جنرل کیسا ہوتا ہے ؟

جنرل کیسا ہوتا ہے ؟
۔۔۔۔
عکرمہ رض اور خالد بن ولید رض آپس میں کزن تھے ۔ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو مخزوم سے تعلق تھا ۔ دونوں کا نام اسلامی تاریخ کے دس عظیم ترین جرنیلوں میں درج ہے ۔ غزوہ خندق کے دوران یہ دونوں مسلمان نہیں تھے لیکن بہادری کا یہ عالم تھا کہ صرف انہی دو نے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر خندق عبور کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی ۔
بے پناہ ذہانت ، بہادری اور فن حرب و ضرب میں کمال مہارت رکھنے کے باوجود مکی دور میں خالد بن ولید رض نے مشرکین مکہ کے رکیک اور گھٹیا منصوبوں اور حرکتوں سے ہمیشہ کنارہ کشی اختیار کیے رکھی ۔
آپ غزوہ بدر میں بھی مشرکین مکہ کے لشکر میں شامل نہیں تھے ۔
غزوہ احد میں شریک ہوئے تو تاریخ نے گواہی دی کہ مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا ، وجہ صرف خالد بن ولید رض تھے ۔ دوسرے پہلو کو فی الوقت رہنے دیں کہ مسلمانوں نے موقع کیسے دیا ۔ یہاں مقصد موقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کا بیان یے ۔
خالد بن ولید اور عکرمہ رضی اللہ عنہ دونوں ہی السابقون الاولون میں سے نہ تھے ۔
خالد بن ولید رض کی طبیعت شہزادوں والی تھی ۔ رئیس تھے اور خرچ بھی کھل کے کرتے تھے ۔ کبھی کوئی جنگ ہاری نہیں تو مال غنیمت سے بھی وافر حصہ پایا ۔
اسلامی تاریخ میں سے عمر فاروق اور خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ کو منفی کریں تو اسلام واپس حجاز کے مضافات تک نظر آنے لگے گا ۔
دور صدیقی و فاروقی میں روم و فارس زمیں بوس ہوئے !
خالد بن ولید رض کے آن ڈیوٹی آخری ایام روم کے محاذ پر گزرے ۔ تاریخ اسلام کی خون ریز ترین جنگ یرموک ہے جس کی فتح میں ریڑھ کی ہڈی خالد بن ولید رض اور اّن کا کمانڈو دستہ تھا ۔ اسی جنگ میں ابوجہل کا بیٹا عکرمہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے عبدالرحمان کے ہمراہ شہید ہوئے ۔ عربوں میں قبائلی عصبیت منفی مثبت انداز میں ہمیشہ موجود رہی ۔ خالد بن ولید رض کے ایک زانو پر عکرمہ کا سر تھا اور دوسرے زانو پر عبد الرحمن کا سر تھا اور اس عالم میں خالد رض نے آواز لگائی کہ جائے !! کوئی جا کر عمر رض کو بتائے کہ بنو مخزوم نے اسلام پر کیا نچھاور کیا ہے ؟؟
تاریخ اسلام میں علماء کی طرف سے خالد بن ولید رض کی عمر فاروق رض کے ہاتھوں معزولی کی درجنوں تاویلات کی جاتی ہیں ۔
یہ ذاتی چپقلش نہ تھی ۔ یہ حسد کا جذبہ نہیں تھا ۔ یہ محض ڈسپلن کا معاملہ تھا ۔
خالد بن ولید رض اور عمر فاروق رض کے طرز زندگی میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔
خالد رض کا انداز شاہانہ اور رئیسانہ تھا جبکہ عمر رض فقیرانہ بود و باش رکھتے تھے ۔
خالد رض کی زندگی میں ایک خلا تھا ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی دور کی صحبت سے محروم رہے اور جب دامن رسالت سے رشتہ جوڑا تو گھوڑے کی پیٹھ ہی اُن کا گھر قرار پائی ۔ ایک بجلی تھی کہ کوئی رعد !! جس طرف گرتی یا کڑکتا کفر کے اندھیرے چھٹتے ہی چلے جاتے !!
