ ہستی مٹاکر تاریخ میں امر ہوتی ہیں تاریخ جیسے ہی ماضی رفتہ رفتہ بدل کر ہمارے سامنے حال بنکر ابھرتی ہے تو وہ ماضی ماضی نہیں لگتی گویاکہ وہ حال اور مستقبل سا لگتا ہے ۔بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی بسرکررہے ہیں جہاں دیانت اور صلاحیت کو بطور نقص شمار کرتے ہیں اللہ تعالی نے جنت کسی بھی ماں کی. قدموں تلے رکھی ہے اور یہ ہمارا سیاسی اایمان کی پختگی ہے کہ سیاست کی جنت گڑھی خدابخش میں مدفن سیاست کے بادشاہ شہید ذوالفقار، علی بھٹو اور شہید، محترمہ بےنظیر بھٹو کی قدموں میں رکھی ہے جب تک ہم زمین کی خوشبوسے واقف نہیں ہوتے تب تک سیاست کے نظریات اصول تاریخ سے باہر رہتی ہیں اس تاریخ سے تونقاب پوش عالمی سامراجی طاقتیں بھی منکر نہیں کہااس ملک عزیز میں سیاست کی تاریخ اصول افکار نظریات بھٹو سے شروع ہوکر عکس، بےنظیر بھٹو کی محتاج رہی ہیں اس سے پہلے تمام سیاسی افکار نظریات بھیڑ، بکریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹکتی رہی ہیں۔

اسی نظریات کے کاربند عظیم باپ کی عظیم بیٹی پنکی بےنظیر بھٹو نے اپنے والد کا، لاشہ اٹھاکر بھی اسکی حفاظت کرتی ہیں بھائیوں کے جنازے پڑھتے دیکھ کر بھی ایک فکر سوچ کو آگے پہونچانے کا عزم لیے بےنظیر بھٹو بلاخوف خطر منزل پر، نکلتی ہیں اس، منزل کی مقصد اس، ملک کی عوام کی پسے ہوئے طبقات کی خون پسینہ چوسنے والے جاگیر رئیس کمدار سرداران سے بغاوت کااعلان مزدور، کو اسکا، پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری کا حق دینا، ہاری کسان طلباءنوجوانوں کو انکی بنیادی سہولیات سے آراستگی اولین جدوجہد، ترجیحات تھیں بدقسمتی سے اس ملک میں کس، کس کی جان کو عملی جدوجہد کے بعد خطرہ درپیش نہیں رہا، کہ 2007میں شہید بےنظیر بھٹو کو کراچی کے سانحہ کارساز سے پہلے خطرات سے مطلع نہیں کیاگیا، ہو اس سانحہ میں شہید بے نظیر بھٹو خوش قسمت تھیں کہ وہ بال بال بچ گئیں مگر اس واقعے میں دوسو، سے زائد جیالے جانثاران بے نظیر بھٹو کے لاشیں اٹھانےپڑے مگر بے نظیر بھٹو کی بہادری صبر و استقامت میں لرزش کہاں کیسے کیوں کر آتی جس نے اس ملک کی خاطر ایک وعدہ کرچکی تھیں کہ انکا جینا، مرنا اس محکوم طبقات کےساتھ ہے جو سسک سسک کر اپنے حقوق کےلیے بےنظیر بھٹو کو آخری کرن امید سمجھتے ہوں 27 دسمبر پاکستان کی تاریخ میں وہ سیاہ ترین دن غروب آفتاب کی شام تھی جس نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ظالم صیادوں نے عالم اسلام کی پہلی وزیراعظم خواتین بےنظیر بھٹو کی طاق، میں بیٹھے منتظر کھڑے تھے جنہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق بےنظیر بھٹو کو شہید کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس، ملک کی بہادر، بیٹی