پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر الفرید ظفر سے لاہور جنرل ہسپتال میں نئی تعینات ہونے والی ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ زمرد خورشیدنے ملاقات کی


لاہور(جنرل رپورٹر)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر الفرید ظفر سے لاہور جنرل ہسپتال میں نئی تعینات ہونے والی ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ زمرد خورشیدنے ملاقات کی اور اس ملاقات میں مریضوں کی بہتر نگہداشت، وارڈ مینجمنٹ،ڈسپلن، حاضری اور ریکارڈ اپ ٹو ڈیٹ رکھنے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر فریاد حسین بھی موجود تھے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے جاری کردہ صحت سہولت کارڈ کے بارے میں مریضوں و اُن کے لواحقین کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے سسٹر انچارج کو پابند بنائیں تاکہ ہسپتال میں داخل مریض اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے مفت علاج حاصل کر سکیں۔ پرنسپل نے

ڈی سی این ایس سے کہا کہ وہ اپنی انتظامی و تعلیمی صلاحیتوں کو برؤئے کار لاتے ہوئے ہسپتال کی کارکردگی میں مزید اضافے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں اور مانیٹرنگ اور فیڈ بیک کے میکنزم پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
پروفیسر الفرید ظفر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں دین اور دنیا کی نعمتوں سے سرفراز ہونے کے لئے دیانتداری، فرض شناسی اور پیشہ وارانہ لگن سے ہمہ وقت کام کرنا چاہیے کیونکہ مریض ہیلتھ پروفیشنلز کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہوتے ہیں لہذا ان کی بہتر سے بہتر دیکھ بھال ڈاکٹرزاورنرسز کی اولین ترجیح ہے،ا سی طرح ہسپتال آنے والے مریضوں اور اُن کے لواحقین سے ہمیشہ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔انہوں نے ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ وہ شعبہ ایمرجنسی سمیت تمام ڈیپارٹمنٹس کا دن میں کم از کم دو مرتبہ راؤنڈ کر کے موقع پر صورتحال کا جائزہ لیں اور ڈسپلن، حاضری اور ریکارڈ کو چیک کریں۔پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے نئی تعینات ہونے والی ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ زمرد خورشید کو نئی ذمہ داریاں ملنے پر مبارکباد دی اور انہیں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ زمرد خورشید نے پرنسپل پی جی ایم آئی اور ایم ایس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اُن کے لئے یہ ذمہ داری کسی اعزاز سے کم نہیں کہ انہیں اس تاریخی ہسپتال میں کام کرنے کا موقع ملا ہے اور وہ حکومت، ہسپتال انتظامیہ اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے ہر کوشش برؤئے کار لائینگی۔
=========================

