وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کھلی کچہریاں جاری رکھنے کا اعلان کردیا

کراچی کو اسٹریٹ کرائم سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں پولیس کو اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا،کابینہ اجلاس میں ہدایت
  کراچی  :  وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے بھر میں کھلی کچہریاں جاری رکھنے کا اعلان کردیا آئندہ کھلی کچہریاں دو حصوں میں کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان، پہلے دن ضلع کے ایک حصہ میں جب کہ اگلے روز ضلع کے دوسرے حصے میں کھلی کچہری منعقد کی جائے گی، ہر ضلع میں دو وزراءکوبھیجیں گے، کابینہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ کا بڑا فیصلہ تمام وزراءکو اپنی رپورٹس جمع کروانے کی ہدایت کر دی گئی،سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان اور مشیر ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میںمنعقد ہوا جس میں چیف سیکریٹری سندھ، صوبائی وزراء، مشیر اور متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں امن و امان پر بریفنگ، سندھ سیلز ٹیکس کا ترقیاتی منصوبوں پر اطلاق، وزیراعظم کا تعمیری شعبے کی تجدید کی تجویز، تھر کول کیلئے پانی کے استعمال کا معاہدہ، پانی کے معاہدے کیلئے سپرا رولز سے استثنیٰ اور دیگر امور زیر بحث آئے،

بیرسٹر مرتضی وہاب نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر صوبائی وزراءنے ہر ضلع میں کھلی کچہریاں منعقد کی کھلی کچہریوں سے متعلق کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ انہوں نے میرپورخاص میں کھلی کچہری کی جہا ں واٹر سپلائی لائن اور امن امان سے متعلق مسائل سامنے آئے، امتیاز شیخ نے بتایا کہ سکھر میں تجاوزات کے خلاف لوگوں نے بات کی اور عوام نے شکایت کی کہ ان کے گھر بلڈوز کیے گئے ہیں جو کہ تکلیف دہ بات ہے تاہم عوام کو سمجھایا گیا کہ معززعدالت کی ہدایت پر اینٹی انکروچمنٹ مہم چل رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں نے اپنی آبادکاری کیلئے درخواست کی ہے، سکھر میں امن امان، اساتذہ کی ریگولرائزیشن اور آبپاشی کے مسائل کے حوالے سے شکایات تھیں،جب کہ شکارپور میں امن امان سے متعلق سخت شکایات ملی ہے، جس میں ماروائے عدالت قتل، اغوا برائے تاوان، موٹرسائیکل چھیننا اور قبائلی جھگڑوں میں اضافے کی شکایات شامل ہیں ،نثار کھوڑونے بتایا کہ انہوں نے حیدر آباد میں کھلی کچہری کی جہا ں سب سے بڑا مسئلہ نکاسی آب اور صفائی کا بتایاگیاہے3500 سینیٹری ورکرز میں سے 50 فیصد کام کر رہے ہیں،

 

حکومت کثیر فنڈ دے رہی ہے لیکن ان کا استعمال سہی نہیں ہو رہا، حیدرآباد میں تجاوزات ،امن وامان اور معذور افراد کو نوکریاں نہ ملنے کی بھی شکایات سامنے آئیں،مکیش کمار چاﺅلہ نے جامشورو میں کھلی کچہری کی اور ڈاکٹروں کی کمی کے حوالے سے شکایات تھیں جب کہ پی ایچ ای اور موٹر سائیکل اسنیچنگ کی بھی شکایات کی گئیں،صوبائی مشیر نے مزید بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ افسران کو ہدایت کی جائے کہ وہ اپنے اپنے ا ضلاع میں عوام کے مسائل حل کریں،مرتضی وہاب نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے سندھ کابینہ کو امن و امان سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسٹریٹ کرائم پرکافی حد تک قابو پایا گیا ہے تاہم متاثرہ عوام اسٹریٹ کرائم کی شکایات کے لیے آگے نہیں آتے اوراپنا بیان ریکارڈ نہیں کرواتے یہ مسئلہ حل کرنا ہوگانہیں تو کرمنلز کے حوصلے اور بلند ہوں گے انہوں نے بتایا کہ گذشتہ تین ماہ میں منشیات میں ملوث 3000 افراد کو پکڑا گیا کچھ جیل میں ہیں اور کچھ ایدھی ہوم بھیجے ہیں اس سے اسٹریٹ کرائم میں کمی آ ئی ہے۔

 

نارکوٹکس میں 1200 چالان کئے ہیں بریفنگ کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ کو کیا کرنا ہے، چاہے آپ سمری کورٹ بنائیں یا دیگر اقدامات کریں مجھے شہر کراچی اسٹریٹ کرائم سے پاک چاہئے پولیس کو شہریوں میں اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے منشیات میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کو سراہا اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ہدایت دی کہ اگر حکومت کا کوئی بھی بندہ آپ کو کسی کے لئے سفارش کرے تو آپ اس کی نہیں مانیںمجھے امن امان کی صورتحال خاص طور پر اسٹریٹ کرائم ختم کر کے دیں، انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لوگ پولیس کے پاس جانے سے گھبرانا نہیں ہے ہم پولیس کے منفی کام کی نشاندہی کریں گے مگرکسی کے کہے پر ان سازشوں اور مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے یہ ہی پولیس ہے جس نے کراچی کو امن دیا ہے2014میں شہر میں سیف سٹی نہیں تھا تب بھی امن قائم کیا ہے سیف سٹی نہیں تو کام نہیں کرپارہے کا یہ موقف غلط ہے آئی جی کے تین نام دینے کی بات بلکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ اجلاس میں سندھ سیلز ٹیکس کا ترقیاتی منصوبوں پر اطلاق کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیااور پی اینڈ ڈی کے ممبر فتاح تنیو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 18-2017 اور 19-2018 میں جو بھی ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے تھے ان پر 2 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہو رہا تھا جب کہ 20-2019 میں وفاقی حکومت کی جو بھی ترقیاتی اسکیمز شروع ہوئی ہیں ان پر 5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے 18-2017 اور 19-2018 میں 648 اسکیمز جاری تھیں جن کی مالیت 245.250 ملین روپے تھی اگر اس حساب سے سندھ سیلز ٹیکس لگایا جائے تو 5 بلین روپے سے زیادہ کی ریکوری ہوگی ان اسکیمز کو بناتے وقت سیلز ٹیکس کو سامنے نہیں رکھا گیا تھا، 20-2019 میں 852 اسکیمز 173.530 ملین روپے کی لاگت سے شروع کی گئی ہیں اور ان پر اگر سیلز ٹیکس لگایاجائے تو 8.65 بلین روپے کی ریکوری ہوگی ایس بی آر چیئرمین نے کہا کہ پنجاب حکومت بھی اپنا ٹیکس کلیکشن کرتی ہے چیئرپرسن پی اینڈ ڈی نے کہا کہ یہ لیوی ایک فیصد کی جائے تاکہ اس کے اطلاق سے زیادہ اثر نہ پڑے جس پرچیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں چیئرمین ایس بی آر، آبپاشی، ورکس کے سیکریٹریز شامل ہونگے جو سندھ سیلز ٹیکس کے ریٹ طے کر کے نئے سال سے ترقیاتی اسکیموں پر نافذ کیے جائیں گے جون 2020 تک سندھ سیلز ٹیکس معطل رہے گا اور نئے مالی سال سے اس کا اطلاق ہو گا،

