سردی کی من پسند غذا مچھلی کے معیار کی یقینی فراہمی کی کاوش : پنجاب بھر میں مچھلی فروشوں کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی چیکنگ مہم

 
صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں 230فش پوائنٹس کی چیکنگ،ناقص انتظامات پر3سیل،53کو بھاری جرمانے عائد
سابقہ ہدایات پر عمل نہ کر نے،رینسڈ آئل کے استعمال،بدبودار ماحول کی بناء پرفش پوائنٹس کو سیل کیا گیا۔
 بھاری مقدار میں مچھلی کو نیلے ڈرموں میں زہریلے کیمیکل اور مصالحہ جات ڈال کر سٹور کیا گیا تھا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی
 استعمال شدہ آئل کو دوبارہ خوراک کی تیاری میں استعمال کرنا سنگین جرم ہے۔عرفان میمن
لاہور23دسمبر:ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی عرفان نواز میمن کی ہدایت پر صوبہ بھر میں مچھلی فروشوں کے خلاف چیکنگ مہم کے دوران ناقص انتظامات پرغیر معیاری انتظامات پر 3فوڈ پوائنٹس کو سیل کرتے ہوئے متعدد فوڈ پوائنٹس کو اصلاحی نوٹسز جاری کردیے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سردی کی من پسندغذا مچھلی کے معیار کی یقینی فراہمی کی کاوشوں کیلئے صوبہ بھر میں مچھلی پوائنٹس کی چیکنگ کی ہے۔ مختلف اضلاع میں 230فش پوائنٹس کی چیکنگ کے دوران مضر صحت اجزاء کے استعمال پر3کوسیل کردیا ہے۔راولپنڈی میں آئس اینڈ سپائس،اٹک میں مائی فوڈ جبکہ گجرات میں صوفی جی فش پوائنٹ کو سربمہر کیا گیا۔اسی طرح ناقص انتظامات  پر 53کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔لاہور زون میں 81،راولپنڈی83،ملتان39جبکہ مظفر گڑھ میں 27پوائنٹس کو چیک کیا گیا۔مزید برآں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں پر174کو اصلاحی نوٹسزجاری،9کے لائسنس اپلائی کروائے گئے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ سابقہ ہدایات پر عمل نہ کر نے،رینسڈ آئل کے استعمال،گندے اوربدبودار ماحول کی بناء پرفش پوائنٹس کو سیل کیا گیا۔ بھاری مقدار میں مچھلی کو نیلے ڈرموں میں زہریلے کیمیکل اور مصالحہ جات ڈال کر سٹور کیا گیا تھا۔ استعمال شدہ گندے تیل میں فرائی کر کے مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہے۔عرفان میمن کا مزید کہنا تھا کہ استعمال شدہ آئل کو دوبارہ خوراک کی تیاری میں استعمال کرنا سنگین جرم ہے۔صحت بخش خوراک کی فراہمی تک پنجاب فوڈ اتھارٹی کارروائیاں جاری رکھے گی۔