ایک محتاط اندازے کے مطابق بچوں میں 50 فیصد موروثی بیماریوں میں 90 فیصد کزن میرجز کا نتیجہ ہیں ، ماہرین

کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر کے زیرِ اہتمام ” انٹروڈکشن ٹو میڈیکل جینیٹکس” کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصباح حنیف نے کہا ہے کزن میرجز کے نتیجے میں نومولود کی جین میں ایسی تبدیلیاں عمل میں آتی ہیں جن سے موروثی بیماریوں میں شدت پیدا ہوجاتی ہے، پاکستان میں کزن میرجز کی شرح بہت زیادہ ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق بچوں میں ہونے والی 50 فیصد موروثی بیماریوں میں 90 فیصد کزن میرجز کا نتیجہ ہیں، پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر کے زیرِ اہتمام اس سیمینار کی صدارت پیڈیاٹرکس کی کورس ڈائریکٹر پروفیسر عمارہ جمال اور کورس کو آرڈینیٹر ڈاکٹر امبر کامران پیڈز کارڈیالوجسٹ جبکہ ڈاکٹر مصباح حنیف ، ا سسٹنٹ پروفیسر کلینیکل جینیٹیکس، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزنے

طلبہ سے گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ جینیاتی عوارض کی تشخیص کے لیے کروموسو م کی خرابی معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ خلیوں کی تقسیم کے عمل مائٹوسس اور میوسس میں تبدیلی کی وجہ سے جینیاتی مسائل سامنےآتے ہیں، انہوں نے جینیاتی بیماریوں سے متعلق پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وسائل کی عدم دستیابی، تربیت یافتہ افراد کی کمی، خاندانی معاملات میں منفی رجحانات ، خاندان میں امتیازی سلوک کا خوف ، ثقافتی اور مذہبی کلچر کی دشواریاں ہیں، انہوں نے جینیٹک کلینک کے قیام ، جینیاتی مسائل کے حل میں درپیش رکاوٹوں، وسائل اور تربیت یافتہ افراد کی کمی، امتیازی سلوک کے خوف اور دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا، ڈاکٹر مصباح حنیف نے مختلف جینیاتی بیماریوں ولیمز سنڈروم ، ہنٹگنٹن سنڈروم اور ورنر سنڈروم کے رپورٹ ہونے والے مختلف مریضوں کی کیس اسٹڈیز پر بھی روشنی ڈالی آخر میں انہوں نے طلبا کی سہولت کے لیے مختلف مریضوں کی کیس اسٹڈیز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 21 سالہ مریضہ میں ٹرنر ز سنڈروم نامی جینیاتی مرض کی تشخیص ہوئی تھی، لڑکی دماغی طور پر ٹھیک تھی ، لیکن اسے چھوٹے قد،بانجھ پن اور جینیاتی بیماریوں سے متعلق سما جی مسائل کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا ہوا، اور اس کی والدہ کو اصل بیماری سے زیادہ اس چیز کی فکر تھی کہ لڑکی کی شادی ہوجائے گی تو مسئلہ حل ہوجائے گا جبکہ مریضہ اپنی حالت کا ذمہ دار والدہ کو قرار دیتی تھی،لہٰذااہلِ خانہ سے ڈی این اے پر بات چیت کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ ایسے مسائل پر گفتگو کو آگے بڑھایا جاسکے، ا ن کا مزید کہنا تھا کہ ایک مریض ایسا آیا جسے دیکھ کر لگا کہ اسے ورنر سنڈروم ہے کہ اسے قبل از وقت بڑھاپا آنا شروع ہوجاتا ہے، جو مریض آیا تھا اس کے 2 بہن، بھائی اور بھی تھے، ان کی والدہ یہ سننے کو تیار نہیں تھی کہ اسے کوئی خاص بیمار ی ہے، ان کے خاندان میں شادیاں ہوتی رہی ہیں، اور ایسا کوئی مریض پہلے یہاں رپورٹ بھی نہیں ہوا تھا،ان کی توجہ صرف اس چیز پر تھی کہ بچے کا بخار ٹھیک کردیں، اسے نزلہ ہے وہ ختم ہوجائے، جس کے باعث ان کی بہت زیادہ کاؤنسلنگ کرکے انہیں سمجھایا گیا، بعدازاں سنگل جین میوٹیشن سامنے آئی تھی،اور اس میں اے سی پی ایچ ڈی سنڈروم کی تشخیص ہوئی تھی، انہوں نے تاکید کی کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ بچے کو کوئی جینیاتی بیماری ہے تو ٹیسٹ نہیں کراسکتے تو کم از کم اس کی کاؤنسلنگ کریں،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کزن میرجز کی بڑھتی شرح کو روکنے کے لیے ہمیں کاؤنسلنگ کرنا چاہیے ، انہوں نے جینیاتی بیماریوں کی تشخیص کےمختلف طریقے بھی بیان کیے کہ کروموسوم کی خرابی معلوم کرنے کے لیے کیریوٹائپنگ کی جاتی ہے،فِش(فلوریسنس ان سیٹو ہائبرڈائزیشن) ، پی سی آر، مائیکرو ایرےاور این جی ایس نامی مختلف ٹیسٹس کے ذریعے جینوم اور ڈی این اے کی خرابیوں کا پتہ لگایا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرپروفیسر محمد سعید قریشی کی ہدایت پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں پیڈیاٹرک جینیٹک کلینک قائم کیا جارہا ہے تاکہ مریضوں کو اس حوالے سے مفت کاؤنسلنگ دی جائے، ان کا کہناتھا کہ ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں اس حوالے سے ایک لیبارٹری قائم کی گئی ہے ، اب ہمیں اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم جینیاتی بیماریوں پر توجہ مرکوز کرسکیں،جس میں ہم ملٹی جین پینل کو شامل کریں، ابھی اس پر کام شروع کیا جارہا ہے، انہوں نے ایک جینیٹک کلینک کے اعداد و شمار بھی پیش کیے جس کےمطابق 138 مریضوں کو کاؤنسلنگ دی گئی تھی جن میں سے50 فیصد مریضوں کی فیملی ہسٹری تھی اور ان میں سے 90 فیصد کزن

میریجز کا نتیجہ تھیں، ان کا کہناتھا کہ ایم بی بی ایس کے آخر ی برسوں میں ڈاؤ یونیورسٹی میں طلبا کو جینیٹکس پڑھایا جانا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اگلا دور جینیٹکس کا ہی ہے، پاکستان میں درپیش جینیاتی مسائل میں کمی لانے کے لیے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے