پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب : بے نظیر بھٹو برسی

محمد خالد رانا ، جنرل سیکریٹری
پی پی پی مڈل ایسٹ

پا کستان پیپلز پارٹی مڈل ایسٹ کے جنرل سکریڑی محمد خالد رانا نے کہا ہے کہ ایک عظیم قائد کی بیٹی نے باپ کے جھنڈے کو تھام لیا ہے اور باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم نامزد ہوئی اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں محترمہ بےنظیر بھٹو پر بے بنیاد مقدمات بنائے گئے پارٹی کے لیے کام کرنے والے عظیم قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا لیکن تاریخ نے دیکھا جو بھٹو کا ہوا وہ بھٹو کا رہا اتحاد بنتے گئے ٹوٹتے گے انتخابی نشانات تبدیل ہوتے گئے لیکن شہید قائد کا نشان تلوار اور تیر کبھی نہیں بدلہ جو جماعتیں اپنی ثقافت اور نشان کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کس طرح کریں گی امریت اور مفاد پرست ٹولے نے قائد کے خاندان کو ختم کردیا لیکن قائد عوام کی محبت وہ غریب لوگوں کے دل سے ختم نہیں کر سکے بے نظیر بھٹو کی برسی میں لاکھوں کی تعداد میں کارکن اور رہنما شرکت کریں گے اور مخالفین کی نیدیں حرام کردیں گے محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں کاش آج محترمہ بےنظیر بھٹو زندہ ہوتی اور ایٹمی پاکستان دنیا کا ایک مضبوط ترین ملک ہوتا ہم کل بھی بھٹو والے تھے آج بھی بھٹو والے ہیں آج ان کا شاگرد بلاول بھٹو چیئرمین ہے بلاول کے ہاتھ مضبوط کرنا ہر پیپلز پارٹی کے رکن کا فرض ہے۔

سردار محمد رزاق خان( جنرل سکریڑی)
پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب 

پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کے جنرل سکریڑی سردار محمد رزاق خان بے کہا کہ آج محترمہ بےنظیر بھٹو سابق وزیر اعظم کی برسی ہے اصولاً اور اخلاقاً جو شخص اس دنیا سے گزر گیا ہے اور جس کا معاملہ اب خدا کی بارگاہ میں ہے اس کے بارے میں کسی قسم کے خیال آرائی اور نکتہ چینی مناسب نہیں سمجھی جاتی ہے اس کے لیے دعا کی جاتی ہے اللہ تعالی مرحومہ کو اپنی رحمت میں جگہ دے لیکن سیاسی شخصیات بالعموم اپنی جسمانی موت کے بعد زندہ رہتی ہیں ان کی سوچ ان کا کام ان کے حامی ان کے مخالف زندہ ہوتے ہیں محترمہ بےنظیر بھٹو عالم اسلام کی پہلی وزیراعظم تھیں وہ ایک تاریخ ساز شخصیت تھی اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی شخصیت رہیں گی بے نظیر بھٹو نے سماجی اور معاشی شعور کے حوالے سے غریب مظلوم کو بالادست طبقات اور سیاسی اجارہ دار کے خلاف ایسی فکر دی مارشل لاؤں کی سختی اور سیاسی آمریتوں کا شکنجہ بھی بے نظیر کے دل سے ختم نہیں کر سکا آمریت کے خلاف لڑائی ہوئی جموریت کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے لیاقت باغ میں گولی مار کر ان کو شہید کردیا گیا لیکن آج تک ذوالفقارعلی بھٹو کی طرح عوام کے دلوں میں زندہ ہے میری قاہد ہمیں چھوڑ کر کہاں چلی گئی ہم تیرے نظریات کو عام کر رہے ہیں۔

سردار محمد نعیم( ڈپٹی سکریڑی نشرواشاعت)
پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب

پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کے ڈپٹی سکریڑی نشرواشاعت سردار محمد نعیم افریق نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلزپارٹی کو جو مقام حاصل ہوا ہے وہ اور کسی جماعت کے حصے میں نہیں آیا اسی طرح ذوالفقارعلی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے لیڈر ملے جس نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی اور امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھا پھر ایک سازش کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹم بم اور اسلامی دنیا کو اکھٹے کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی اور محترمہ بےنظیر بھٹو عوام میں ہردل عزیز مقبول ہوگی جو آمریت کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کردیا گیا آج اگر محترمہ زندہ ہوتی تو پاکستان ایک ترقی یافتہ جمہوری پسند ملک ہوتا پاکستان میں ہمیشہ جمہوریت کمزور رہی ہے اپریل انیس سو چھیاسی میں بے نظیر بھٹو کا لاہور میں تاریخی استقبال پیپلز پارٹی کی مقبولیت اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی سے عوام کی محبت کا بھرپور اظہار تھا انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنا لی لیکن 1990 میں مخالفین نے صدر اسحاق سے مل کر حکومت کا خاتمہ کرلیا 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو گولی مار کر شہید کردیا گیا اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