مرتضی وہاب نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعظم کے تعمیری شعبے کی تجدید کی تجویزکے حوالے سے چیئرمین ایس بی آر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے پاس دو میٹنگ ہوچکی ہیں تجاویز تھی کہ صوبائی سیلز ٹیکس سے تعمیراتی خدمات کو مستثنیٰ کیا جائے پنجاب اور خیبرپختون خواہ اس پر راضی تھے جبکہ سندھ اور بلوچستان نے تحفظات کا اظہار کیا دوسری تجویز یہ تھی کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کو صوبائی سیلز ٹیکس سے مستثنی کیا جائے جس پر بھی سندھ اور بلوچستان رضامند نہیں ہوئے سندھ حکومت نے کم قیمت ہاﺅسنگ اسکیم کرائی اور وہ صوبائی ہو یا وفاقی سیلز ٹیکس آن سروسز سے مستثنیٰ کر دی گئی یہ گھر 100 اسکوائر گز اور 50 اسکوائر فٹ کے ہونگے، انہوں نے بتایا کہ اجلاس میںپانی کے استعمال کا معاہدہ کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پانی کے استعمال کا یہ معاہدہ سندھ حکومت اور تھر کول بلاک ون پاور جنرل کمپنی لمیٹڈ کے درمیان ہوگا 52 پیسہ فی گیلن پانی کا ریٹ ہوگا جو آگے چل کر کم ہو جائے گا، جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ توانائی کو ٹرانزیشن ایڈوائزر مقرر کرنے کی ہدایت دی اور ٹیرف کے تعین کے لیے نیپرا کے قواعدکو اپنانے کی بھی تجویزدی گئی اوروزیر توانائی نے کابینہ سے درخواست کی کہ اسے منظور کیا جائے تاکہ متعلقہ کمپنیز دسمبر 2020 تک اپنی فنانشل کلاز طے کرسکیں جس پر کابینہ نے پانی کے استعمال کے معاہدے کی توثیق کردی اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 17-2016ءمیں کاٹھور میں 50 ایکڑ پر ایک پام آئل پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا اور ملائشیا کے ماہرین کی رہنمائی میں پام آئل کے درخت لگائے گئے تھے اب یہ درخت اپنی بھرپور پیداوار دینے کے لیے تیار ہیں اس لیے سندھ کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پام آئل نکالنے کی منی مل / چکی لگانے کی اجازت دی جائے اس مل کی مالیت 5.5 ملین روپے ہے، اس مل کی گنجائش 2 ٹن یومیہ ہوگی جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ زبردست منصوبہ ہے اور منی مل لگانے سے آئل برآمد کا بل کم ہوگا پاکستان 3 بلین روپے کا پام آئل برآمدکرنے پر خرچہ کرتا ہے اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا ہے تو ساتھ میں جنگلات کی 2000 ایکڑ کی زمین پر پام آئل لگانے کی اجازت دی جائےگی۔

کابینہ نے منی پام آئل ایکسٹرکشن مل کی خریداری کی منظوری اور خریداری کو ایس پی پی آر اے رولز سے چھوٹ بھی دیدی گئی بیرسٹر مرتضی وہاب نے بتایا کہ سیکریٹری ثقافت نے سندھی لینگیوئج اتھارٹی رولز 2019ءکا ائٹم کابینہ میں پیش کیا اور بتایا گیا کہ اتھارٹی کا چیئرمین سندھی لینگویج میں پی ایچ ڈی ہوگااس کی مدت ملازمت تین سال ہوگی چیئرمین کی تنخواہ پیکج گریڈ 21 کے برابر ہوگی چیئرمین کی عمر 45 سے 65 سال کی ہوگی جس پر کابینہ نے سندھی لینگویج اتھارٹی رولز کی منظوری دیدی اجلاس میں غیر زرعی زمین کی الاٹمنٹ کی شرائط میں تبدیلی پر تبادلہ خیال کیا گیااور ریزرویشن کمیٹی کی مختلف شقوں میں تبدلی کی منظوری دی گئی اب چیف سیکریٹری، ایس ایم بی آر، سیکریٹری ایل یو، سیکریٹری فنانس، سیکریٹری انویسٹمنٹ، متعلقہ سیکریٹری، کمشنر اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز ریزرویشن کمیٹی میں شامل ہونگے اجلاس میں ایف بی آر اور سندھ بورڈ آف ریونیو کی اربن ویلیویشن جدولوں کے مابین فرق پر تبادلہءخیال کیا گیااورکراچی، حیدرآباد اور سکھر کی اربن ویلویشن ٹیبل کو ایف آر بی کے ٹیبل کے برابر کرنے کی تجویز دی گئی سندھ کے تمام شہروں کے سروے کرکے مختلف زمرے کا جائزہ لیاجائے اجلاس میں بتایا گیا کہ گذشتہ کابینہ اجلاس میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں وزیر ریونیو چیئرمین اور وزیر بلدیات اور وزیر توانائی کمیٹی ممبر تھے کابینہ نے اس امور کو نئے سال کے بجٹ میں دیکھنے کی منظوری دی کابینہ اجلاس میں کمپیوٹر/ ڈیٹا انٹری آپریٹر/ ڈیٹا پروسیسنگ آپریٹر کے عہدوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ کابینہ نے کمپیوٹر آپریٹرز کے عہدوں کو اپ گریڈیشن کیلئے وزیر صحت ڈاکٹر عذرہ پیچوہو کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی کمیٹی نے بھی یہ عہدے اپ گریڈ کرنے کی تجویز دی ہے کمپویٹر آپریٹر گریڈ بی ایس 7/8 سے اپ گریڈ ہو کر گریڈ 12 میں ہو جائیں گے کمپیوٹر آپریٹر / ڈیٹا انٹری آپریٹر گریڈ بی ایس 12/11 سے اپ گریڈ ہوکر گریڈ 16 میں چلے جائیں گے کمپیوٹر آپریٹر / ڈیٹا پروسیسنگ آفیسرز گریڈ بی ایس 16 سے اپ گریڈ ہوکر گریڈ 17 میں چلے جائیں گے ان عہدوں کی اہلیت اور تربیت کا بھی تعین کیا گیا ہے جس کے بعد صوبائی کابینہ نے کمپیوٹر آپریٹرز کے عہدوں کو اپ گریڈ کر نے کی منظوری دے دی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گریڈ ایک سے 4 کی نئی بھرتیاں کابینہ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے ذریعے ہونگی نئی بھرتیاں مقامی بنیاد پر ہونگی اجلاس میں گریڈ ایک سے 4 کی نئی بھرتیاں جلد شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیاجب کہ وزیراعلیٰ سندھ نے سہولت کے مطابق گریڈ 1 سے 4 تک کے عہدوں کی لسٹ فوری طور پر چیف سیکریٹری کے پاس جمع کرنے کی ہدایت دیدی اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گریڈ 5 سے 15 پر بھرتیوں کیلئے آئی بی اے سکھر نے تین تجاویز دیں ہیں ان تجاویز کے تحت پوزیشن وائز ٹیسٹ کا نصاب بنایا جائے گا۔

