مریم نوازاور حسین نوازکیوں نہیں بول رہے؟

سینئر تجزیہ کار ارشاد عارف نے کہا ہے کہ نوازشریف نے کڑواگھونٹ پی کراسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ قبول کرلیا، نوازشریف تو بیمار ہیں،سمجھ آتی ہے کہ وہ نہیں بول رہے، لیکن مریم نوازاور حسین نوازکیوں نہیں بول رہے؟ پتا چلتا ہے کہ نوازشریف نے شہبازشریف کا بیانیہ قبول کرلیا ہے کہ جو بھی رعایت ملتی ہے، اس کو لے لینا چاہیے۔
انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف بڑے واضح ہیں جبکہ نوازشریف اور مریم نوازکا بیانیہ پٹ گیا ہے، مولانا فضل الرحمان جب آزادی مارچ لے کرلاہور گئے تب بھی عوام باہر نہیں نکلے، اگر لوگوں کو فوج سے ناراضگی ہوتی تو وہ سامنے آتی۔ن لیگ کے رہنماء اور قیادت اس لیے نہیں پہنچی،شہبازشریف نے پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ ہم الیکشن جیت کرحکومت کرسکتے ہیں جبکہ حکومت سے باہر رہ کر مزاحتمی تحریک نہیں چلا سکتے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
ارشاد عارف نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نوازشریف اور مریم نوازنے کڑواگھونٹ سمجھ کر قبول کرلیا ہے۔نوازشریف تو بیمار ہیں، ان کی سمجھ آتی ہے کہ وہ نہیں بول رہے، لیکن مریم نوازاور حسین نوازکیوں نہیں بول رہے؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ نوازشریف نے شہبازشریف کا بیانیہ قبول کرلیا ہے کہ جو بھی رعایت ملتی ہے، اس کو لے لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دیکھیں ہمارے سیاستدان وقت اور حالات کے مطابق یوٹرن لیتے ہوئے بھول جاتے کہ عوام کی یاداشت کمزور ضرورہے لیکن وہ اتنی بھی نہیں کہ بات بھول جائیں۔
پرویز مشرف کے خلاف فیصلے کو سول بالاستی کہا جارہا ہے۔سول بالادستی کی جنگ قراردیا جارہا ہے۔ کہ تاریخ میں پہلی بار فیصلہ آیا ہے کہ مارشل لاء رک جائے گا۔بھٹو صاحب بڑے عقل مند اور ذہین آدمی تھے، انہوں نے آرٹیکل 6تو رکھا،لیکن کوئی قانون سازی نہیں کی تھی، انہوں نے تاریخ پڑھی ہوئی تھی کہ مارشل لاء کو کسی آرٹیکل سے نہیں روکا جاسکتا۔طیب اردوگان نے ترکی میں کوئی آئین نہیں بدلا، لیکن انہوں نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر تمام مسائل پر قابو پا لیا۔اوریامقبول جان نے کہا کہ شریف برادران پرویز مشرف کے فیصلے پر خاموش ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ملک سے باہر گئے اور ان کا پاکستان کی سیاست میں کیا مستقبل ہے؟
urdupoint-report