تسکین ظفر۔ 40 سال تک پی ٹی وی اسکرین پر جگمگاتی رہیں


تحریر: سہیل دانش
آج ذہن کے فریم میں وہ دھندلی سی تصویر چمکنے لگی ہے۔ آج محسوس ہورہا ہے کہ بہت سی بھولی بسری تصویروں کی طرح یہ تصویر بھی میرے ذہن میں چپکی ہوئی تھی۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ تصویریں پوری کہانی پوری تاریخ،پورا ناول ہوتی ہیں۔ اِس تصویر کے پیچھے نہ جانے کیوں مجھے پاکستان ٹیلی ویژن کی پوری داسان لکھی نظر آرہی ہے۔ ڈیجیٹل سائنس کا کمال نہ جانے کتنے زاویوں سے مجھے یہ تصویر دکھارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو زبان کا تحفہ دیا ہے لیکن انسان نے تصویروں کو زبان دے کر اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کردیا۔ آپ کوئی پینٹنگ کوئی فوٹو گراف سامنے رکھ کر بیٹھ جائیں آپ پانچ منٹ تک اسے غور سے دیکھیں تو وہ تصویر آپ کو بولتی نظر آئے گی لیکن آج وہ تصویر جو اُبھر کر میری نظروں کے سامنے آئی ہے وہ تو خاموش ہے وہ تو بولتی نہیں اُس نے اپنی پُرسکون آنکھیں جیسے موندلی ہوں اور وہ آواز جیسے خاموش ہوگئی ہو۔ یہ محترمہ تسکین ظفر ہی تو ہیں۔ چاردہائیوں تک ہم سب پی ٹی وی کے خبرنامہ میں اُن کی خوبصورت آواز سنتے رہے۔ دو نسلیں اُن کی آواز سے مانوس ہوئیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آخری ایام میں اُن کی چمک دمک کچھ بجھ سی گئی تھی۔ زندگی میں آپ کو ایسے بہت کم لوگ ملتے ہیں شہرت جن کی عجزوانکسار کم نہیں ہونے دیتی تفکرات کی جتنی لکیریں اُن میں پیوست ہوجائیں خوشدلی اور دل موہ لینے والا اُن کا انداز اور رویہ پھیکا نہیں پڑتا۔ یہ تسکین ظفر کا ارادہ، لگن ہی تھا۔ یہ اُن کا اسلوب، اسٹائل اور لہجہ تھا تلفظ کی خوبصورتی تھی یہ اُن کی تربیت تھی کہ ہم روزانہ 70، 80، 90 کی چار دہائیوں میں اُن کی پُرکشش آواز سننے کے عادی ہوگئے تھے۔ اُس زمانے میں دھیمے لہجے میں دُرست تلفظ کے ساتھ اپنی سندر آوازوں کا جادوجگانے والے کیسے کیسے پرفیکٹ نیوز کاسٹرز پی ٹی وی کی اسکرین پر جگمگائے اِن میں تسکین ظفر ماہ پارہ صفدر، اظہر لودھی اور انگریزی میں شائستہ زید میری پسندیدہ نیوز کاسٹرز تھیں اسلام آباد اور لاہور پی ٹی وی کے زیادہ تر جوہر قابل سے

متعارف کرانے والے میرے بہت ہی عزیز دوست برادرم عبیداللہ بیگ تھے۔ اللہ پاک اُنہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کیا نفیس اور شاندار انسان تھے۔ کراچی سے لے کر اسلام آباد تک ہر شعبے کا ہنرمند اور فنکار اُنہیں عزت و تعظیم کی نظر سے دیکھتا تھا تسکین ظفر سے پہلا تعارف اُنہوں نے ہی کرایا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ راولپنڈی میں رہا کرتی تھیں ہم نے 1983 یں اخبارِ جہاں کے لئے اُن کا ایک انٹرویو بھی کیا تھا۔ بظاہر وہ ایک سنجیدہ اور متین خاتون تھیں لیکن اُن کی گفتگو میں سنجیدہ موضوعات پر ایک رائے اور ویژن بھی تھا اور ساتھ ساتھ مزاح کی پھلجڑیاں اور دیگر معاشرتی اور سماجی معاملات پر ایک پختہ رائے رکھتی تھیں مجھے یہ بات بھی یاد ہے کہ اُس وقت اُن کے کمرے میں پاکستانی تاریخ کی چند نادر تصاویر لگی ہوئی تھیں میں نے اُن سے دریافت کیا ہم سیاست پر بات کرسکتے ہیں۔ یہ ضیاء الحق کا دور تھا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی ہوچکی تھی اور مارشل لاء کی تیور خاصے خوفناک تھے اُنہوں نے کہا آپ کا سوال کیا ہے میں نے پوچھا یہ سب کچھ ہمیں خواب لگتا ہے۔ آزادی کے 36 سال بعد یہ دو نسلوں کا سفر ہے آزادی، ہجرت قربانیاں ایک نئے وطن کی تشکیل، خواب تو یہ تھا کہ آزادی سے ہماری تمام تکلیفیں دُکھ درد ختم ہوجائیں گے ہم بھی ایک نیا سویرا دیکھ پائیں گے۔ جس میں عدل ہوگا انصاف ہوگا میرٹ ہوگا اور بنیادی انسانی حقوق ہوں گے۔ وہ ذرا دیر سوچتی رہیں۔ پھر بڑے محتاط انداز میں بولیں کہ لگتا تو یہی ہے کہ اب تک بہت کچھ ادھورا رہ گیا ہے ایک اعلیٰ پائے کی نیوز کاسٹر کے علاوہ کون ہماری پُرآشوب تاریخ کے پیچ و خم کا عینی شاہد ہوسکتا تھا۔ لیکن اب وہ آواز ہمیشہ میشہ کے لئے خاموش ہوگئی ہے۔ پی ٹی وی نے اس میڈیم کے کیا کیا گوہر نایاب پیدا کئے آج یہ لکھتے ہوئے یقین نہیں آرہا کہ طارق عزیز کو رخصت ہوئے چار برس بیت گئے اُنہوں نے زندگی کا سنہری دور “نیلام گھر” سے گھر کی سی محبت اور لگاؤ میں گزاردیا۔ مجھے کراچی ٹی وی اسٹیشن کے جی ایم عبدالکریم بلوچ بھی یاد ہیں جن لوگوں سے اُن کی شناسائی رہی وہ محسوس کرسکتے تھے کہ سندھی ثقافت و معاشرت میں محبت اور اپنائیت کا رنگ کیسا ہوتا ہے کئی معرکۃ الاراء ڈراموں اور ناولز کے رائٹر جناب شوکت صدیقی نارتھ ناظم آباد میں ہمارے پڑوسی تھے جنہیں انسانی معاشرت تہذیب و تمدن اور زبان و لسان کی داستان بیان کرنے پر عبور حاصل تھا 80 کی دہائی میں جب بھی کراچی ٹی وی جانے کا اتفاق ہوتا تو ایک سے بڑھ کر ایک پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے کمروں کے باہر لگی ناموں کی تختیاں جن کا نام نہیں کام بولتا تھا جن کی صلاحیت اور ٹیکنیکی مہارت کے باہمی ملاپ سے پھوٹنے والی چنگاریوں نے ایک دھوم مچارکھی تھی، کاظم پاشا، ظہیر خان، قاسم جلالی، اقبال انصاری، تاجدار عادل جیسے باکمال لوگوں کی کامیابیاں دیکھیں۔ برادرم تاجدار عادل سے مِل کر احساس ہوتا تھا کہ نشست و برخاست کا سلیقہ اور قرینہ کسے کہتے ہیں مختلف شعبوں سے منسلک اداکاروں، پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز، ٹیکنیشنز، کہانی نویسوں، ڈرامہ نگاروں اور دیگر شعبوں کا احاطہ کرنا تو درکنار صرف نام لکھنے بیٹھیں گے تو مضامین کی ایک سیریز لکھنی پڑے گی۔ پی ٹی وی ہی ہے جس پلیٹ فارم سے نعیم بخاری، انور مقصود، معین اختر اور عمر شریف جیسے باکمال لوگ ناظرین کے ذہنوں پر چھاگئے یہاں شہزاد خلیل کو یاد کرنا تو بنتا ہے یہ زندگی کی طویل اننگز نہ کھیل سکے۔ لیکن اپنی فنی صلاحیت کی بدولت وقت سے کئی گنا زیادہ فنی بازیگری دکھاگئے جب ان کا نام آئے گا تو مرینہ خان اور شہناز شیخ کی شوخیوں اور شرارتوں کو کون بھول سکتا ہے حسینہ معین کے قلم نے معاشرے کے جگمگ کرتے گلیمر اور فاطمہ ثریا بجیا کی قلمی کاوشوں نے حقیقت پسندانہ تلخ کرواہٹ کڑوے کسیلے حقائو کو اِس طرح اُجاگر کیا کہ کچھ ڈھکا چھپا نہ رہا۔ اگر کہانی میں حقیقت کا رنگ بھرنا ہو تو نصرت ٹھاکر کی ہدایتکاری کو مثال بنایا جاسکتا ہے نام لیتے جائیں ہر کوئی ایک نئے رنگ کے ساتھ ہم سب کی داد سمیٹا نظر آئے گا۔ ان تمام شاہکار لوگوں کی زندگی پر ایک کتاب لکھی جانی چاہئے بلکہ سرکاری سطح پر اس کا اہتمام ہونا چاہئے ضیاء محی الدین جیسے باکمال فنکار، صداکار، براڈکاسٹر کی صلاحیتوں اور ہرفن مولا جدتوں کو ایک مضمون میں سمیٹنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہاں بہت ہی محبت کرنے والے برادرم عبیداللہ بیگ کو کیسے بھول سکتے ہیں وسیع المطالعہ اور ہر ایک کے ساتھ شفقت سے پیش آنے والے اور اپنے ساتھیوں باغ و بہار شخصیت کے مالک افتخار عارف اور کمپیوٹر کی طرح برق رفتار حاضر دماغ قریش پور کے ساتھ ایک طویل عرصے تک پی ٹی وی سے منسلک رہے فریال گول جیسا دلکش چہرہ بشریٰ انصاری جیسی ورسٹائل فنکارہ اور عابد علی جیسا کردار میں حقیقت کا رنگ بھردینے والا، یادگار ڈراموں کی ایک طویل قطار، حالات حاضرہ کے دلچسپ اور بروقت پروگرام درجنوں نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں فنکار صاحب دانش اور اس میں اپنا رنگ بھرکر اسے زیادہ دلکش اور پُروقار بنانے والے بے شمار نیوز کاسٹرز، نیوز پروڈیوسرز اور اس نیٹ ورک سے منسلک دنیا میں پھیلےنمائندے، ان تمام سینٹرز کے کوریڈور کی رونقیں سرگوشیاں، باہم تعلقات، گپ شپ قہقہے اور آپس کے بننے والے رشتے، اس کے علاوہ عزم و ہمت اور صلاحیت کی ہزاروں داستانیں پی ٹی وی کے متعلق جب بھی کوئی کہانی لکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں نہیں بلکہ معجزے ہیں یہ سفر نہیں ہے بلکہ حوصلہ مندی، صلاحیت اور مسلسل محنت کی داستان ہے جہاں پی ٹی وی سینٹرز کے احاطے میں کئی سمتوں میں کی جانے والی کاوشیں ہیں وہاں ہم نے کئی بار اِن سینٹرز کو فوجی ٹرکوں کے حصار میں اور جوانوں کو ان کی دیواروں پھلانگتے ہوئے بھی دیکھا یہ ہماری قومی زندگی میں تبدیلی اور نئے سفر کا ایک رُخ ہے۔ تسکین ظفر کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ اُنہوں نے پی ٹی وی کے علاوہ ریڈیو پر بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اُنہوں نے 4 دہائیوں تک پی ٹی وی پر اپنی آواز اور انداز سے ناظرین کو متاثر کیا۔ موسیقی کے متعدد پروگراموں کی میزبانی کی۔ وہ پی ٹی وی پر تعلقات عامہ کی ایگزیکٹیو آفیسر بھی رہیں۔ کچھ عرصے سے وہ ڈپریشن کا شکار تھیں۔ کئی سال قبل اُن کی والدہ کے انتقال نے اُنہیں بہت ڈسٹرب کیا ہوا تھا۔ گذشتہ برس اُنہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ پی ٹی وی نے کئی دور دیکھے اور تسکین ظفر نے اِس کے ساتھ ایک طویل سفر کیا۔ اُنہیں 1998 میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی خبر پی ٹی وی پر سب سے پہلے سنانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ ایسی باصلاحیت شخصیت کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین