مشرف ہیرو آف پاکستان-پرویز مشرف ہندوستان کے جسم میں ایک کانٹا

صنعت کار اور تاجر  برادری کے معروف رہنما اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر طارق حلیم نے  کہا  ہے کہ پرویزمشرف کو سزا سے سرحد پرتعینات ہر سپاہی کو دکھ ہوا، ہمیں فوج کے ہر سپاہی کے جذبات کا بھی احساس ہونا چاہیے- طارق حلیم نے اس بات پر زور دیا  کہ پاکستان آرمی کا احترام  سب کی قومی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر اور  سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ایک کمانڈو اور بہادر جرنیل تھے جہاں ان کے حوالے سے کچھ نقصانات گنوائے جاتے ہیں وہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ الیکٹرونک میڈیا اور نیب سمیت مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام انہوں نے ہی دیا تھا اور ان کے دور میں ملک میں بے پناہ معاشی ترقی ہوئی انہوں نے کہا یہ بات بہت مشکل ہے کہ ہم آدمی کے دل سے پاک فوج کی محبت نکالی جائے پاکستان کی بزنس کمیونٹی پاک فوج کو سلام پیش کرتی ہے پاکستان کی مسلح افواج ہمارا فخر ہے ہمارے سر کا تاج ہے ۔پاکستان آرمی کی خدمات اور قربانیاں بے مثال اور قابل ستائش ہیں ہم بھاگ آرمی سے محبت کرتے ہیں اور اس کا احترام سب کی قومی  ذمہ داری ہے ۔پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی پاک فوج کو سلام پیش کرتی ہے ۔انہوں نے  کہا کہ جنرل پرویز مشرف ایک بہادر اور دلیر جرنیل اور کمانڈو تھے انہوں نے ملک کو فرنٹ سے لیڈ  کیا – طارق حلیم نے  کہا  ہے کہ پرویز مشرف ہندوستان کے جسم میں ایک کانٹا رہا ہے ،
امریکی فوج نے 19 ٹریلین ڈالر استعمال کرکے بھی پچھلے 58 سالوں میں ایک بھی جنگ نہیں جیتی اور مشرف نے ہمارے محدود ملکی وسائل سے تین جنگی لڑیں اور ہم آج بھی اپنا تشخص برقرار رکھے ہوئے اور دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتے ہیں-  طارق حلیم نے  کہا  ہے کہ یہ وہی مشرف ہے جس سے آپ نے این آر او لیا تھا – یہ وہی مشرف ہے جس کو آپ نے گارڈ آف آنر دیا تھا – یہ وہی مشرف ہے جس سے آپ کے وزیراعظم اور چارٹر آف کرپشن کابینہ نے حلف اٹھایا تھا -غیر موجودگی میں سزا دی گئی، کیا جلدی تھی فیصلہ سنانے کی؟ مشرف بیمار ہیں اور آئی سی یو میں زیر علاج ہیں، پرویز مشرف کو سنا نہیں گیا، ٹرائل صرف فیئر ہونا نہیں چاہیے ہوتا دکھائی بھی دینا چاہیے- نہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ قانون آئین اورانصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوا،  پاک فوج ایک ادارہ ہے، ایک گھر کی مانند ہے. ملک کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے-طارق حلیم نے  کہا  ہے کہ پاکستان پر قربان ہونیوالی قوم افواجِ پاکستان کیساتھ ہے-نائن الیون کے بعد جنرل مشرف نے پاکستان کی سا لمیت کیلئے انتہائی مشکل فیصلے بڑی جرأت سے کیے – اداروں کے درمیان تصادم کی خواہش اور کوششوں نے ستر سال میں ملک کو بہت نقصان پہنچایا اور صورتحال آج بھی نہیں بدلی-
استحکام پاکستان میں افواج پاکستان کا کردار
 طارق حلیم نے  کہا  ہے کہ 1992 کا تباہ کن سیلاب،2005 کا دردناک اور ہولناک زلزلہ، اور ان جیسی سینکڑوں آفات و مصائب میں اپنی جانوں پر کھیل کر معصوم انسانیت اور مخلوق خدا کو بچانے کا فریضہ سرانجام دینا ہماری عسکری تاریخ میں فرض شناسی اور احساس ذمہ داری کا ایک درخشندہ باب ہے- طارق حلیم نے  کہا  ہے کہ وج کسی بھی ملک کا سب سے اہم ادارہ ہوتا ہے جو اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت مستعد اور تیار رہتاہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تو فوج کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ تخلیق پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کو اندرونی و بیرونی سازشوں کا سامنا رہا۔ جن میں بعض اوقات اندرونی خلفشار اور بحرانی کیفیات بھی پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں، مگر ان تمام سازشوں کا مقابلہ پاکستانی فوج نے ہمیشہ حوصلے،ہمت،جرائت اور اپنی لیاقت و استبداد سے بخوبی کی ہماری افواج پاکستان کی تاریخ ملکی سالمیت کے تحفظ اور استحکام پاکستان کی خاطر دی جانیوالی لازوال و بے مثال قربانیوں سے بھری پڑی ہے، اس پاک دھرتی سے عشق و محبت اور الفت کی سینکڑوں نہیں،ہزاروں داستانیں صفحہ قرطاس پر بکھری پڑی ہیں، جو اس بات کی شاہد ہیں کہ مادر وطن کی صیانت و پاسبانی میں ان غیور،شجیع اور جرائت مند سپوتوں نے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بھی بہا چھوڑا- طارق حلیم نے  کہا  ہے کہ
لاشبہ افواج پاکستان نے آج تک نہ صرف بابائے قوم کے ان فرامین پر من وعن عمل کیا بلکہ ان کی لاج رکھنے میں کسی قسم کی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، یہاں تک کہ آج دنیا انگشت بدنداں ہے کہ اپنے قیام کے وقت سے معاشی و معاشرتی مسائل میں گھِرا، مسدود اورمخدوش حالات کا حامل پاکستان آج نہ صرف ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہے بلکہ اس کی دفاعی صلاحیت دنیا کی بڑی طاقتوں کے ہم پلہ بھی ہے – اور یقیناً یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج پاکستان جہاں ہے اور جو کچھ بھی ہے،اس میں افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا درست استعمال، اپنی مٹی سے وفا اور فرض شناسی کیاحساس کا بڑا دخل ہے – اور آج یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک افواج پاکستان نے زمینی سرحدوں کی حفاظت سے لے کر نظریاتی سرحدوں کی حفاظت تک ہر طرح کے اندرونی و بیرونی مشکلات و آفات میں پاسبانی و نگہداشت کی عظیم مثالیں قائم کیں- طارق حلیم نے  کہا  ہے کہاگر پچھلے 70 سالوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر دور میں ملک عزیز پر جب بھی کڑا اور مشکل وقت آیا ہماری افواج نے اپنی جانوں پر کھیل کر ملکی وقار اور عظمت کی سلامتی کا لوہا منوایا، پاک بھارت جنگوں میں دشمن کی ہمیشہ سے رسوائی و ہزیمت اور پشیمانی و خفت اس امر کی چشم دید گواہ ہے کہ ہماری افواج نہ صرف اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں،بلکہ دشمن کے لئے شکست و ریخت اور پسپائی و خسارہ کی علامت ہیں- حالیہ دنوں میں 27 فروری کا وہ معرکہ جس میں دشمن کے دو جدید فائٹر طیاروں کو پلک جھپکتے ہی اڑا دیا گیا اس کی ایک زندہ و جاوید مثال ہے- report-waheed-jang





اپنا تبصرہ بھیجیں