ڈبہ پیک دودھ پر عوام کا عدم اعتماد ۔مارکیٹ شیئر صرف 11 فیصد۔

ڈبہ پیک دودھ پر عوام کا عدم اعتماد ۔مارکیٹ شیئر صرف 11 فیصد۔پاکستان بھر کے عوام کی بڑی اکثریت نے ڈبہ پیک دودھ کو مسترد کیا ہے اور کھلے دودھ کے استعمال کو فوقیت دی ہے دوسری جانب ملکی وغیرملکی ڈبہ پیک دودھ کمپنیوں نے ہر طرح کی کوشش کرکے دیکھ لیا لیکن مارکیٹ شیئر آج بھی صرف 11 فیصد ہے عام لوگ کھلے دودھ کو فوقیت دیتے ہیں کھلے دودھ کو پینا پسند کرتے ہیں کھلے دودھ کا استعمال زیادہ اعتماد سے کرتے ہیں یکے ڈبہ پیک اور بوتلوں میں فراہم کیا جانے والا کمپنیوں کا دودھ عوام کے بہت کم اسے کو متاثر کر رکھا ہے اور انہیں اپنی جانب کھینچ سکا ہے ۔آپ شہریوں کا کہنا ہے کہ کھلا دودھ بھلے پانی ملا ہوں لیکن وہ بھینس اور گائے کا ہوتا ہے لیکن کمپنیوں کی جانب سے ڈبے میں پیک کر کے بھیجا جانے والا دودھ ہمیں نہیں معلوم کس کا ہوتا ہے اس لیے لوگ ڈبہ پیک دودھ استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں اس پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے اور اسے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں کہ ڈبہ پیک دودھ بیچنے والی کمپنیوں کا دودھ حلال ہے یا حرام ۔اور ڈبہ پیک کمپنیوں کی جانب سے فروخت کیا جانے والا دودھ پاکستان میں ہی پی کیا جارہا ہے یا بیرون ملک سے منگوایا جا رہا ہے ۔عوام کے شکوک اور ذمہ دماد کے برعکس دودھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ حلال اور بالکل محفوظ دودھ فروخت کرتے ہیں اور اس حوالے سے بعض شکوک و شبہات پھیلائے جارہے ہیں جن کے ازالے کی کوشش کی جارہی ہے حوالے سے تشہیری مہم بھی چلائی جاتی ہے اور لوگوں کے شکوک تحفظات اور خدشات کو بھی دور کیا جاتا ہے جب کھلے دودھ اور ڈبہ پیک دودھ کے درمیان فرق کرنے کے حوالے سے شہریوں سے پوچھا جاتا ہے تو ان کا عام جواب یہ ہوتا ہے کہ کھلا دودھ بہتر ہے ۔اسے ہم اپنے سامنے ابال لیتے ہیں اور اسے دوکانداروں سے خریدتے ہیں کو قابل اعتبار ہوتے ہیں اور گھر پر جو دودھ فراہم کرنے آتا ہے وہ بھی اعتماد کا آدمی بن جاتا ہے گھر میں بزرگ خواتین اور بزرگ حضرات بھی کھلا دودھ خریدنے پر زور دیتے ہیں