ایک بہن ایک ماں نے اس، ملک کےلیے جان کی پرواہ تک نہیں کیا، بلکہ آمریت کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دےکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئیں تاریخ نے ایک بار، تاریخ دہرائی کہ عوام کی بہادر بیٹی نے جس وقت آمر کو اپنی جان کےلیے خطرہ قرار دے چکی تھی گزشتہ دن اس آمر مشرف کو عدالت نے جو سزا سنائی ہے مرگ بستر پر لاچار اسوقت کے آمر کی روح بھی تڑپی ہوگی اور عبرتناک فیصلے نے ثابت کردیا کہ بےنظیر بھٹو کی شہادت سے جمہوریت اس، ملک میں میسر ہوئی اور اسی جمہوریت کی تسلسل سے جمہوریت پسند عدالتوں کا بنیاد بھی وجود، میں آیا، جنہوں نے سابق آمر مشرف کی لاش ڈی چوک پر لٹکانے کا حکم نامہ جاری کرچکا ہے تاریخ گواہ ہے کہ شہید بےنظیر بھٹو نے موت کے ڈرسے اصولوں پر نہ سودا بازی کیا اور نہ ہی اس خاک وطن سے باہر دیار غیر میں پرسکون زندگی کو اہمیت دی اور نہ وہاں موت کو اہمیت دی بلکہ انہوں نے عوام سے کیاہوا وعدہ انکی شہادت عوام کے درمیان ہوگی اور 27دسمبر کو وہ لیاقت باغ میں ثابت کردیا کہ وہ عوام سے الگ مر نہیں سکتیں وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ انکا جینا مرنا عوام کےساتھ ہے انکو عوام سے کوئی جدا نہیں کرسکتی وہ سانحہ کارساز سے پہلے بھی جانتی تھی کہ چند ریٹائرڈ اور حاضر سروس جنرل اور چند انتہا پسند دہشتگرد انکے خون کے پیاسے ہیں انہیں ہرروز رپورٹ دی جاتی تھی کہ انکی جان کو خطرہ ہے جلسے جلوسوں سے دور رہیں وہ چاہتی تو بند کمروں میں اجلاسوں کو اہمیت دے سکتی تھی مگر جس نے طویل جلاوطنی میں جس طرح سرزمین خاک کےلیے تشنہ نگاھ تھیں اسی طرح وہ عوام سے ملے بغیر بھی دل کی ارمانیں تشنہ نظر تھی بدقسمتی سے وقت جنرل مشرف نے کوئی خاص سیکورٹی فراہم تک نہیں کیا بلکہ مشرف آمریت میں تمام صوبوں میں خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی آئے۔

 

روز آمرانہ مظالم یکےبعد دیگرے ہوتے آرہے تھے مشرف کے ظالمانہ فیصلوں سے بلوچستان میں اسوقت شورش نفرت کی آگ بھڑک اٹھی جب انہوں نے وہاں کے قوم پرست محب وطن بلوچستان کے عظیم رہنما سابق گورنر سابق وزیراعلیٰ نواب بگٹی کو پہاڑوں میں قتل کرواکر وہی آمرانہ رویہ انکے لواحقین کے ساتھ اپنایا گیا انکی میت میں انکے لواحقین کے بجائے ملا ملوک چند غیر فیملی ممبران کی موجودگی میں تابوت پر تالا لگائے ہوئے جنازہ پڑھایاگیا جسطرح جنرل ضیاءنے شہید ذوالفقار علی بھٹو کےساتھ جو رویہ نارواسلوک اپنایا بےنظیر بھٹو جب پاکستان پہونچی تو اسوقت امن وامان کی صورتحال بدترین مقام پر کھڑی تھی وہ ایک جزبے کےساتھ ولولے کےساتھ عوام کو ایک ظالم جابر آمر ڈکٹیٹر سے نجات دینا چاہتی تھی جس نے مکمل نوسال سے اس ملک کے عوام کا بزور