عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے اپنی سبکدوشی سے قبل خطاب میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کی حمایت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اس افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے اور عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کردی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سچ ہمیشہ غالب ہوتا ہے۔

آصف سعید کھوسہ کی جانب سے یہ ریمارکس سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس میں سامنے آئے جو ان کی ریٹائرمنٹ کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔

تاہم یہ ریمارکس خصوصی عدالت کے سنگین غداری کیس کے اس تفصیلی فیصلے کے ایک روز بعد دیکھنے میں آئے جس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ’ میں ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہوں کہ میں نےخصوصی عدالت کے فیصلے کی حمایت کی، یہ الزامات بے بنیاد اور غلط ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ بطور ججز ’ ہم اپنے اختیارات کی حدود جانتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ سچ غالب ہوگا‘۔

واضح رہے کہ آصف سعید کھوسہ پاکستان کے 26ویں چیف جسٹس کے عہدے سے آج سبکدوش ہوجائیں گے، جس کے بعد جسٹس گلزار احمد کل (ہفتے) کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

اس سلسلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سپریم کورٹ منعقد ہوا، جہاں انہوں نے خطاب بھی کیا۔

اپنی سبکدوشی سے قبل آصف سعید کھوسہ نے بطور چیف جسٹس، مری میں آمنہ بی بی پر فائرنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی اور معاملے کو نمٹادیا۔

اس سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ میرا عدالتی کیریئر کا آخری مقدمہ ہے، سب کے لیے میری نیک خواہشات ہیں۔

عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر ایک میں چیف جسٹس کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے ججز، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے صدر شریک ہوئے، تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چھٹی پر ہونے کے باعث اس فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے

اس کے علاوہ اٹارنی جنرل فار پاکستان انور منصور خان بھی بیرون ملک ہونے باعث اس ریفرنس میں شریک نہیں ہوئے اور ان کی جگہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نمائندگی کی۔

فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی، قانونی تقاضوں سمیت بغیر خوف اور جانبداری سے فیصلے کیے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ وہی کیا جسے میں درست سمجھتا تھا اور اسے کرنے کے قابل تھا، میرے لیے یہ اہم نہیں کہ دوسروں کا ردعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

ریفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا 100 فیصد دیا، ڈیوٹی کی پاداش سے باہر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، کبھی آواز نہیں اٹھائی بلکہ اپنے قلم کے ذریعے بات کی اور کبھی بھی فیصلے کو غیرموزوں طور پر موخر نہیں کیا اور اپنی زندگی کے بہترین برسوں کو عوامی خدمت میں وقف کرنے کے بعد آج میرا ضمیر مطمئن ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے 22 سالہ کیریئر کے دوران مختلف قانونی معاملات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جبکہ بطور چیف جسٹس 11 ماہ (مجموعی طور پر 337 دن) ذمہ داری نبھائی تاہم اگر اس میں ہفتہ وار تعطیل اور دیگر چھٹیوں کو نکال دیں تو 235 دن کام کے لیے ملے۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں عدالتی شعبے میں اصلاحات کے لیے اہم اس عرصے کے دروان عدالتی شعبے میں اصلاحات کیلئے اہم اقدامات کئے، ایک جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونے چاہئیں۔

دوران خطاب چیف جسٹس نے کہا کہ جب میں پیدا ہوا تو میرے منہ میں ایک دانت تھا، میرے خاندان میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ بچہ بہت خوش قسمت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے عہدے کے حلف کی پاسداری اور قانون کے مطابق بلاخوف یا حمایت کے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے فہمیدہ ریاض کی لکھی گئی نظم ‘فیض کہتے’ ہیں کا تذکرہ بھی کیا اور یہ شعر پڑتھے ہوئے کہ کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے وہ تم کو خوف دلائیں گے’ کہا کہ میرے نزدیک ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے۔

فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں اپنی قانونی رائے کی درستی کا کوئی دعویٰ نہیں کرتا لیکن صرف امید کرتا ہوں کہ تاریخ مجھے اچھے لفظوں میں یاد رکھے گی اور میری کی گئی مخلصانہ کوششوں کو سراہے گی۔

dawnnews-report