فضل صاحب۔ زندگی کے بے شمار رنگ دیکھ کر چلے گئے! صحافت کے بکھرتے رنگ۔ وقت نے سب کچھ بدل دیا

تحریر: سہیل دانش
اِس حقیقت کو کون جھٹلاسکتا ہے کہ اس مٹی کی دنیا میں سب کو مٹی میں جانا ہے نامور بھی اور گمنام بھی سب کو خاک میں ملنا پڑتا ہے۔ شاید یہ ہمارے بینائی کی کمزوری ہے کہ ہمیں آگے بہت قریب قبر کا اندھیرا نظر نہیں آتا۔ آپ فضل صاحب کی زندگی کو ہرگز ہنگامہ خیز نہیں کہہ سکتے لیکن اُنہوں نے اِس طویل زندگی میں تبدیلیوں کے اتنے بدلتے رنگ دیکھے جس میں حوصلے برداشت اور رواداری کی روایات بھی جگمگاتی رہیں سیکھنے سکھانے کا عمل بھی چلتا رہا قلم کی مزدوری میں جو جوہر دکھائے اُس کی ایک طویل داستان ہے۔ اُنہوں نے نہ جانے کیا کچھ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا، زمانہ کو کتنی انگڑائیاں لیتے اور کروٹیں بدلتے دیکھا پریس کلب کی سیاست میں سُرخروئی بھی دیکھی۔ دُعائیں سمیٹیں اور محبتیں بکھیریں۔ اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز زندگی کا معمول رہے۔ لیکن یہ اُن کی خوش قسمتی کہ اُنہوں نے ابتدائی عملی زندگی میں خود کو ڈسکور کرلیا تھا۔ اِس لئے اللہ کے کرم اور اپنی محنت و ریاضت کو شاملِ حال بناکر وہ صحافت سے منسلک ہوگئے۔ آزادی کے بعد ابھی دو دہائیوں کی مسافت بھی طے نہیں ہوئی تھی۔ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت گھٹنوں کے بل چلنا سیکھ رہی تھی۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ اُس وقت کا صحافی بڑا اولوالعزم اور منفرد مقصدیت کا حامل تھا۔ کمرشیل ازم کے بجائے وہ اپنی ذمہ داری ایک مشن کے طور پر نبھاتا تھا۔ اُس کے ایک ہاتھ میں قلم کی طاقت اور دوسرے ہاتھ میں کاغذ کا پلندہ ہوتا تھا۔ میں نے اُن صحافیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ یہ ہم سے ایک نسل پہلے کے صحافتی شہسوار تھے۔ بس اِن کے دماغ میں ایک دُھن تھی راستے میں چوندی کھائی کنواں یا چٹان آئی وہ پھلانگتے چلے گئے اُن کے گلے میں ڈگریوں کی سندیں تھیں یا نہیں لیکن کچھ سیکھنے، محنت و احترام اور زندگی کے سلیقے اور قرینے ضرور جانتے تھے۔ اُس وقت صحافت ایک ایسا شعبہ تھا جس میں اپنی صلاحیت کو منوائے بغیر صحافی ایک سطح سے اوپر نہیں اُٹھ سکتا تھا۔ جب ہم نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تو ہمیں بڑے باکمال صحافیوں سے واسطہ پڑا۔ جنہیں دیکھ کر دنیا کے مہنگے ترین سوال کا جواب مل گیا کہ نالائق اور لائق اور کامیاب اور ناکام آدمی میں کیا فرق ہوتا ہے۔ جنگ کے میرخلیل الرحمن حریت کے ماتری صاحب اور انجام کے عثمان آزاد صاحب کی اِس شعبے میں رسہ کشی اور کشمکش کے بہت سے واقعات مایہ ناز کالم نگار اور الفاظ کو موتیوں کی طرح تحریر میں پرونے پر ملکہ رکھنے والے انعام دُرانی صاحب نے سنائے تھے لیکن بالآخر یہ دوڑ میر صاحب اور جنگ کی واضح برتری پر منتج ہوئی۔ حریت ڈان گروپ کے پاس چلاگیا لیکن جنگ سرپٹ دوڑتا۔ اُردو صحافت کی حکمرانی کے منصب پر فائز رہا۔ روزنامہ انجام نے کچھ عرصے کے لئے قارئین کی توجہ بٹوری۔ لیکن پھر یہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ 70 کی دہائی کے آخر اور 80 کی دہائی میں نوائے وقت اِس مقابلے میں جنگ کے مقابل کھڑا ہونے کی کوششیں کرتا رہا۔ لیکن میرصاحب کی محنت لگن اور خود احتسابی کے کڑے معیار اور ساتھ ساتھ نت نئے تقاضوں سے اخبار کو ہم آہنگ کرنے کی عملی کوشش کے سبب وکٹری اسٹینڈ پر کوئی بھی اُس سے نمبرون پوزیشن نہیں چھین سکا۔ مقابلے کی اِس پوری دوڑ میں جنگ کو دوسرے تمام اخبارات پر پروڈکشن اور نیٹ ورکنگ میں برتری حاصل رہی۔ 90 کی رہائی کے وسط میں روزنامہ دِن نے جنگ کے ساتھ پنجہ آزمائی کی کوشش کی۔ ریکارڈ اور اعدادوشمار گواہی دیتے ہیں کہ “دِن” نے کم قیمت میں ایک جامع اخبار کا رُوپ دھار کر سرکولیشن کے اعتبار سے تمام تیکارڈ توڑدئیے۔ لیکن محمود صادق زیادہ تیاری اور چوکنے انداز سے مقابلے کے لئے کمر بستہ تھے اسی لئے لاہور اور کراچی میں اُنہوں نے ابتدائی پانچ چھ سال اپنے تمام تر جوہر دکھاکر سب کو حیران کردیا۔ اس کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ بزنس یا مارکیٹنگ کے اعتبار سے کوئی بھی اُردو اخبار جنگ کے لئے بہت بڑا چیلنج نہ بن سکا انگریزی اخبارات میں ڈان کو برتری حاصل رہی۔ لیکن ایک وقت میں پاکستان ٹائمز اور “مسلم” جیسے اخبارات بھی انگریزی قارئین کی توجہ کا مرکز بنے لیکن “ڈان” کی بااصول اور چوکنا انتظامیہ اور ایڈیٹوریل کا معیار نے اُس کی ساکھ کو وقت کے کسی تھپیڑے کی زد میں نہیں آنے دیا۔ اُسے اُس وقت ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب جنگ گروپ نے انگریزی اخبار “دی نیوز” کا اجراء کیا عام اندازہ یہ تھا کہ ڈان اور دی نیوز میں ایک سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ لیکن “نیوز” کوئی ایسا شوڈاؤن نہیں کرسکا جس طرح لاہور میں جنگ کے اجراء کے وقت اُس کی انتظامیہ اور ایڈیٹوریل اسٹاف نے ہر شعبے میں اپنے تابڑ توڑ حملوں سے اپنے تمام حریفوں کو چاروں شانے چِت کردیا تھا۔ اِس کی بنیادی وجہ مجھے یہ نظر آتی ہے کہ قارئین کی سوچ خبر کے متعلق اُنکے معیار، اور ذہنی فکر، کاپی رائٹنگ سے لے کر خبر کی کریڈیبلٹی اور سلیکشن تک کا انداز کوئی ایسا زلزلہ برپا نہ کرسکا۔ جو “ڈان” کی جمی جمائی ساکھ کو متاثر کرتا پھر اِس تقابلی مقابلے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں ریڈرز کے رجحانات اور پسندیدگی کے معیار مختلف رہے کراچی میں “دی نیوز” کی پالیسی ساز تمام تر تجربات کے باوجود اِس حقیقت کو شاید نہ سمجھ سکے۔ انگریزی جرنلزم میں بھی اسپورٹس ور سیاسی خبروں کا شائق زیادہ دکھائی دیتا ہے لیکن اِس میں کوئی شک نہیں کہ انگلش زبان میں کالم لکھنے والوں میں اردکاوس جی جیسا لکھاری بھی تھا۔ جو حقائق کو الفاظ کی آتش بازی سے گرماتا رہا۔ الطاف گوہر سے لے کر زیڈ اے سلیری تک اپنے رابطوں اور حوالوں سے نہ جانے کیا کیا راز منکشف کرتے رہے۔ سرل المیڈا جیسے قلمکار تنازعات کی گھٹڑی سر پر سجائے ہر دم تنازعات کی زد میں رہا۔ لیکن انگریزی اخبارات قارئین کے تعداد کم ہونے کے سبب کوئی ایسا طوفان برپا نہ کرسکے جو اُردو قطعات کے بانی رئیس امروہوی نے “اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے” جیسے اشعار لکھ کر ہنگامہ برپا کردیا تھا۔ اِس طرح جب آپکی نظر شام کو شائع ہونے والے اخبارات پر پڑتی ہے تو اِس میں “جملہ بازی” کی جادوگری پر آپ خود حیران رہ جاتے تھے۔ خبر جو بھی ہو الفاظ کی چنگاریوں سے ایسے شعلے کی تیاری جو عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکے۔ یوں تو اِس صف میں “آغاز” سمیت متعدد اخبارات نے اپنے قدم جمانے کے لئے نت نئے رنگ و روپ اختیار کئے اپنے قارئین کا ایک مضبوط حلقہ بنایا لیکن قومی اخبار اور “عوام” شام میں دو ایسے اخبارات شائع ہوئے۔ جنہوں نے شہرت و مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑدئیے۔ سرکولیشن کے چکاچوند کردینے اعدادوشمار اور چسکے اور چٹخارے کے تمام ذائقوں کے ساتھ کئی سال تک جاری رہنے والی دوڑ نے لاہور اور راولپنڈی میں بھڑکتی ہوئی سُرخیوں والے آخبارات کو متعارف کرایا۔ انگریزی میں جنگ گروپ کا ڈیلی نیوز اور ڈان گروپ کے “اسٹار” کی چند الفاظ پر معنی خیز 8 کالمی سُرخیوں نے خوب رنگ جمایا۔ یہ ضرور رہا کہ خبر کی ساکھ سے زیادہ سنسنی خیزی اور تھرل کی آمیزش نے Eveningersکی ایک نئی مارکیٹ کو جنم دیا 2000 کی دہائی میں پاکستان میں نجی چینلز کے آنے سے خبروں کی فوری رسائی اور ہر لمحے بریکنگ نیوز کی صورت میں لمحہ بہ لمحہ ٹی وی اسکرین پر رنگ بکھیرنے والی کسی بھی نئی خبر نے ناظرین کے لئے دوسرے دِن صبح کی اخبار میں چھپنے والی خبروں اور تفصیلات کے لئے انتظار کے گھڑیوں کو سکیڑدیا۔ اب نت نئے انداز میں مختلف چینلز سے ایک خبر مختلف زاویوں میں ناظرین کی گرفت اور رسائی میں آگئیں اور یوں چینلز پر آڈیو ویڈیو کی صورت میں خبروں کی فوری ترسیل نے پرنٹ میڈیا کی افادیت اور مانگ کو 440 وولٹ کا جھٹکا دیا۔ اُس پر طرہ یہ کہ مارکیٹنگ کے شعبے میں پرنٹ میڈیا کا سائز سکڑنا چلاگیا اور فی زمانہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی دھماچوکڑی نے الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ وہی سلوک کیا جو الیکٹرانک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کے ساتھ کیا تھا جس میں ہر کوئی اسمارٹ فون ہاتھ میں تھامے اُس کی اسکرین پر اپنے مزاج خواہش معلومات تفریح و طبع کے لئے بٹن کی چھیڑخانی سے ہر شعبے میں پھکڑپن سے لے کر تحقیق علم اور معلومات کے خزینے تک رسائی حاصل کرنے پر نہ صرف قدرت حاصل کرچکا ہے بلکہ ہر معاملے پر اپنی سوچ فکر اور ردِ عمل کو بھی بروقت دوسروں تک بآسانی پہنچانے پر بھی معجزاتی کمال حاصل کرچکا ہے لیکن اِس صحافتی سفر میں جو یقیناً اب نئے روپ کے ساتھ جلوہ گرہورہا ہے اور جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لیکن پھر بھی آج صحافت کے اعلیٰ معیار کو اُسی پیمانے پر ناپا جاتا ہے جو قابل ترین اساتذہ ایڈیٹرز، رپورٹرز، کالم نگار اور صحافتی برادری کے جوہر قابل نے مقرر کئے تھے اِس وقت ہم اِن چند کالم نگاروں اور ایڈیٹرز کو ضرور یاد کرنا چاہئیں گے۔ جنہوں نے اِس صحافتی میدان کو ایک شان بخشنے میں اپنا کردار ادا کیا یہ ایسے ایڈیٹرز تھے جنہیں قدرت نے مطالعے مشاہدے اور زبان کی قدرت دے رکھی تھی جو خبر اور مضمون کو معتبر بنانے کا گر جانتے تھے۔ جناب احمد علی خان، جناب یوسف صدیقی، جناب نثار احمد زبیری، جناب ضیاء شاہد بڑے باکمال ایڈیٹرز میں سے تھے شام کے اخبارات میں ہمارے دوست الیاس شاکر نے خود کو سچ مُچ ا،س سرکس کا باکمال جادوگر ثابت کیا تھا۔ کالم نگاروں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اِن پر ایک اچٹتی نظر بھی ڈالیں تو یہ درجنوں ستارے جگمگاتے نظر آئیں گے حریت میں اپنے قلم کا کمال دکھانے والوں میں نصراللہ خان تھے جن کا ہر لفظ تعویذ اور ہر فقرہ دُعا ہوتی تھی ابراہیم جلیس لکھتے کیا تھا پھلجڑیاں چھوڑتے تھے۔ الفاظ کی ایسی بے ساختہ چاندماری کہ نہ ذہن تکتا تھا نہ نظریں انعام دُرانی تھے الفاظ جن کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے اپنی بات کو کہنے کا انداز جس میں کرب بھی ہوتا اور چبھن بھی سلیقہ ایسا جسے دِل بھی مانتا اور دماغ بھی۔ منو بھائی تھے ایسا لکھتے کہ اُن کے تخقلیق کئے گئے فقروں پر خود اُردو زبان فریفتہ ہوجاتی۔ مجیب الرحمن شامی جیسے باخبر صحافی لفظ جن کے حضور یوں سرجھکاکر بیٹھتے جیسے عقیدت میں بھیگے مرید مرشد کے سامنے۔ عبدالقادر حسن کی نثر پہاڑی ندی کی طرح تھی جب اِس میں طغیانی آتی تو یہ بہتی چلی جاتی۔ نذیر ناجی کے قلم نے لفظوں کو کہنے کا بولنے کا سلیقہ سکھایا۔ جمیل الدین عالی جن کی انگلیوں میں پہنچ کر لفظ لفظ نہیں رہتے۔ احساس بن جاتے جذبوں کی طرح دمکنے لگتے۔ ہارون رشید کے کیا کہنے اُن کا قلم ٹھنڈے اور بے جان لفظوں کو بھی چھولے تو وہ اُٹھ کر بیدار ہوجاتے ہیں چلنے پھرنے لگتے ہیں بولنے لگتے ہیں اگر کسی کو بروقت موضوعات کا انتخاب سیکھنا ہو تو محمود شام سے سیکھے پھر ہر پڑھنے والا اُن کی حرارت محسوس کئے بغیر نہیں رہے گا حسن نثار جن کا قلم ہر طرح کا سُر نکالنے پر قادر دکھائی دیتا ہے عطاء الحق قاسمی جنہیں برف کو آگ لگانے اور آگ سے برف کی سلیں بنانے کا ہنر آتا تھا امجد اسلام امجد جن کی نثر میں شعر کا ذائقہ اور شاعری میں نثر کا چسکہ تھا۔ آج کل آپ دیکھیں برادرم جاوید چودھری کے قلم کا کمال کہ کالم میں ناول کا مزا آتا ہے کرداروں کو اِس ترتیب سے کھڑا کرتے ہیں کہ ماضی حال اور مستقبل کی کہانی یکجا ہوجائے۔ برادرم نصرت جاوید کے قلم میں ادب کی چاشنی کے ساتھ ساتھ چاروں طرف نئی خبروں کے اشارے اور حوالے ناچتے نظر آتے ہیں برادرم وسعت اللہ خان کے کالم میں مطالعے اور مشاہدے کا پورا رنگ سجا دکھائی دیتا ہے ایسے متعدد حیران کردینے والے قلمکار ہیں جنہیں پڑھ کر لگتا ہے کہ لکھنے کا ڈھنگ اور ہنر ہو تو ایسا۔ اس طرح ایس ایم فضل بھی ایسے ایڈیٹر تھے۔ جو خبر کی مریٹ سے بھی واقف تھے اور جو اسے معتبر خوبصورت اور منفرد بنانے میں بھی ماسٹر تھے۔ ایک شفیق اور حلیم الطبع انسان تھے بے شمار صحافیوں نے اُن کی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ کیا۔ اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ ایسے نفیس اور شاندار انسان کے ساتھ اپنے رحم و کرم معاملہ فرمائے۔ آمین
فضل صاحب۔ زندگی کے بے شمار رنگ دیکھ کر چلے گئے!
