نیب کی جانب سے جاری کردہ نوٹس  غیرقانونی ہیں، وہ 24 دسمبر کو نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، سلیکٹڈ حکمرانوں کی لیول یہ ہے کہ ایک بیٹے کو ماں کی برسی منانے نہیں دے رہے : چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے جاری کردہ نوٹس  غیرقانونی ہیں، وہ 24 دسمبر کو نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ سلیکٹڈ حکمرانوں کی لیول یہ ہے کہ ایک بیٹے کو ماں کی برسی منانے نہیں دے رہے۔ ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی اسی مقام پر منانے ضرور جائیں گے، جہاں انہیں شہید کیا گیا تھا، اور ہمیں وہاں جانے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سیل بلاول ہاوَس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جب سابق چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں یہ قرار دیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کا نام جے آئی ٹی میں شامل کرنا ناانصافی ہے، تو اس کے باوجود نیب کی جانب سے نوٹس جاری کرنا سیاسی انتقام کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا ” میں جب بھی کوئی سیاسی قدم بڑھاتا ہوں، تو نیب مجھے نوٹس ارسال کردیتا ہے۔ میں گرفتاری سے نہیں ڈرتا، اور ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھائیں۔ سلیکٹڈ حکومت کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ میں جیل سے باہر اتنا خطرناک نہیں ہوں، جتنا جیل کے اندر ہوسکتا ہوں”۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت حزبِ اختلاف کے ہر سرگرم اور تنقید کرنے والے رہنما و کارکن کو گرفتار کر لیتی ہے۔ جھوٹی مقدمات بناکر میڈیا ٹرائیل کیا جاتا ہے اور سزا کے بغیر جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ نیب چیئرمین نے کہا تھا کہ ہواوَں کے رخ بدل رہے ہیں، لیکن تاحال مالم جبا اسکینڈل میں کوئی پیش رفت نظر آئی ہے اور نہ ہی حکمران جماعت کے کسی وزیر یا رہنما کو کرپشن مقدمات کے باوجود گرفتار کیا گیا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ حکومت کی جانب سے جاری یکطرفہ احتساب کو روکے گی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کی گرفتاری کی مذمت کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جلد وطن واپس آئِن گے اور اپنا کردار نبھائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں گئس کی قلت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جو صوبہ سب سے زیادہ گئس پیدا کرتا ہے اس کی عوام کو لوڈشیڈنگ کے ذریعے اپنے حق سے محروم رکھنا بڑی ناانصافی ہے۔ آرمی چیف کے ایکسٹینشن کے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس معاملے پر انہیں حکومت کی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ اس موقعے پر سینیٹر شیری رحمان، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب، وقار مہدی، سہیل انور سیال اور دیگر رہنما بھی پارٹی چیئرمین کے ہمراہ موجود تھے۔