کسان بھائیوں کو سلام ۔۔۔۔۔

تحریر ۔۔۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
کسان جو ھماری لیے نہایت سخت محنت اور جفاکشی سے اناج پیدا کرتے ھیں ویسے تو ھر قسم کی کاشت کاری بہت مشکل اور محنت طلب کام ھے مگر دھان کی کاشت ان سب میں مشکل ترین کام ھے جولائی اگست جیسے سخت ترین موسم میں دھان (چاول ) کی کاشت کی جاتی ھے جولائی اگست سال کے سخت ترین گرم مہینے ھوتے ھیں جب ھر طرف حبس کا راج ھوتا ھے ۔۔

دھان کی فصل واحد فصل ھے جو پانی میں کاشت کی جاتی ھے اور پانی میں ھی تیار ھوتی ھے اور پکانے کے لیے بھی ڈبل پانی درکار ھوتا ھے چاول کاشت کرنے کے لیے زمین کی تیاری بھی مشکل ترین مرحلہ ھوتا ھے دھان کی پنیری لگانے کے لئے کھیت میں وافر پانی کی موجودگی نہایت ضروری ھوتی ھے
دھان خریف کی اہم نقد آور فصل ہے۔ گندم کے بعد خوردنی اجناس میں سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے۔ انڈیا،ویت نام اور تھائی لینڈ کے بعد چاول کی برآمد میں چوتھے نمبر کا ملک ہے۔ ہماری اوسط پیداوار تقریباً 34من فی ایکڑ ہے جبکہ کئی ممالک میں یہ پیداوار دو گنا سے بھی زیادہ لی جا رہی ہے۔
پاکستان میں سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، گجرات، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد کے اضلاع باسمتی چاول کی پیداوار کے حوالے سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب سندھ میں بھی چاول کاشت کیا جاتا ھے دوسری جانب انڈیا میں مشرقی پنجاب، ہریانہ، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں میں تاریخی طور پر اس کی کاشت کی جاتی رہی ہے

ویسے تو چاول کی کئی اقسام کاشت کی جاتی ہیں جن میں سپر باسمتی 385باسمتی، اری 6 و دیگر اقسام ہیں لیکن پاکستان اور بیرون ملک جس چاول کی قسم سے پاکستان 3ارب ڈالر ز سے زائد رز مبادلہ حاصل کرتا ہے۔ چین، ایران، برطانیہ، جرمنی، ترکی، سعودی عرب، متحدہ امارات، پاکستان کے سپر چاول باسمتی کے بڑے خریدار ہیں۔ پنجاب میں چاول کی کاشت کے لیے بہترین اور موسم کی مناسبت سے مہینہ ساون ہے محکمہ زراعت بھی کسانوں سے اس مہینے میں فصل کی کاشت کی سفارشات کرتا ہے۔
دھان کی کاشت کے لیے پانی کی بہت زیادہ ضرورت ھوتی ھے اس کے لیے کسانوں کو چوبیس چوبیس گھنٹے ٹیوب ویل چلانے پڑتے ھیں جس کے لیے بجلی کی فراہمی لازم ھے مگر ھمارے دیہی علاقوں میں گھنٹوں بجلی نہیں آتی اس لیے ھمارے کسانوں بھائیوں کو ڈیزل انجن استعمال کرنے پڑتے ہیں جس کے لیے مہنگے ترین ڈیزل آئل استعمال کرنے مجبوری ھے اس کے علاؤہ چاول کے لیے کھادیں بہت ضروری ھوتی ھے وہ بھی نہایت مہنگی ھو چکی ھیں اس وجہ سے کسانوں کے اخراجات بہت زیادہ ھوتے ھیں اور آمدن کم ھوتی ھے ۔۔
محنت کسان کرتے ہیں مگر فایدہ بپوپاری اٹھا لیتے ھیں اس لیے ایک زرعی ملک میں کسانوں کی مالی حالت بہت خراب رہتی ھے یہ بات حقیقت ھے کہ پاکستانی معیشت کا دارومدار زراعت پر ھے شہروں کا سارا انتظام کسانوں کی محنتوں سے ھی چل رھا ھے کسانوں کو سہولیات نہ ملنے سے وہ اپنی قیمتی زمینوں ھاوسنگ مافیا کے ھاتھوں فروخت کرنے پر مجبور ھوتے جارھے ھیں
اس لیے حکومت کو چاھیے کہ وہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراھم کرئے ۔
بجلی پانی سستا اور ریگولر بنیادوں پر فراھم کرنے کے ساتھ ساتھ سستی کھادوں دی جائیں ۔
کسانوں کو ان کی فصلوں کی صحیح قیمت وقت پر ادا کی جائے۔دیہات میں تعلیم صحت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔
ذرائع امدورفت کو بہتر بنایا جائے ۔
کاشت کاری کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور مشین فراھم کی جائیں ۔۔۔