لاہور(جنرل رپورٹر)جنرل ہسپتال کی نرس نے فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2قیمتی جانیں بچا لیں
پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر کا نرس کی پیشہ وارانہ مہارت کی تعریف، تعریفی سرٹیفکیٹ کا اعلان
لاہور21جون:……جنرل ہسپتال لاہور کی نرس نے فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماں بیٹی کو بچا لیا، جمعۃ المبارک کی دوپہر کو نشتر ٹاؤن کے علاقہ سے 24سالہ حاملہ خاتون طاہرہ علی کو عین وقت پر اہل خانہ گاڑی میں لے کر ایل جی ایچ شعبہ ایمرجنسی آرہے تھے کہ راستے میں ہی مذکورہ خاتون نے بچی کو جنم دے دیا۔ ہسپتال پہنچنے پر طاہرہ علی کے عزیزو اقارب نے ڈیوٹی پر موجود نرس رابعہ یونس کو نازک صورتحال کے متعلق بتایا، صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے نرس رابعہ یونس نے اپنی ساتھیوں سمیت فوری طور پر گاڑی میں جا کر ذچگی کے عمل کو مکمل کروایا اور ماں بیٹی کو لیبر روم میں منتقل کیا گیا، جہاں دونوں خیریت سے ہیں۔
پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے نرس کی فرض شناسی اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہتے ہوئے نرس رابعہ یونس کیلئے تعریفی سرٹیفکیٹ کا اعلان کیا، جس نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے 2قیمتی جانیں بچا لیں۔ طاہرہ علی کے اہل خانہ نے انسانیت کی عظیم خدمت پر نرسنگ سٹاف اور ہسپتال انتظامیہ کا شکریہ ادا کی اور تعریف کیا۔
====================
لاہور(جنرل رپورٹر)یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز اور فارمیسی کے بورڈز آف سٹڈیز کا مشترکہ اجلاس جمعہ کے روز وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائنسز اور ڈاکٹر آف فارمیسی پروگرامز کے اکیڈمک کلینڈرز بشمول داخلوں کے شیڈول کی منظوری دی گئی۔ یہ اکیڈمک کلینڈر یونیورسٹی اور الحاق شدہ کالجز دونوں کے پروگرامز پر لاگو ہوگا۔ کلینڈر کے مطابق خزاں سمسٹر کے داخلے 15جولائی تک مشتہر کر دیے جائیں گے۔ انٹری ٹیسٹ اگست کے پہلے ہفتے میں لیا جائے گا۔ پہلی میرٹ لسٹ اگست کے وسط میں جاری کی جائے گی اور بی ایس اور ڈاکٹر آف فارمیسی کے داخلے 30 ستمبر تک مکمل کرلیے جائیں گے۔ خزاں سمسٹر کی کلاسز یکم اکتوبر سے شروع ہوں گی اور 8 فروری تک پہلے سمسٹر کا کورس مکمل کرلیا جائے گا۔ پہلے سمسٹر کے فائنل امتحانات 17فروری سے شروع ہوں گے۔ بہار سمسٹر کے داخلے جنوری میں شروع کیے جائیں گے اور کلاسز اپریل میں شروع ہوں گی۔ کالجز اپنے وسائل کے مطابق بی ایس پروگرامز کیلئے سال میں دو مرتبہ داخلے کرسکیں گے۔ البتہ فارمیسی میں داخلے سال میں ایک مرتبہ ہوں گے۔ اجلاس میں پرو وی سی یو ایچ ایس پروفیسر نادیہ نسیم، رجسٹرار کرن فاطمہ اورالحاق شدہ اداروں کے سربراہان موجود تھے۔
===================


لاہور(جنرل رپورٹر)گورنرپنجاب سردارسلیم حیدرخان نے کہاکہ کیڈٹ کالج حسن ابدال اعلی روایات کاامین ادارہ ہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار کیڈٹ کالج حسن ابدال کے103ویں بورڈآف گورنرزکے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں اراکین بورڈآف گورنرز چیرمین پی اوایف لیفٹیننٹ جنرل طاہرحمید شاہ،, پرنسپل کیڈٹ کالج حسن ابدال بریگیڈیرناصرسعیدخٹک، محمدسعیدمہدی، محفوظ الرحمن،بریگیڈیرڈاکٹرمحمد خلیق الرشیدکیانی،لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان،پروفیسر ڈاکٹرظفرعلی چوہدری،ڈاکٹراعجازمنیر،وائس چانسلرفاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی ڈاکٹرعذیرہ رفیق،ماہرتعلیم ڈاکٹرصائمہ صدیقی،سیکرٹری سکول ایجوکیشن حکومت پنجاب ڈاکٹر احتشام انورایڈیشنل سیکرٹری فنانس حکومت پنجاب میررضااوزگن اورکمشنرراولپنڈی کی نمائندہ ڈائریکٹرڈویلپمنٹ وفنانس راولپنڈی نازیہ اکبربھی موجودتھیں۔اجلاس میں سالانہ بجٹ کی منظوری دی گی اور کالج سے متعلقہ اہم امور زیرغور آئے۔گورنرپنجاب نے کہاکہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کی ترقی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
=======================

