ویٹ لینڈز کی حفاظت میں چین کا کردار

اعتصام الحق ثاقب
============


اس کرہ ارض پر رہنے والوں کو خود کو خود خوش قسمت سمجھنا چاہیے کہ وہ ایک ایسے ٹکڑے پر زندہ ہیں جس میں ہر طرح کی خوب صورتی اور جمال موجود ہے اور زندگی کی ہر سانس فطرت کے حسین اور دلکش ہونے کی گواہی دیتی ہے۔لیکن اس قدرتی حسن کو انسانوں کی آبادی سے ہی خطرات لاحق ہیں۔انسانوں کی بڑھتی آبادی اور رہائش کی ضروریات نے فطرت سے چھیڑ چھاڑ کا جو رویہ اپنا یا ہوا ہے اس نے زمین پر انسانی زندگی کو آہستہ آہستہ مشکل کر دیا ہے۔کائنات کا یہ نظام ایک توازن میں ہے۔انسانوں کا شرند سے پرند سے اور جانوروں سےا ور ان سب کا انسانوں سے۔درختوں اور سبزے کا پہاڑوں سے اور ان سب کا آسمان سے برسنے والی رحمتوں سے۔ہر شہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔کسی ایک کا بگڑنا ،نظام کے بگاڑ کا سبب بن جا تا ہے۔
انسانی سماجی معیشت کی ترقی میں دنیا کے تمام ممالک ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی کے درمیان تضادات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انسانی سرگرمیوں اور آب و ہوا کی تبدیلی کے دوہرے اثر کے تحت، وسیع پیمانے پر ویٹ لینڈ کے علاقے کا سکڑ رہے ہیں. اس عالمی مسئلے کو اہمیت دیتے ہوئے چین نے ویٹ لینڈ کے رقبے میں کمی اور ماحولیاتی افعال کی تنزلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھر پور کوششیں کی ہیں۔
چین میں ویٹ لینڈ پروٹیکشن قانون یکم جون 2022 سے نافذ العمل ہوا ۔ چین میں یہ پہلا قانون ہے جو   خاص طور پر ویٹ لینڈز  کے تحفظ پر مبنی ہے اور یہ چین کی ماحولیاتی تہذیب میں قانون کی حکمرانی کی تعمیر میں ایک اہم کامیابی ہے۔ ۔
حالیہ برسوں میں ویٹ لینڈز کی اہمیت سے متعلق لوگوں کی سمجھ بوجھ  میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کا تحفظ سرکاری منصوبہ بندی کا بھی اہم حصہ بن چکا ہے۔بیجنگ کی نواحی ڈسٹرکٹ یان چھنگ میں واقع جنگلی بطخ نامی ویٹ لینڈ پارک مہاجر پرندوں کے لئے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ ہے ، یہاں پر  لوگ جو اناج اگاتے ہیں وہ آبی پرندے پسند کرتے ہیں ، اسے “مہاجر پرندوں کی کینٹین” کہا جاتا ہے۔قدرتی پانی کا تحفظ کرتے ہوئے لوگ استعمال شدہ پانی کو صاف کر کے چھوٹی ندی یا جھیل میں محفوظ کرتے ہیں ،ان میں وہ آبی پودے اگائے جاتے ہیں  اور بطخیں پالی جاتی  ہیں جو پانی کو مزید صاف بنا سکتی ہیں۔ اگرچہ ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے کافی کوششیں کی گئی ہیں  ،تاہم رامسر کنویشن پر دستخط کیے جانے کے 51 برسوں میں دنیا میں قدرتی ویٹ لینڈز کے رقبے میں 35 فیصد  کمی واقع ہوئی ہے۔دسمبر  2021  میں جاری عالمی ویٹ لینڈز آؤٹ لک کی ایک خصوصی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ انسانی سرگرمیاں ،خاص کر زرعی سرگرمیاں ،ویٹ لینڈز میں کمی کا ایک اہم عنصر ہے۔رامسر کنویشن کی فہرست میں نصف “اہم بین الاقوامی ویٹ لینڈز ” زراعت کے طریقہ کار  سے متاثر ہیں۔اس لیے زرعی پیداوار میں پائیدار منصوبہ بندی بے حد اہم ہے۔اس ضمن میں چین کی زراعت میں حیاتیاتی کاشت کاری نے ایک حل فراہم کیا ہے۔چاول کے کھیتوں کی مثال لیں ،تو لوگ کھیتوں میں بطخیں پالتے ہیں،بطخیں فالتو گھاس اور کیڑے کھاتی ہیں،ان کا فضلہ نامیاتی کھاد بن جاتا ہے۔ مزید حیرت انگیز چیز یہ ہے کہ بطخ کی چونچ روزانہ چاول کی جڑوں یا نیچے زمین سے ہزار سے زائد بار ٹکراتی ہے جس سے چاول کی نشونما بھی بڑھتی ہے۔ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ چاول کا کھیت بھی ایک قسم کا مصنوعی ویٹ لینڈ ہے جو ویٹ لینڈز جیسے فوائد کا حامل بھی  ہے اور چاول کی کاشت کاری میں ماحول دوست طریقے کا استعمال ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے بھی مفید ہے۔
آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے میں ویٹ لینڈز کا بھی اہم کردار ہے۔اس سے سب سے شدید متاثر ہونے والے میں سے ایک ملک کی حیثیت سے ، پاکستان کے لیے بھی ویٹ لینڈز کا تحفظ خاص اہمیت کا حامل ہے۔چین اور پاکستان اس شعبے میں بھی تبادلہ و تعاون کر رہے ہیں۔دسمبر 2021 میں مغربی چین کی چھنگ ہائی جھیل اور پاکستان کے صوبہِ سندھ کی کینجھر جھیل  میں  دوست جھیلوں کے تعلقات قائم کرنے پر  اتفاق کیا گیا۔پاکستان میں رامسر کنوینشن کی فہرست میں انیس اہم بین الاقوامی ویٹ لینڈز موجود ہیں جن میں کینجھر جھیل بھی شامل ہے۔چھنگ ہائی چھیل چین کی سب سے بڑی ان لینڈ جھیل ہے اور یہ بھی رامسر کنوینشن کی فہرست میں شامل اہم ویٹ لینڈ ہے۔دونوں   اہم بین الاقوامی ویٹ لینڈز کے درمیان تعاون و تبادلے عالمی ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے بہت قیمتی تجربات فراہم  کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، چاول کی کاشت کاری سمیت  زرعی شعبے میں باہمی تعاون بھی ویٹ لینڈز کے تحفظ اور عوامی صحت و فلاح و بہبود کو بڑھانے میں ٹھوس فوائد فراہم کا باعث ہوگا۔
آج کے چین میں ، جی ڈی پی معاشی ترقی کا واحد پیمانہ نہیں ہے ۔ چینی صدر شی جن پھنگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ” ماحولیاتی تحفظ کو زیادہ اہمیت کے مقام پر رکھنا چاہیئے اور حیاتیاتی ماحول کی حفاظت کو آنکھوں کی حفاظت کی طرح سمجھنا چاہیئے ” ۔ یہ تصور چینی عوام کے دلوں میں جڑ پکڑ چکا ہے ۔ تمام فریقوں کی انتھک کوششوں سے چین کے ویٹ لینڈ زکے تحفظ نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔
2022 میں ، ویٹ لینڈز سے متعلق کنونشن میں چین کی شمولیت کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر ، عوامی جمہوریہ چین کے ویٹ لینڈ کے تحفظ کے قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا تھا اور ویٹ لینڈز پر کنونشن کے فریقوں کی کانفرنس کی پہلی بار میزبانی کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں چین کی جانب سے ویٹ لینڈ ز کے تحفظ کی کامیابیوں کی نمائش لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ۔ ویٹ لینڈز سے متعلق کنونشن کے سیکرٹری جنرل مسنڈا ممبا نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں میں ویٹ لینڈ کے تحفظ میں چین کی کامیابیاں اور ویٹ لینڈ کے تحفظ کا انتظامی طریقہ کار دیگر فریقوں کے لیے سیکھنے کے قابل ہے۔
تمام فریقوں کی کوششوں کے نتیجے میں آج، چین کے ویٹ لینڈز 56.35 ملین ہیکٹر کے علاقے کا احاطہ کرتے ہیں، جس میں مجموعی طور پر 64 ویٹ لینڈز بین الاقوامی اہمیت کے حامل ہیں اور 2200 سے زیادہ اقسام کے ویٹ لینڈ زکے نیچرل ریزروز ہیں. دنیا کے 43 بین الاقوامی ویٹ لینڈ شہروں میں چین کی تعداد 13ہے جو دنیا کے پہلے نمبر پر ہے۔ہمیں ویٹ لینڈ کے تحفظ کی سخت محنت سے حاصل کردہ کامیابیوں کی قدر کرنا چاہئے۔ آنے والی نسلوں کے لئے زیادہ خوبصورت ویٹ لینڈز چھوڑنے چاہییں تاکہ انسان اور فطرت کے مابین ہم آہنگ بقائے باہمی کی جدید کاری کی تعمیر کی جائے اور سبز پانیوں اور پہاڑوں میں پائیدار ترقی حاصل کی جائے ۔