پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ کی طبیعت بگڑ گئی

پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ کی طبیعت بگڑ گئی

اسکردو: گلگت بلستان کے ضلع شگر میں پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ کی طبیعت خراب ہوگئی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق ثمینہ بیگ کے پھیپھڑے میں پانی بھرنے کے باعث ان کی طبیعت بگڑگئی جس کے بعد انہیں اسکردو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

نومنتخب ایرانی صدر کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی جگہ مسعود پزشکیان نئے صدر منتخب ہو گئے۔

ایرانی سفارت خانے مطابق مسعود پزشکیان اسلامی جمہوریہ ایران کے 9ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں، 69 سالہ ایران کے نومنتخب صدر مسعود پزشکیان ہارٹ سرجن ہیں۔

نومنتخب صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے تبریز یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی، وہ تبریز کی میڈیکل یونیورسٹی میں پروفیسر بھی ہیں۔

مسعود پزشکیان دوسری اصلاحاتی حکومت میں صحت اور طبی تعلیم کے وزیر تھے وہ 5 بار ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور ایک بار اس کے نائب صدر بھی رہے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے 1994ء میں کار حادثے میں بیوی اور ایک بچے کی موت کا صدمہ برداشت کیا، بیوی کی موت کے بعد انہوں نے دو بیٹوں اور بیٹی کی پرورش کی جبکہ دوسری شادی نہیں کی۔

ایران میں نئے صدر کا انتخاب ہوگیا، حجاب قانون تبدیل ہوگا یا نہیں؟

اس حادثے کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور صدر محمد خاتمی کے دور حکومت میں بطور ڈپٹی وزیر صحت اور بعد میں وزیر صحت کے طور پر خدمات انجام دیں۔

2022ء میں پولیس حراست میں جاں بحق ہونے والی نوجوان لڑکی مہسا امینی کی موت کے بعد مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ حجاب نہ پہننے پر لڑکی کو گرفتار کرنا اور پھر اس کی لاش اس کے گھر والوں کو واپس کرنا اسلامی ملک میں ناقابل قبول ہے۔

مسعود پزشکیان 2008ء میں ایرانی شہر تبریز سے رکن اسمبلی منتخب ہوتے آئے ہیں، وہ 2016ء سے 2020ء کے درمیان ڈپٹی اسپیکر بھی رہے جبکہ 2021ء کے صدارتی الیکشن میں انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران کے صدارتی الیکشن میں مسعود پزشکیان نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ایران، صدارتی الیکشن مسعود پیزشکیان جیت گئے

غیر ملکی خبر ایجنسی مطابق ایرانی صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے (رن آف) میں اصلاح پسند امیدوار مسعود پزشکیان ایک کروڑ 63 لاکھ ووٹ لے نئے صدر منتخب ہوگئے جبکہ ان کے مدمقابل رجعت پسند سعید جلیلی ایک کروڑ 35 لاکھ ووٹ لے سکے۔

صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ٹرن آؤٹ تقریباً 50 فیصد رہا جبکہ صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں ووٹر ٹرن آؤٹ 40 فیصد تھا، پہلے مرحلے میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ 1979ء کے بعد سے سب سے کم تھا۔

28 جون کے صدارتی الیکشن میں کوئی امیدوار مطلوبہ 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا۔