لاہور (مدثر قدیر ) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ساہیوال اور خانیوال واقعہ پر حکومت کو نااہل قرار دے دیا,معاملے پر جوڈیشل انکوائرای کرانے کا مطالبہ ,تفصیلات کےمطابق پی ایم اے ہاؤس میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پروفیسر اشرف نظامی کا کہنا تھا ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت پنجاب نے سانحہ ساہیوال اور سانحہ خانیوال میں بدحواسی، بدانتظامی اور ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کا مظاہرہ کیا وہ قابل مذمت ہی نہیں بلکہ حکومت پنجاب کی بدنامی کا باعث بھی بنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محکمہ صحت نے Erractic تعیناتیوں کا جمعہ بازار محکمہ صحت کی نااہل بیوروکریسی نے لگا رکھا ہے۔ سانحہ ساہیوال میں بیوروکریسی کو کیا سزا دی گئی ہے۔یہ حقیقت واضح ہو چکی کہ آگ بھڑکنا ناقص وائرنگ، لٹکتی تاروں اور دو نمبر ائر کنڈیشنگ کے سبب ہوا۔ اور یہ سب Revamping تماشے کا شاخسانہ تھا۔ تو اس کام کے انجینئرز، MR ڈیپارٹمنٹ، کمیونکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے پیراسائیٹ اور ٹھیکیدار تو منظر میں نظر ہی نہیں آ رہے اور مدعا ڈاکٹروں پر ڈال دیا گیا۔انھوں سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ساہیوال ہسپتال میں سانحہ کے بعد بورڈ آف مینجمنٹ نام کا سفید ہاتھی کہیں بھی نظر نہیں آ رہا جس میں مخصوص مفادات کے تحت اقربا پروری کرتے ہوئے مخصوص بندے لگائے گئے۔ اس جرم کے مرتکب بورڈ آف مینجمنٹ اور بیوروکریسی کو چارچ شیٹ نہیں کیا گیا۔ یہ حقیقت نہیں کہ ہیلتھ کیئر کمیشن بھی اس بدانتظامی کا اسٹیک ہولڈر نہیں ہے جس کو صرف جرمانے کرنے اور پیسہ اکٹھا کرنا مقصود ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں بدانتظامی پر آنکھیں بند کی ہوئیں ہیں اور 8جون کی کمشنر ساہیوال ک رپورٹ آن ریکارڈ ہے کہ ریسکیو1122آنے سے پہلے تمام بچے ہسپتال کی ہیومن ریسورس ریسکیو کر چکی تھی اور جب ریسکیو اہلکار آئے تو لفٹ، آگ بجھانے والے آلات اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آ گئی۔ اور ظلم دیکھیں، واقعہ کے چھ دن بعد وزیراعلیٰ وہاں پہنچی اور لواحقین کو بیس بیس لاکھ اور ریسکیو اہلکاروں کو تین تین لاکھ انعام دے کر اور ڈاکٹروں کی گرفتاری کے آرڈر دے کر ڈاکٹروں کی برادری کی تذلیل کی اور کیا اس بات پر اس بدانتظامی کے تمام کرداروں کو معافی نہیں مانگنی چاہیے.
اس وقت پولیس گردی کا شکار ہونے والے پندرہ ہیلتھ کیئر پروفیشنل ٹوٹی ہڈیوں کے ساتھ ہسپتال میں ہیں اور کمشنر اور DPO سیٹوں پر براجمان ہیں اور ڈاکٹروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر معاملہ اٹھایا تو ATA کے پرچے دے دیں گے۔آج یہ بتانا مقصود ہے کہ کالج کے پرنسپل اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے فنانس سیکریٹری پروفیسر عمران کو پرنسپل ساہیوال کے عہدے پر تعینات کر کے ہسپتال کا ایم ایس بھ لگا کر بیوروکریسی اُن کی ہونے والی تذلیل کا مداوا نہیں کر سکتی۔ ایم ایس ڈاکٹر اختر اور اے ایم ایس ڈاکٹر عمر کو عہدوں سے ہٹا کر اپنی بدانتظامی کا جواز نہیں دے سکتی۔ سانحہ خانیوال کی طرف۔ خانیوال میں ٹیکہ لگانے کی کوئی SOP جاری نہیں کی گئی تھی۔ مذکورہ ٹیکہ کے سائیڈ ایفکٹ اور مارکیٹ سے اٹھانے کے بارے میں ڈرگ کنٹرول حکومت پنجاب الرٹ جاری کر چکا تھا تو سوالہ یہ کہ پھر یہ ٹیکہ ہسپتال میں کیوں موجود تھا۔ اور ٹیکہ لگانے والے نرس اقصیٰ جیل میں کیوں ہے اور ڈرگ کنٹرولر جیل سے باہر کیوں ہے اور خانیوال کا CEOسیٹ پر کیوں بیٹھا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ بھی کیا کہ سانحہ ساہیوال اور خانیوال کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور قانون اور ضابطہ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے گرفتار پیرامیڈیکس کو فی الفور رہا کیا جائے اور زخمی اہلکاروں کیلئے امدادی رقم کا اعلان کیا جائےجبکہ
Revamping کے نام پر ہونے والی بیضابطگیوں میں ملوث اور سانحہ کی وجہ بننے والے سیکریٹری صحت کو فی الفور برطرف کر کے ڈاکٹرز کی عزت نفس کو بحال کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں
پروفیسر شاہد ملک، جنرل سیکریٹری پی ایم اے لاہور
ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری، صدر الیکٹ پی ایم اے سنٹر ڈاکٹر کامران احمد، جنرل سیکریٹری پی ایم اے پنجاب
پروفیسر خالد محمود خان، نائب صدر پی ایم اے لاہور ڈاکٹر ارم شہزادی، نائب صدر پی ایم اے لاہور
ڈاکٹر بشریٰ حق، جائنٹ سیکریٹری، پی ایم اے لاہور ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم، جائنٹ سیکریٹری پی ایم اے
ڈاکٹر واجد علی،فنانس سیکریٹری پی ایم اے لاہور نے شرکت کی.
=========================