صحافت کے بکھرتے رنگ۔ وقت نے سب کچھ بدل دیا
======

تحریر: سہیل دانش
اِس حقیقت کو کون جھٹلاسکتا ہے کہ اس مٹی کی دنیا میں سب کو مٹی میں جانا ہے نامور بھی اور گمنام بھی سب کو خاک میں ملنا پڑتا ہے۔ شاید یہ ہمارے بینائی کی کمزوری ہے کہ ہمیں آگے بہت قریب قبر کا اندھیرا نظر نہیں آتا۔ آپ فضل صاحب کی زندگی کو ہرگز ہنگامہ خیز نہیں کہہ سکتے لیکن اُنہوں نے اِس طویل زندگی میں تبدیلیوں کے اتنے بدلتے رنگ دیکھے جس میں حوصلے برداشت اور رواداری کی روایات بھی جگمگاتی رہیں سیکھنے سکھانے کا عمل بھی چلتا رہا قلم کی مزدوری میں جو جوہر دکھائے اُس کی ایک طویل داستان ہے۔ اُنہوں نے نہ جانے کیا کچھ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا، زمانہ کو کتنی انگڑائیاں لیتے اور کروٹیں بدلتے دیکھا پریس کلب کی سیاست میں سُرخروئی بھی دیکھی۔ دُعائیں سمیٹیں اور محبتیں بکھیریں۔ اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز زندگی کا معمول رہے۔ لیکن یہ اُن کی خوش قسمتی کہ اُنہوں نے ابتدائی عملی زندگی میں خود کو ڈسکور کرلیا تھا۔ اِس لئے اللہ کے کرم اور اپنی محنت و ریاضت کو شاملِ حال بناکر وہ صحافت سے منسلک ہوگئے۔ آزادی کے بعد ابھی دو دہائیوں کی مسافت بھی طے نہیں ہوئی تھی۔ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت گھٹنوں کے بل چلنا سیکھ رہی تھی۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ اُس وقت کا صحافی بڑا اولوالعزم اور منفرد مقصدیت کا حامل تھا۔ کمرشیل ازم کے بجائے وہ اپنی ذمہ داری ایک مشن کے طور پر نبھاتا تھا۔ اُس کے ایک ہاتھ میں قلم کی طاقت اور دوسرے ہاتھ میں کاغذ کا پلندہ ہوتا تھا۔ میں نے اُن صحافیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ یہ ہم سے ایک نسل پہلے کے صحافتی شہسوار تھے۔ بس اِن کے دماغ میں ایک دُھن تھی راستے میں چوندی کھائی کنواں یا چٹان آئی وہ پھلانگتے چلے گئے اُن کے گلے میں ڈگریوں کی سندیں تھیں یا نہیں لیکن کچھ سیکھنے، محنت و احترام اور زندگی کے سلیقے اور قرینے ضرور جانتے تھے۔ اُس وقت صحافت ایک ایسا شعبہ تھا جس میں اپنی صلاحیت کو منوائے بغیر صحافی ایک سطح سے اوپر نہیں اُٹھ سکتا تھا۔ جب ہم نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تو ہمیں بڑے باکمال صحافیوں سے واسطہ پڑا۔ جنہیں دیکھ کر دنیا کے مہنگے ترین سوال کا جواب مل گیا کہ نالائق اور لائق اور کامیاب اور ناکام آدمی میں کیا فرق ہوتا ہے۔ جنگ کے میرخلیل الرحمن حریت کے ماتری صاحب اور انجام کے عثمان آزاد صاحب کی اِس شعبے میں رسہ کشی اور کشمکش کے بہت سے واقعات مایہ ناز کالم نگار اور الفاظ کو موتیوں کی طرح تحریر میں پرونے پر ملکہ رکھنے والے انعام دُرانی صاحب نے سنائے تھے لیکن بالآخر یہ دوڑ میر صاحب اور جنگ کی واضح برتری پر منتج ہوئی۔ حریت ڈان گروپ کے پاس چلاگیا لیکن جنگ سرپٹ دوڑتا۔ اُردو صحافت کی حکمرانی کے منصب پر فائز رہا۔ روزنامہ انجام نے کچھ عرصے کے لئے قارئین کی توجہ بٹوری۔ لیکن پھر یہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ 70 کی دہائی کے آخر اور 80 کی دہائی میں نوائے وقت اِس مقابلے میں جنگ کے مقابل کھڑا ہونے کی کوششیں کرتا رہا۔ لیکن میرصاحب کی محنت لگن اور خود احتسابی کے کڑے معیار اور ساتھ ساتھ نت نئے تقاضوں سے اخبار کو ہم آہنگ کرنے کی عملی کوشش کے سبب وکٹری اسٹینڈ پر کوئی بھی اُس سے نمبرون پوزیشن نہیں چھین سکا۔ مقابلے کی اِس پوری دوڑ میں جنگ کو دوسرے تمام اخبارات پر پروڈکشن اور نیٹ ورکنگ میں برتری حاصل رہی۔ 90 کی رہائی کے وسط میں روزنامہ دِن نے جنگ کے ساتھ پنجہ آزمائی کی کوشش کی۔ ریکارڈ اور اعدادوشمار گواہی دیتے ہیں کہ “دِن” نے کم قیمت میں ایک جامع اخبار کا رُوپ دھار کر سرکولیشن کے اعتبار سے تمام تیکارڈ توڑدئیے۔ لیکن محمود صادق زیادہ تیاری اور چوکنے انداز سے مقابلے کے لئے کمر بستہ تھے اسی لئے لاہور اور کراچی میں اُنہوں نے ابتدائی پانچ چھ سال اپنے تمام تر جوہر دکھاکر سب کو حیران کردیا۔ اس کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ بزنس یا مارکیٹنگ کے اعتبار سے کوئی بھی اُردو اخبار جنگ کے لئے بہت بڑا چیلنج نہ بن سکا انگریزی اخبارات میں ڈان کو برتری حاصل رہی۔ لیکن ایک وقت میں پاکستان ٹائمز اور “مسلم” جیسے اخبارات بھی انگریزی قارئین کی توجہ کا مرکز بنے لیکن “ڈان” کی بااصول اور چوکنا انتظامیہ اور ایڈیٹوریل کا معیار نے اُس کی ساکھ کو وقت کے کسی تھپیڑے کی زد میں نہیں آنے دیا۔ اُسے اُس وقت ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب جنگ گروپ نے انگریزی اخبار “دی نیوز” کا اجراء کیا عام اندازہ یہ تھا کہ ڈان اور دی نیوز میں ایک سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ لیکن “نیوز” کوئی ایسا شوڈاؤن نہیں کرسکا جس طرح لاہور میں جنگ کے اجراء کے وقت اُس کی انتظامیہ اور ایڈیٹوریل اسٹاف نے ہر شعبے میں اپنے تابڑ توڑ حملوں سے اپنے تمام حریفوں کو چاروں شانے چِت کردیا تھا۔ اِس کی بنیادی وجہ مجھے یہ نظر آتی ہے کہ قارئین کی سوچ خبر کے متعلق اُنکے معیار، اور ذہنی فکر، کاپی رائٹنگ سے لے کر خبر کی کریڈیبلٹی اور سلیکشن تک کا انداز کوئی ایسا زلزلہ برپا نہ کرسکا۔ جو “ڈان” کی جمی جمائی ساکھ کو متاثر کرتا پھر اِس تقابلی مقابلے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں ریڈرز کے رجحانات اور پسندیدگی کے معیار مختلف رہے کراچی میں “دی نیوز” کی پالیسی ساز تمام تر تجربات کے باوجود اِس حقیقت کو شاید نہ سمجھ سکے۔ انگریزی جرنلزم میں بھی اسپورٹس ور سیاسی خبروں کا شائق زیادہ دکھائی دیتا ہے لیکن اِس میں کوئی شک نہیں کہ انگلش زبان میں کالم لکھنے والوں میں اردکاوس جی جیسا لکھاری بھی تھا۔ جو حقائق کو الفاظ کی آتش بازی سے گرماتا رہا۔ الطاف گوہر سے لے کر زیڈ اے سلیری تک اپنے رابطوں اور حوالوں سے نہ جانے کیا کیا راز منکشف کرتے رہے۔ سرل المیڈا جیسے قلمکار تنازعات کی گھٹڑی سر پر سجائے ہر دم تنازعات کی زد میں رہا۔ لیکن انگریزی اخبارات قارئین کے تعداد کم ہونے کے سبب کوئی ایسا طوفان برپا نہ کرسکے جو اُردو قطعات کے بانی رئیس امروہوی نے “اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے” جیسے اشعار لکھ کر ہنگامہ برپا کردیا تھا۔ اِس طرح جب آپکی نظر شام کو شائع ہونے والے اخبارات پر پڑتی ہے تو اِس میں “جملہ بازی” کی جادوگری پر آپ خود حیران رہ جاتے تھے۔ خبر جو بھی ہو الفاظ کی چنگاریوں سے ایسے شعلے کی تیاری جو عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکے۔ یوں تو اِس صف میں “آغاز” سمیت متعدد اخبارات نے اپنے قدم جمانے کے لئے نت نئے رنگ و روپ اختیار کئے اپنے قارئین کا ایک مضبوط حلقہ بنایا لیکن قومی اخبار اور “عوام” شام میں دو ایسے اخبارات شائع ہوئے۔ جنہوں نے شہرت و مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑدئیے۔ سرکولیشن کے چکاچوند کردینے اعدادوشمار اور چسکے اور چٹخارے کے تمام ذائقوں کے ساتھ کئی سال تک جاری رہنے والی دوڑ نے لاہور اور راولپنڈی میں بھڑکتی ہوئی سُرخیوں والے آخبارات کو متعارف کرایا۔ انگریزی میں جنگ گروپ کا ڈیلی نیوز اور ڈان گروپ کے “اسٹار” کی چند الفاظ پر معنی خیز 8 کالمی سُرخیوں نے خوب رنگ جمایا۔ یہ ضرور رہا کہ خبر کی ساکھ سے زیادہ سنسنی خیزی اور تھرل کی آمیزش نے Eveningersکی ایک نئی مارکیٹ کو جنم دیا 2000 کی دہائی میں پاکستان میں نجی چینلز کے آنے سے خبروں کی فوری رسائی اور ہر لمحے بریکنگ نیوز کی صورت میں لمحہ بہ لمحہ ٹی وی اسکرین پر رنگ بکھیرنے والی کسی بھی نئی خبر نے ناظرین کے لئے دوسرے دِن صبح کی اخبار میں چھپنے والی خبروں اور تفصیلات کے لئے انتظار کے گھڑیوں کو سکیڑدیا۔ اب نت نئے انداز میں مختلف چینلز سے ایک خبر مختلف زاویوں میں ناظرین کی گرفت اور رسائی میں آگئیں اور یوں چینلز پر آڈیو ویڈیو کی صورت میں خبروں کی فوری ترسیل نے پرنٹ میڈیا کی افادیت اور مانگ کو 440 وولٹ کا جھٹکا دیا۔ اُس پر طرہ یہ کہ مارکیٹنگ کے شعبے میں پرنٹ میڈیا کا سائز سکڑنا چلاگیا اور فی زمانہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی دھماچوکڑی نے الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ وہی سلوک کیا جو الیکٹرانک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کے ساتھ کیا تھا جس میں ہر کوئی اسمارٹ فون ہاتھ میں تھامے اُس کی اسکرین پر اپنے مزاج خواہش معلومات تفریح و طبع کے لئے بٹن کی چھیڑخانی سے ہر شعبے میں پھکڑپن سے لے کر تحقیق علم اور معلومات کے خزینے تک رسائی حاصل کرنے پر نہ صرف قدرت حاصل کرچکا ہے بلکہ ہر معاملے پر اپنی سوچ فکر اور ردِ عمل کو بھی بروقت دوسروں تک بآسانی پہنچانے پر بھی معجزاتی کمال حاصل کرچکا ہے لیکن اِس صحافتی سفر میں جو یقیناً اب نئے روپ کے ساتھ جلوہ گرہورہا ہے اور جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لیکن پھر بھی آج صحافت کے اعلیٰ معیار کو اُسی پیمانے پر ناپا جاتا ہے جو قابل ترین اساتذہ ایڈیٹرز، رپورٹرز، کالم نگار اور صحافتی برادری کے جوہر قابل نے مقرر کئے تھے اِس وقت ہم اِن چند کالم نگاروں اور ایڈیٹرز کو ضرور یاد کرنا چاہئیں گے۔ جنہوں نے اِس صحافتی میدان کو ایک شان بخشنے میں اپنا کردار ادا کیا یہ ایسے ایڈیٹرز تھے جنہیں قدرت نے مطالعے مشاہدے اور زبان کی قدرت دے رکھی تھی جو خبر اور مضمون کو معتبر بنانے کا گر جانتے تھے۔ جناب احمد علی خان، جناب یوسف صدیقی، جناب نثار احمد زبیری، جناب ضیاء شاہد بڑے باکمال ایڈیٹرز میں سے تھے شام کے اخبارات میں ہمارے دوست الیاس شاکر نے خود کو سچ مُچ ا،س سرکس کا باکمال جادوگر ثابت کیا تھا۔ کالم نگاروں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اِن پر ایک اچٹتی نظر بھی ڈالیں تو یہ درجنوں ستارے جگمگاتے نظر آئیں گے حریت میں اپنے قلم کا کمال دکھانے والوں میں نصراللہ خان تھے جن کا ہر لفظ تعویذ اور ہر فقرہ دُعا ہوتی تھی ابراہیم جلیس لکھتے کیا تھا پھلجڑیاں چھوڑتے تھے۔ الفاظ کی ایسی بے ساختہ چاندماری کہ نہ ذہن تکتا تھا نہ نظریں انعام دُرانی تھے الفاظ جن کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے اپنی بات کو کہنے کا انداز جس میں کرب بھی ہوتا اور چبھن بھی سلیقہ ایسا جسے دِل بھی مانتا اور دماغ بھی۔ منو بھائی تھے ایسا لکھتے کہ اُن کے تخقلیق کئے گئے فقروں پر خود اُردو زبان فریفتہ ہوجاتی۔ مجیب الرحمن شامی جیسے باخبر صحافی لفظ جن کے حضور یوں سرجھکاکر بیٹھتے جیسے عقیدت میں بھیگے مرید مرشد کے سامنے۔ عبدالقادر حسن کی نثر پہاڑی ندی کی طرح تھی جب اِس میں طغیانی آتی تو یہ بہتی چلی جاتی۔ نذیر ناجی کے قلم نے لفظوں کو کہنے کا بولنے کا سلیقہ سکھایا۔ جمیل الدین عالی جن کی انگلیوں میں پہنچ کر لفظ لفظ نہیں رہتے۔ احساس بن جاتے جذبوں کی طرح دمکنے لگتے۔ ہارون رشید کے کیا کہنے اُن کا قلم ٹھنڈے اور بے جان لفظوں کو بھی چھولے تو وہ اُٹھ کر بیدار ہوجاتے ہیں چلنے پھرنے لگتے ہیں بولنے لگتے ہیں اگر کسی کو بروقت موضوعات کا انتخاب سیکھنا ہو تو محمود شام سے سیکھے پھر ہر پڑھنے والا اُن کی حرارت محسوس کئے بغیر نہیں رہے گا حسن نثار جن کا قلم ہر طرح کا سُر نکالنے پر قادر دکھائی دیتا ہے عطاء الحق قاسمی جنہیں برف کو آگ لگانے اور آگ سے برف کی سلیں بنانے کا ہنر آتا تھا امجد اسلام امجد جن کی نثر میں شعر کا ذائقہ اور شاعری میں نثر کا چسکہ تھا۔ آج کل آپ دیکھیں برادرم جاوید چودھری کے قلم کا کمال کہ کالم میں ناول کا مزا آتا ہے کرداروں کو اِس ترتیب سے کھڑا کرتے ہیں کہ ماضی حال اور مستقبل کی کہانی یکجا ہوجائے۔ برادرم نصرت جاوید کے قلم میں ادب کی چاشنی کے ساتھ ساتھ چاروں طرف نئی خبروں کے اشارے اور حوالے ناچتے نظر آتے ہیں برادرم وسعت اللہ خان کے کالم میں مطالعے اور مشاہدے کا پورا رنگ سجا دکھائی دیتا ہے ایسے متعدد حیران کردینے والے قلمکار ہیں جنہیں پڑھ کر لگتا ہے کہ لکھنے کا ڈھنگ اور ہنر ہو تو ایسا۔ اس طرح ایس ایم فضل بھی ایسے ایڈیٹر تھے۔ جو خبر کی مریٹ سے بھی واقف تھے اور جو اسے معتبر خوبصورت اور منفرد بنانے میں بھی ماسٹر تھے۔ ایک شفیق اور حلیم الطبع انسان تھے بے شمار صحافیوں نے اُن کی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ کیا۔ اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ ایسے نفیس اور شاندار انسان کے ساتھ اپنے رحم و کرم معاملہ فرمائے۔ آمین