 

ملازمت کے لیے ٹیسٹ کمپیوٹر بیسڈ ہوگا جب کہ گریڈ5 سے 15 تک کیلئے علیحدہ علیحدہ ٹیسٹ ہوں گے گریڈ 5 سے 10 کا اسکریننگ ٹیسٹ ہوگا میٹرک، انٹر اور گریجویشن کی بنیاد پر ملازمت کے لیے الگ ٹیسٹ ہونگے کوئی بھی امیدوار تینوں ٹیسٹ کیلئے بھی درخواست دے سکتا ہے ٹیسٹ پاس کرنے کیلئے کم سے کم 50 فیصد مارکس لینا ضروری ہے انٹرویو میں تحریر کے جتنے زیادہ مارکس ہونگے ان کی اہمیت ہوگی ٹیسٹ تین سال تک ویلڈ ہوگا اجلاس میں کابینہ نے ان تمام شرائط کی منظوری دیدی،اجلاس میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سندھ کینال کے ساتھ تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے اس وقت سکھر، بدین گھوٹکی و دیگر اضلاع میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوچکے ہیںاس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سرد موسم میں لوگوں کو بے گھر کرنا تکلیف دہ کام ہے جن لوگوں کو بے گھر کریں گے وہ کہیں اور جاکر قبضہ کرکے گھر بنائیں گے ہمیںعدالتوں کا بے حد احترام ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ وہ عدالتوں سے مودبانہ درخواست کریں کہ گھر مسمارکرنے سے پہلے متبادل انتظام کرنے کی اجازت دی جائے ہم گھر مسمار کرنے سے پہلے متبادل گھروں کا انتظام کریں گے وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی ہدایت دی کہ جو افراد بے گھر ہوئے ہیں انکو خیمے، کمبل دیئے جائیں جب کہ چیف سیکریٹری کوضلعی سطح پر بے گھر خاندانوں کا سروے کرانے کی ہدایت بھی دیں گئی اجلاس میں چیف سیکریٹری، وزیر روینیو، کچی آبادی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی یہ کمیٹی بے گھر ہونے والے افراد کے نقصانات کا جائزہ لے گی، کابینہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ کو کل اسلام آباد میں ہونے والے سی سی ائی اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک سال کے بعد وزیراعظم صاحب نے یہ اجلاس بلایا تھاجس میں 3 آئٹم سندھ سے متعلق تھے ہم چاہتے تھے کہ پانی کی تقسیم معاہدے کے مطابق ہواٹارنی جنرل کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی تھی اوراٹارنی جنرل نے اپنی رپورٹ سندھ کے موقف کے تحت پیش کی تھی رپورٹ کے مطابق ہسٹاریکل یوز غلط ہے، سب نے اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کی پنجاب نے اعتراض کیا کہ انکا 8 فیصد پانی کم ہوجائے گا، ایک ماہ کے لیے فیصلہ مو ¿خر کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ ہوا ہے اب اٹارنی جنرل کے تحت ایک کمیٹی بنائی جائے گی اٹارنی جنرل کی رپورٹ سی سی آئی میں زیر بحث ہوگی پنجاب کا کہنا تھا کہ اسکا نقصان ہوجائے گامیں نے کہا کہ ہمارا 28 سال سے نقصان ہورہا ہے، وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ سی سی آئی اجلاس میں سندھ سے متعلق دوسرا معاملہ سے متعلق کابینہ کو آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب سی جے لنک کینال پر پاور پلانٹ لگانا چاہتا ہے ارسا نے این او سی دے دی تھی۔

 

وزیراعظم نے بھی کہا کہ نان پرنیئل پر پاور پلانٹ لگاسکتے ہیں اس کینال میں صرف 4 ماہ پانی ہوتا ہے، بعد میں کیا منصوبہ بند رہے گایہ کینال تب کھلے گا جب چناب اور جہلم میں پانی کی قلت ہوگی وزیراعلیٰ سندھ کے مطالبے پر کہ اس کو فی الحال منسوخ کیا جائے جوکہ منظور کرلیا گیا ہے تیسرا معاملہ واپڈا چیئرمین کے حوالے سے تھا کہ اس کی قابلیت ہونی چاہیے واپڈا چیئرمین کا تقررصوبوں سے روٹیشن کے مطابق ہونا چاہیے جس پرسی سی آئی نے فیصلہ کیاکہ واپڈا ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی اور چیئرمین روٹیشن وائز ہوگا ۔واپڈا کا سی ای او بھی پروفیشنل ہوگاوزیر اعلیٰ نے مزیدبتایا کہ سندھ کے 16 ارب ایٹ سورس کے کاٹے گئے ہیں۔ میں نے وزیراعظم کو بتایا کہ 2018 میں سی سی آئی میں اس مسئلے کو اٹھایا تھامجوزہ سی سی آئی میں فیصلہ ہوا تھاکہ وزیر خزانہ سندھ کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ حل کریں گے ہم نے جب ایف آئی آر کاٹی تو ہمیں فنڈز واپس کیے گئے وزیراعظم نے ڈاکٹر حفیظ شیخ کو کہا ہے کہ سندھ کے پیسے واپس کریں،آرٹیکل 158 پر میں نے کہا کہ آئین کہہ رہا ہے کہ جہاں سے گیس اور آئل نکلے گا وہاں کے عوام کا پہلا حق ہے اولین ترجیح پورے ملک کے عوام ہیں۔

آپس میں آئین کا خیال رکھیںسی سی آئی میں سندھ کے موقف کو تسلیم کیا گیااٹارنی جنرل پالیسی پر محکمہ انرجی سندھ نے متبادل توانائی پالیسی پر13 اعتراضات اٹھائے وزیراعظم نے وفاقی وزارت کو ہدایت کی کہ وہ پہلے صوبوں سے بات کرے پھر اسے سی سی آئی میں لے کرآئیںایل این جی پالیسی پر کہا گیا کہ پالیسی سی سی آئی میں لاےی جائے گی صحت کے ورٹیکل پروگرامز کے حوالے سے کہا گیا کہ 18ویں ترمیم کے موقع پر یہ فیصلہ ہوا کہ ورٹیکل پروگرام کی فنڈنگ تب تک وفاقی حکومت کرے گی جب تک این ایف سی آئے لیکن وفاقی حکومت نے فنڈنگ 2011 سے روکی ہوئی ہے وزیراعلیٰ سندھ نے یہ فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی ہے،بعد اذاں وزیراعلیٰ سندھ نے نیو سیکریٹریٹ کے گراؤنڈ فلور پر پیپلزہال کا افتتاح کیاافتتاح میں تمام کابینہ اراکین نے شرکت کی۔