پریس ریلیز

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری نے لاہور پریس کلب کا دورہ کیا اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل لاہو ر میران موحد فر بھی انکے ساتھ تھے۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر شیراز حسنات، ممبران گورننگ باڈی رانا شہزاد، عابد حسین اور سید بدر سعید نے معزز مہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ اس موقع پرصدر پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ ایرانی صدر کی شہادت پر پاکستانی عوام اور صحافی برادری ایران کے غم میں برابر کی شریک ہے، ایران ایک دلیر اور نڈر لیڈر سے محروم ہوا ہے، شہید صدر ابراہیم رئیسی نے اپنا آخری دورہ پاکستان کا کیاوہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں تھے،انہوں نے کہا کہ ایران نے فلسطین پر اسرائیلی حملہ پر جس طرح ردعمل دیا مسلم امہ اس پر فخر کرتی ہے۔ایرانی سفیر رضا امیری نے گفتگو کرتے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان سابق صدر ابراہیم رئیسی شہید کی قیادت میں معاہدے ہو چکے ہیں ابراہیم رئیسی کی شہادت پر پاکستانی قوم کے جذبات اور اظہار تعزیت ہمارے لیے قابل احترام ہے ایران اور پاکستان کے درمیان قومی سطح پر بہت گہرے تعلقات ہیں دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے بے پناہ عقیدت اور محبت رکھتے ہیں یہ ابراہیم رئیسی شہید کی شہادت کے موقع پر دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان بننے کے بعد اسے تسلیم کیا، پاکستان اور ایران کو سمگلنگ کی روک تھام کے لیے فیصلہ کن موڑ پر انا ہوگا سمگلنگ کا پیسہ سمگلروں کی جیب میں جا رہا ہے یہ پیسہ براہ راست دونوں ممالک کے پاس آنا چاہیے، اس سلسلے میں ایران پاکستان کے ساتھ مل کر میکنزم طے کر رہا ہے، ابراہیم رئیسی کی شہادت میں ابھی تک کی دو رپورٹس کے مطابق یہ ایک حادثہ تھا، ہیلی کاپٹر ایک چٹان کے ساتھ ٹکرایا ہے اس کی مزید ٹیکنیکل انکوائری ابھی جاری ہے ، انہوں نے بتایا کہ28 جون کوایران کے نئے صدر کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں، پاکستان میں موجود ایرانی شہری بھی اپنا ووٹ متعلقہ سفارت خانوں میں کاسٹ کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب میں کن کن شعبوں میں دونوں ممالک آگے بڑھ سکتے ہیں اس حوالے سے مسلم لیگ کے قائد محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات ہوئی ہے جس میں زراعت، لائیو سٹاک اور گندم کی ایکسپورٹ پر بات ہوئی، انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ناسور کی مانند غاصب حکومت ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے اور فلسطینی حکومت کا قیام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو انرجی بحران کے نکلنے کیلئے پاک ایران گیس پائب لائن منصوبے کی تکمیل ضروری ہے اور حکومت پاکستان سے اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے شہید ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر صحافی برادری کی جانب سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے اجتماعی فاتحہ خوانی کروائی ۔ پروگرام کے اختتام پر صدر ارشد انصاری نے معزز مہمان کو پریس کلب کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی۔
زاہد عابد