اُن کی معزولی بھی دراصل حکم ربی تھا ۔
یرموک شاید اُن کی اخری جنگوں میں سے تھی ۔ جنگ یرموک بہت سے نابغوں کے لیے ایک عظیم پیغام رکھتی ہے کہ دین اسلام میں ماضی کو گھسیٹ کر حال اور مستقبل پر نہیں تھوپا جا سکتا ۔ آپ کو شاید حیرت ہو کہ مدینہ طیبہ سے ہزاروں کوس دور لڑی گئی اس جنگ میں ابو سفیان رض اپنی زوجہ ہندہ رض کے ہمراہ شریک تھے ۔ ابوسفیان رض کی آنکھیں اسی رومی مہم کے دوران تیر لگنے سے شہید ہوئیں ۔ جنگ یرموک کے دوران تیسرے یا چوتھے دن جب مسلم لشکر پسپائی پر مائل تھا تو مجاہدین پسپا ہوتے ہوتے خواتین کے خیموں تک پہنچ گئے ۔ فلک نے عجیب منظر دیکھا کہ ایک عورت ایک لکڑی ہاتھ میں لیے ایک مسلمان سپاہی کو مارنے دوڑ رہی ہے اور بہ آواز بلند ڈانٹ رہی ہے کہ جب کافر تھے تو بہت بہادر بنتے تھے اج مسلمان ہو کر بزدلی دکھا رہے ہو !! اُس عورت کا نام ہندہ رض تھا اور جس سپاہی کو وہ غیرت دلا رہی تھی اُسے تاریخ ابوسفیان رض کے نام سے جانتی ہے ۔ یرموک میں ابوجہل کا پوتا اور بیٹا اسلام کے لیے قربان ہوا ۔
منظر بدلتا ہے !! ایک بوڑھا ضعیف شخص بستر مرگ پر بے چینی سے کروٹیں لیتے رو رہا ہے ۔
دیکھ بھال پر مستعد اور مامور بیٹی سوال کرتی ہے ” بابا جان !! کیا موت کا خوف ہے ؟؟ “”
بوڑھا ضعیف شخص یک دم مسکرانے لگتا ہے !!
نہیں بیٹا !! کیا تُو نے میرے جسم پر کوئی ایسا مقام دیکھا جہاں زخم کا کوئی نشان نہ ہو !! ؟؟ “”
نہیں بابا جان !! آپ کا تو پورا بدن چھلنی ہے !!
بیٹی نے جواب دیا !
” میں اس لیے رو رہا ہوں کہ گھوڑے کی پیٹھ میرا گھر تھا اور تلوار میرا زیور لیکن موت میری طرف ایسے بڑھ رہی ہے جیسے کسی بوڑھے اُونٹ کی طرف بڑھتی ہے ”
بابا جان !! آپ جانتے ہیں نا !! کہ آپ کو سیف اللّٰہ ( اللہ کی تلوار ) کا لقب کس نے دیا تھا ؟؟
بیٹی سوال کرتی ہے ۔
بوڑھے کی آنکھوں میں چمک اور خوشی کے آنسو لوٹ آتے ہیں ، اُس کے چہرے سے اُداسی پل بھر میں بوریا لپیٹے رخصت ہو جاتی ہے !؟
ہاں جانتا ہوں بیٹا !!
“” تو کس کی مجال کہ وہ اللہ کی تلوار کو میدان میں توڑ سکے !!
الصادق صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر ہے !! آپ کو زیر کرنا نا ممکن تھا ۔ آپ تو بطور مہمان عزرائیل کے ہمراہ جائیں گے !!
بستر مرگ پر دراز جنرل ، مسکراتے چہرے پر دائمی سکون لیے آنکھیں موندھ لیتا ہے !!
بیٹیاں کتنی ذہین ہوتی ہیں !! کتنا دور تک دیکھتی ہیں !! بیٹیوں کے پاس کیسے کیسے مرہم ہوتے ہیں کہ گہرے ترین گھاؤ بھی پل بھر میں بھر جاتے ہیں !
ایسا ہوتا ہے جنرل !!
۔۔۔
عابی مکھنوی