6 فلائی اوورزاور دیگر ترقیاتی منصوبے 7 فروری کو مکمل ہوجائیں گے : گورنرسندھ

ڈیزائن کی تبدیلی کے باعث وقت لگا ، وفاق بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کررہا ہے  : عمران اسماعیل
وزیر اعظم کو شہر میں جاری اور ڈیزائن کردہ منصوبوں سے متعلق بریفنگ دیں گے ۔ میڈیا سے بات چیت
کراچی  :  گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ گرین لائن منصوبہ سمیت شہر کے متعدد ترقیاتی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن میں سے نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں زیر تعمیر 6 فلائی اوورز ،نشتر روڈ اور منگھو پیر روڈ، بنارس سے لولین برج ،تک کے منصوبے 7 فروری تک مکمل ہو جائیں گے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے ٹریفک کی روانی میں بھی بہت بہتری آئے گی جبکہ گرین لائن منصوبہ کی جلد از جلد تکمیل کے لئے وفاق نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کرینگے کہ وہ مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح 7 فروری کو کراچی آکر کریں۔شہر کی ترقی کے لئے وفاق سے 8 ارب روپے موصول ہو چکے ہیں۔

وزیرا عظم کے دورہ کراچی کے دوران انھیں شہر کے جاری اور ڈیزائن کردہ منصوبوں سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ عوام کی مشکلات کو جلد از جلد حل کیا جا سکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاق کے زیر انتظام جاری ترقیاتی منصوبہ گرین لائن کے دورہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس سے قبل گورنرسندھ کو متعلقہ افسران نے منصوبہ کی پیش رفت اور وقت مقررہ پر مکمل کرنے کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ اس موقع پر گورنرسندھ نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ منصوبہ کو ہر صورت مقررہ وقت پر ہی مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ سفری سہولیات فراہم کی جاسکیں ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی اس منصوبہ کے ڈیزائن کی تبدیلی کے باعث کچھ وقت لگا اس منصوبہ میں معذور افراد کے لئے بھی زبردست سہولیات رکھی گئیں ہیں تاکہ وہ بھی وہیل چیئر کے بغیر اس سفری سہولت سے استفادہ حاصل کرسکیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاق پورے ملک کی یکساں ترقی کے وژن پر گامزن ہے شہر کے پانی ، ٹرانسپورٹ، ویسٹ مینجمنٹ اور عوام کو درپیش دیگر مسائل کو بھی ہر صورت حل کیا جائے گا،بدقسمتی سے کراچی کے مسائل کو ماضی میں نظر انداز کیا گیاجس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے لیکن وفاق اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس منصوبہ کو مقررہ وقت پر مکمل کرانے کے لئے اپنی بھرپورکا وشیں بروئے کار لارہا ہے۔

گورنرعمران اسماعیل نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان جمعہ کے روز کراچی کا دورہ کرینگے ۔وزیر اعظم کو سندھ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے تحت کراچی میں وفاق کی طرف سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ کو کراچی کی محبت میں مکمل کررہے ہیں اس میں کچھ وقت ضرور لگا۔ گرین لائن اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی فنڈنگ کے حوالہ سے فنڈنگ کرنے والے اداروں کے درمیان معاہدہ ہوگیا ہے جس کے بعد ترقیاتی منصوبوں کی پی سی جلد مکمل کرلی جائیں گی ۔ ایک او ر سوال کے جواب میں کہا کہ اورنج لائن کے لئے بھی صوبائی حکومت نے وفاق سے رابطہ کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ وزیراعظم کے درمیان ملاقات کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے اس سے وفاق اور صوبہ کے درمیان جاری منصوبے بروقت مکمل کرنے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ کراچی والے تکلیف سے گذر رہے ہیں ،نمائش چورنگی کوریڈور شہریوں کے لئے تحفہ ہے ، وزیر اعظم کی ہدایت پر منصوبوں کا دورہ کرنے آیا ہوں کیونکہ وزیراعظم نے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے ،

شہر کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈ جاری کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے شکر گذار ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی فنڈنگ سے سندھ بھر میں مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے فنڈ کی کمی کی وجہ سے منصوبہ مقررہ تاریخ پر مکمل نہیں ہوا، وفاقی فنڈنگ سے جاری تمام منصوبوں کا معیار اچھی طرح دیکھیں گے، گرین لائن منصوبہ میں وفاق کاکام انفراسٹریکچر بناناتھا وزیراعظم نے اس منصوبہ کی ٹرانسپورٹ بھی فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی ۔ میئر کے حوالہ سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ میئر کو طاقتور ہوناچاہئے تاکہ وہ بھرپور دلچسپی سے ترقیاتی کام کرواسکے شہر کی ترقی کے لئے کے ایم سی (KMC)اور میئر کو جو بھی مدد درکار ہوگی وہ فراہم کرینگے،کے ایم سی فائرٹینڈر کی خریداری کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایاہے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ کمپنی ماضی سے چل رہی ہے پہلے تو کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا خواہش ہے کہ جلد بازی میں ملک کا نقصان نہ ہو سکے ۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ پورے ملک میں بلدیاتی الیکشن ہوتے نظرآرہے ہیں لگتا ہے کہ آئندہ برس بلدیاتی انتخابات ہونگے میئر پی ٹی آئی کا ہو یا کسی اور پارٹی کا لیکن بااختیار ہونا چاہئے۔