طاقت استحصال کرکے قانونی جمہوری آذادی سلب کرچکا تھا عوام کو خودکش حملوں نام نہاد مزہبی انتہا پسندی سے ڈراکر رکھاتھا اور جھوٹے ریفرنڈم کےزریعے اسمبلیوں سے خود کو منتخب کرواکر شاہی بادشاہی سے مسلط تھا، مشرف نے اپنی اقتدار کو مزید طول دینے کی غرض سے ملک میں انتہا پسندی دہشتگردی کا جوجن بوتل سے نکالا تھا شہید بے نظیر بھٹو انکو واپس بوتل میں ڈالنے کےلیے میدان میں آچکی تھی وہ اس ملک کی امن کی فضا برقرار رکھنے کو اپنی شہادت سے نوشتہ تاریخ کرچکے تھے کہ اب اگر اس کےلیے جان کی بازی لگاکر بھی پرامن پرسکون پاکستان کی تکمیلیت ہر صورت کرنی ہے مگر انہیں عالمی سامراجی اندرونی بیرونی ترقی ملکی عوامی مخالف دشمن سامراجی طاقتوں نے گھاٹ لگاکر عوام سے دور رکھنے کے منصوبے بناچکے تھے اور بالآخر وہ نقاب پوش ہاتھوں میں دستانے پہنے ظالم گمنام قاتلوں نے 27دسمبر کو انہیں لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کرکے بھٹو کی بیٹی بنت مشرق کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر انکو روحانی طور ہم سے کوئی الگ نہیں کرسکا۔

آج بھی ہم کہتے ہیں چاروں صوبوں کی زنجیر بلاول بھٹو بےنظیر آج بھی انکی شہادت کےدن قریب آتے ہی ہرسال دسمبر کو اس ملک کے عوام بطور قاتل مہینہ سمجھ کر مکمل مہینہ یوم سیاہ کےطور مناتے ہیں آج بھی انکی سوچ فکر اس ملک کے عوام کے زہنوں میں زندہ ہے اور انکی سوچ وژن کی علم انکے فرزند لخت جگر بلاول بھٹو زرداری آصفہ بختاور بھٹو نے بلند کیا ہوا ہے بےنظیر بھٹو کی عکس بلاول بھٹو کی صورت میں اس ملک کو ملا ہے اس سال شہید بے نظیر کی برسی قاتلوں کے شہر سازشوں کی بستی راولپنڈی میں مناکر ملک دشمن قوتوں کو یقین دلانا ہے بھٹو آج بھی زندھ ہے کل بھی زندہ تھا شہید بےنظیر بھٹو کی یاد اب اس ملک کے عوام مزدور کسان یتیم محکوم طبقات کے لئے دائرہ بن چکی ہے جسکے گرد سات جنموں کا سفرہرروپ میں ان سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوتی ہے ہم پیپلز پارٹی خواتین کراچی کے جیالیاں تجدید عہد وفا کرتے ہیں کہ اپنی پیاری بہن عظیم قائد کے بیٹے چیرمین بلاول بھٹو زرداری انکے ہمشیرہ بی بی بختاور بھٹو زرداری آصفہ بھٹو زرداری کے ساتھ بھی وہی تجدید عہد وفا کرتے ہیں کہ جسطرح پارٹی کی فعالیت کےلیے شہید بےنظیر بھٹو کے ساتھ انکی قیادت میں جدوجہد کرتی آرہی تھیں اب انکے اولادوں سے بھی وہی وفانبھاکر بھٹو عزم کےساتھ سیاسی جدوجہد کو آبحیات پلانےکےلیے عوامی خدمت کو عوامی طاقت کو فلسفہ بےنظیر بھٹو کو چشمہ سمجھکر اس چشمے کو مرکز بناکر نیک نیتی سے ایک دوسرے کو پارٹی کا اثاثہ سمجھکر بلاول بھٹو زرداری کا مشکل وقت میں ساتھ نبھانی ہوگی مفاہمت کی سیاست سے خون بےنظیر بھٹو کا حساب لیں گے ۔