 


تصور چوہدری صدر
پیپلز پارٹی سعودی عرب

پاکستان کی تاریخ میںاس بات کی گواہ ہے پاکستان کی سیاسی تاریخ مین جمہوریت کیلئے فروغ دینے والی واحد جماعت پاکستان پیلز پارٹی ہے جسکی تاریخ جمہوری جدوجہد میں صرف لفاظی نہیں بلکہ عملی طورپر قربانیوں سے رقم ہے ۔ جسکی پاداش میں جمہوریت دشمنوں نے پی پی پی کے رہنماﺅں کو قید و بند کی صوبتوںکے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی۔ بانی چیئرمین ذولفقار علی بھٹو اور انکی صاحبزادی شہید بے نظیر بھٹو کی شہادتیں گواہ ہیں کہ انکی قربانیاں انکی شہادتیں اسی لئے ہوئی ہیں کو عوام کی ذہنوں میں جمہوریت کے چراغ جلاتے تھے ،جو جمہوریت دشمنوں کیلئے انکی موت ہے ۔ یہ بات گواہ کہ جمہوریت کے دشمنوں نے جب جب بھی پارٹی پر شب خون مارا یہ پارٹی مزید مضبوطی کی طرف گئی اور اسکی جڑین عوام میں مضبوط ہوئیں۔پاکستان کے عام انتخابات جب بھی selected انتخابات نہیںہوئے عوام نے پی پی پی کے حق میں فیصلہ دیا ۔ آج بلاول بھٹو کی نوجوان قیادت عوام کےساتھ ملکر پاکستان کو ایک پرامن، اقتصادی طور پر مضبوط ملک بنانے کے اپنے شہید نانا ، اور شہید ماں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرینگے ۔ بی بی شہید ، کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ۔

 

14 سالہ دور حکومت میں کیا کیا دیا، اس کو تاریخ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ایٹم بم دیا،آئین دیا،نوے ہزار فوجی لا کر دیے،قادینوں کا مسلہ حل کیا،چین کو تیسری دنیا میں متعارف کرایا،اسے ویٹو پاور بنایا، قائد اعظم یونیورسٹی دی،گومل یونیورسٹی دی،زوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی دی،چھ ماہ نیٹو سپلائی بند رکھی،بینظر انکم سپورٹ ادارہ بنایاواہ ہیوانڈسڑی بنائی،کہوٹہ اٹامک پلانٹ بنایا،چین، انڈیا، ایران سے اپنا ہزاروں میل رقبہ واپس لیا، اسلامی سربراہی کانفرنس میں امت مسلمہ کو متحد کیا،ووٹ کا حق دیا،  شناختی کارڈ دے کر پہچان دی،سب سے بڑی یونیورسٹی (اوپن یونیورسٹی)،سب سے بڑی مسجد (شاہ فیصل مسجد)،میزائل ٹیکنالوجی دی، سی پیک دیا،گوادر پورٹ دی،پاک ایران گیس پائپ لائن دی،امریکی اڈے خالی کرائے، بلوچوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کیا، جس وجہ سے سردار اختر مینگل اب ملکی سیاست کا حصہ بنے،

دہشتگردوں اور دہشتگرد جماعتوں کی سرعام مزحمت کی نام لے کر للکارا اور شہادتیں دی، سعودی عرب اور ایران دونوں طرف پاکستان کا توازن برابر رکھا، ثالثی کا کردار ادا کیا، پہلی بار چھوٹے صوبوں کو متفقہ این ایف سی ایوارڈ دیا۔ پاکستان کو مظبوط اور مستحکم بنانے کےلیے جن منصوبوں کو مکمل کیا گیا وہ سب بھٹو شہید کا منشور اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی دن رات انتھک محنت کا نتیجہ ہیں سلام ہے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی کی لیڈر شپ کو۔اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر میں تمام اہل وطن سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر وطن عزیز کو ترقی کے راستے پر لے کر جانا ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کا ساتھ دیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیی ایک یہ ہی پارٹی ہے جو اس وقت ہمارے وطن عزیز کو ان مشکلات کے دور سے باہر نکال سکتی ہے۔