زراعت میں غیر موسمی بیج اور سیٹالئٹ ٹیکنالوجی


اعتصام الحق ثاقب
============


دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی نے ہمیشہ اس میں رہنے والوں کو نئی ایجادات اور طریقے ددریافت اور اختیار کرنے پر مائل کیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کاشت کاری کے جدید طریقے ،صنعتی انقلاب اور صنعتی جدت میں تسلسل سے نیا پن دنیا کے زیر نظر رہا ہے ۔بڑی آبادیاں رکھنے والے ممالک اپنی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی تکنیکی جدت طرازی کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں تا کہ ملکی یا بین الاقوامی مارکیٹ میں خوراک اور اشیائے ضروریہ کی کمی نہ ہو۔
ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد کی آبادی رکھنے والے ملک چین کو بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ خوراک اور دیگر ضروریات کی کمی کا سامنا تھا جسے پورا کرنے کے لیے اسے دیگر ممالک پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔اس سے نمٹنے کے لیے چین نے ٹیکنالوجی اور صنعتی جدت طرازی پر منحصر کئی راستے اختیار کیے اور اب چین نہ صرف اپنی ملکی ضروریات کو پورا کر رہا ہے بلکہ برآمدی وسائل سے زرمبادلہ بھی کما رہا ہے۔
“نانفان سائنٹفک اینڈ ریسرچ بریڈنگ بیس “آف سیزن فصلوں کی افزائش کا ایک بیس ہے ۔ اس کے ٹراپیکل محل وقوع کی وجہ سے اسے چین میں مختلف فصلوں کے لئے بیج پیدا کرنے والے مرکز کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے اہم، چاول اور کپاس کی وہ نئی اقسام ہیں جو گزشتہ چند دہائیوں سے چین کی بڑی آبادی کی غذائی اور لباس کی ضروریات کو پورا کر رہی ہیں چین کے جنوبی سرے پر واقع، یہ سائنٹفک اینڈ ریسرچ بریڈنگ بیس چین میں فصل کے بیج ذخیرہ کرنے اور متعدد چینی صوبوں کے لئے بیج پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔سال 2021 میں بیج پیدا کرنے کے لئے یہاں ۱۲ ہزار ہیکٹر زمین کا استعمال کیا گیا ۔
چین نے 2020 میں زرعی پیداوار پر زیادہ توجہ دی، خاص طور پر فصل کے بیج کی پیداوار. لہٰذا، یہ کہا جا سکتا ہے باقی چین میں بیجوں کا ذخیرہ کافی ہے۔ خوراک کی فراہمی چین کے لیے ہمیشہ ایک مسئلہ تھا اور اب پیداوار کو بڑھانے کی یہ کوشش کافی موثر ثابت ہو رہی ہے ۔اب چین ایک خوشحال معاشرہ بن چکا ہے۔ اس مرحلے پر اسے روایتی کاشتکاری میں نئی ٹکیکنالوجیز کو شامل کرنے کی ضرورت ہے. بائیو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اب پتوں کا نمونہ لے کر مالیکیولر تجزیے کے ذریعے ایک نئی فصل کی خصوصیات بتائی جا سکتی ہیں جس میں اس کی بیماری کی مزاحمت اور الکلائڈ کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے ۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اس بیس نے کپاس کی پیداوار میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔یہاں پیدا ہونے والے کپاس کے بیج ، جن کے پودے بڑے پیمانے پر کٹائی کے لئے موزوں ہیں شمال مغربی چین کے سنکیانگ میں لگائے جاتے ہیں جو ملک میں کپاس پیدا کرنے والا سب سے بڑا علاقہ یان جینٹو ریسرچ، انسٹی ٹیوٹ آف کاٹن ریسرچ، چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے مطابق چین کی کپاس کی نئی قسم اب امریکہ اور آسٹریلیا کی طرح اچھی ہے۔ کپاس کی بنیادی لمبائی 30 ملی میٹر تک پہنچ جاتی ہے ، اس کے فائبر کی طاقت 30 سے زیادہ ہے لہٰذا اب چین کو کپاس کے لیے امریکہ اور آسٹریلیا پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
چین نے اپنی سیٹالائٹ ٹیکنالوجی کو بھی اپنے ذرعی نظام سے مربوط کرنے کے لیے بے پناہ کوششیں کی ہیں جن میں اسے خاطر خواہ کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں ۔2020 میں اپنے سیٹلائٹ کے لانچ کے بعد ، چین کا آزادانہ طور پر تیار کردہ بیدو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (بی ڈی ایس) نقل و حمل ، عوامی تحفظ ، مواصلات ، آفات سے نمٹنے اور زراعت سمیت متعدد شعبوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ بی ڈی ایس کی جانب سے فراہم کی جانے والی اعلیٰ معیار کی لوکیشن سروسز بھی اسمارٹ فارمنگ کی سہولت فراہم کر رہی ہیں، جس میں کھیتوں میں ڈرائیور لیس ٹریکٹرز کا ہائی پریسیشن کنٹرول بھی شامل ہے۔
فی الحال، بیدو سسٹم وسیع پیمانے پر مختلف قسم کے زرعی عمل میں استعمال کیا جاتا ہے، بشمول جوتائی، بوائی، کٹائی، بھوسے کا علاج اور خشک سالی کے خلاف مزاحمت کا کام۔
جدید دور میں ٹیکنالوجیز پر مشتمل مواد کا استعمال کرتے ہوئے چین نے دنیا بھر کے سامنے یہ مثال پیش کی ہے کہ ذراعت جیسے قدیم شعبے کو بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے لوگوں کی بھلائی کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔دنیا میں یہ کامیابیاں حاصل کرنے والا یہ کوئی مپہلا ملک نہیں لیکن چین کو یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ ایک ارب چالیس کروڑ سے زاید کی آبادی والے اس ملک نے ترقی پذیر ملک ہونے کےباوجود خؤد کو تمام شعبوں میں خود کفیل کرتے ہوئے دنیا کی ایک بڑی آبادی کی غزائی ضروریات کا بھر پور خیال رکھا ہے اور یہی عمل قابل تقلید بھی ہے۔