ماہی گیروں کا محکمہ فشریز سے سمندر کناروں سے پلاسٹک بیگ اور گندگی کے ڈھیر ختم کرانے کا مطالبہ : جھینگا مچھلی گندگی کی وجہ سے ماہی گیروں کی پہنچ سے دور گہرے سمندر میں چلی گئ

کراچی :  ابراہیم حیدری سمندر کنارہ پلاسٹک بیگ اور گندگی کے ڈھیر کا منظر پیش کرنے لگا، جھینگا مچھلی گندگی کی وجہ سے ماہی گیروں کی پہنچ سے دور گہرے سمندر میں چلی گئی، عام ماہی گیر روزگار نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی سے دوچار، ماہی گیروں نے محکمہ فشریز سے سمندر کناروں سے پلاسٹک بیگ اور گندگی کے ڈھیر ختم کرانے کا مطالبہ کردیا: تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک بیگ کے خاتمے کیلئے ایک بہت بڑی مہم جاری ہے اور اس مہم میں پاکستان حکومت نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کی طرف سے پاکستان میں پلاسٹک بیگ کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی ہے، لیکن پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی کے باوجود بھی اس کا استعمال اور فروخت مسلسل جاری ہے۔

اس سلسلے میں ابراہیم حیدری میں قائم جیٹیوں کا دورہ کیا گیا، جہاں پلاسٹک بیگ اور گندگی کے ڈھیر پائے گئے۔ ماہی گیروں احمد علی، محمد حسین، رمضان، عبدالقیوم و دیگر نے بتایا کہ ابراہیم حیدری کی مختلف جیٹیوں سے سمندر میں جانے والی سینکڑوں لانچیں بڑی تعداد میں اپنے ساتھ پلاسٹک بیگ لیکر جاتی ہیں اور سمندر میں شکار کے دوران حاصل کی گئی چھوٹی مچھلی کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کر فریز کر دیتے ہیں۔ یہ لانچیں سمندر میں طویل عرصہ تک شکار کے بعد واپس کناروں پر قائم جیٹیوں پر پہنچتی ہیں، جہاں پلاسٹک بیگ سے چھوٹی مچھلی کو نکال کر پلاسٹک بیگ واپس سمندر کناروں پر پھینک دیئے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سمندر کناروں پر دن بہ دن گندگی کے ڈھیر بڑھتے جارہے ہیں اور گندگی کے باعث جھینگا مچھلی سمندر کناروں اور عام ماہی گیروں کی پہنچ سے دور گہرے سمندر میں چلے جاتے ہیں اور سمندر کناروں پر روزگار نہ ہونے کی وجہ سے عام ماہی گیر بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ کراچی کے ساحل سے سمندر جانے والی ہزاروںلانچیں سینکڑوں ٹن پلاسٹک بیگ کا استعمال کرتی ہیں، جنہیں گندگی کی صورت میں واپس سمندر کناروں پر ہی پھینک دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں چھوٹے ماہی گیروں کی طرف سے سندھ حکومت اور محکمہ فشریز سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لانچوں میں استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگ کا مکمل طور پر خاتمہ لاکر سمندر کناروں کو صفائی ستھرائی کی علامت بنایا جائے۔