کے الیکٹرک کا روشنی باجی پروگرام جاری ہے یا روک دیا گیا ؟ شہر میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ۔ بارشوں سے پہلے حفاظتی آگاہی مہم تیز کرنے کی ضرورت ۔

کے الیکٹرک کا روشنی باجی پروگرام جاری ہے یا روک دیا گیا ؟ شہر میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ۔ بارشوں سے پہلے حفاظتی آگاہی مہم تیز کرنے کی ضرورت ۔ ماضی میں شہر میں بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات سے کافی جانی نقصان ہوتا رہا ہے اس حوالے سے انتظامیہ اور کے الیکٹرک حکام نے بھی لوگوں میں حفاظتی اگاہی مہم چلائی تھی جس کے مفید نتائج برامد ہوئے تھے اس مہم کو جاری رکھنے بلکہ تیز کرنے کی ضرورت ہے شہریوں کا سوال ہے کہ کیا کےالیکٹرک نے روشنی باجی اگاہی مہم شروع کی تھی وہ پروگرام جاری ہے یا بند کر دیا گیا ؟ گھر گھر کے الیکٹرک کا عملہ خصوصا خواتین کے پاس جا کر خواتین ورکرز انہیں ضروری ہدایات اور اگاہی فراہم کرتی تھی وہ ایک مفید اور نتیجہ خیز اقدام تھا اسے مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔
ادھر شاہرا ہ فیصل کے نزدیک ڈرگ روڈ کی ملحقہ ابادیوں میں طویل لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی عدم فراہمی کی شکایات سامنے ارہی ہیں اور وہاں کے مکینوں نے سخت گرمی کے موسم میں کے الیکٹرک انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس علاقے پر رحم کریں

========================

کرنٹ لگنے اور ٹریفک حادثہ میں 3 افراد جاں بحق
06 جون ، 2024FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اسٹاف رپورٹر) گلشن معمار عبداللہ گبول گوٹھ سلفیاں سوسائٹی کے قریب کرنٹ لگنے سے واٹر ٹینکر کا ڈرائیور 40 سالہ محمد ہاشمی جاںبحق ہوگیا، میمن گوٹھ کے قریب ٹریفک حادثہ میں 22 سالہ واجد ولد جان محمد جا ں بحق ہوگیا،ماڑی پور ٹرک اڈہ گیٹ نمبر 6 کے قریب کام کے دوران کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
=========================


بجلی ہمارے دور میں 16 روپے یونٹ تھی آج 64 روپے یونٹ ہے، بجلی کے بلوں کی مد میں لیا جانے والا پیسہ کہاں جارہا ہے: علی امین گنڈاپور
بجلی ہمارے دور میں 16 روپے یونٹ تھی آج 64 روپے یونٹ ہے، بجلی کے بلوں کی مد میں لیا جانے والا پیسہ کہاں جارہا ہے: علی امین گنڈاپور
پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کاکہنا ہے کہ بجلی ہمارے دور میں 16 روپے یونٹ تھی آج 64 روپے یونٹ ہے، بجلی کے بلوں کی مد میں لیا جانے والا پیسہ کہاں جارہا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ بجلی ہمارے دور میں 16 روپے یونٹ تھی آج 64 روپے یونٹ ہے، بجلی کے بلوں کی مد میں لیا جانے والا پیسہ کہاں جارہا ہے۔

علی امین گنڈا پور نے مزید کہاکہ صوبے کے منصوبوں پر وفاق کو کٹوتی نہیں کرنے دیں گے، ان سے حکومت چل نہیں رہی، یہ بجٹ تک نہیں دے پا رہے۔

ان کاکہنا تھاکہ سارے کیسز جعلی ثابت ہو رہے ہیں، سائفر میں کچھ نہیں، ہم نے پہلے کہہ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں ایسے کسی شخص سے رشتے داری نہیں رکھتا جو چور ہو، وفاقی حکومت کو سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے۔
=========================

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا )نے کسٹمر سروس مینول میں تبدیلی کردی۔

ترجمان لیسکو نے بتایا ہے کہ صارفین مالی سال میں اب صرف ایک مرتبہ اقساط کی سہولت حاصل کرسکیں گے، مقررہ تاریخ تک بل کی پہلی قسط جمع کرانے پر ایل پی ایس چارج نہیں کیا جائے گا۔

مہنگائی 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی، عظمی بخاری

ترجمان کے مطابق باقی ماندہ اقساط پر ایل پی ایس چارج کیا جائے گا، بل کی تاریخ میں توسیع کی درخواست مقررہ تاریخ کے اندر دی جائے گی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ نیپرا کی جانب سے بجلی بلز میں قسط کی تعداد محدود کر دی گئی ہےجس کی وجہ سےعام صارفین کو بجلی بلوں کی قسط وار ادائیگی کے لیے ملنے والا ریلیف ختم ہو گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق صارفین اب سال میں صرف ایک ہی دفعہ بل کی قسط کراسکیں گے، جبکہ نیپرا کی جانب سے کنزیومر سروس مینوئل میں ترمیم کردیں اور کمپنیوں کو احکامات جاری کر دیئے گئے تھے۔

پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کو جیل سے نکلتے ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا

نیپرا نے ہدایت کی تھیں کہ قسط کرانے کی صورت میں نیا کمپیوٹرائزڈ بل ہی جاری کیاجائےاورآخری دن چھٹی کی صورت میں مقررہ تاریخ میں توسیع نہ کرنے، سرکاری چھٹی کے باعث بل عدم ادائیگی پر لیٹ پیمنٹ سرچارج لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ دستاویزات میں کہا گیاہے کہ مقررہ تاریخ پر قسط ادا نہ کرنے پر 14 فیصد لیٹ پیمنٹ سرچارج لگے گا۔

https://humnews.pk/latest/486369/
==========================================

بجلی بلوں کی قسطیں کرانے والے صارفین کو سود دینا پڑے گا، شرح مقرر
تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر نیپراکنزیومر سروس مینول میں ترمیم کی، اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا
مالی مشکلات کی وجہ سے بھاری بلزکی ادائیگی کے لیے اقساط کرانے والے صارفین اب قانونی طور پر تاخیری ادائیگیوں پر 14 فیصد سود ادا کرنے کے پابند ہوں جبکہ مالی سال کے دوران صرف ایک مرتبہ بجلی بلوں کی قسطیں ہوسکیں گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 14 فیصد سود کی ادائیگی 10 فیصد لیٹ پیمنٹ سرچارج (ایل پی ایس) کے علاوہ ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور ڈویژن اور اس کی ماتحت تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکو) کے مطالبے پر کنزیومر سروس مینول (سی ایس ایم) میں ترمیم کے ذریعے مطلع کیا ہے لیکن اب اس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔

نیپرا کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ اگر کوئی صارف مقررہ تاریخ کے اندر پہلی قسط ادا کرتا ہے تو اس پر کوئی سود یا ایل پی ایس لاگو نہیں ہوگا۔ تاہم، ”باقی اقساط کی ادائیگی سود کے ساتھ 14 فیصد سالانہ کے حساب سے کی جائے گی“ اور قسط کی سہولت کسی بھی مالی سال میں صرف ایک بار دی جائے گی۔

انرجی پلاننگ کمیشن کے سابق رکن سید اختر علی نے نیپرا کے فیصلے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیپرا اب اقساط پر سود کی اجازت دے رہی ہے تو اسے ایل پی ایس کے نرخوں کو بھی ریگولیٹ کرنا چاہیے کیونکہ ایک ماہ کے لیے 10 فیصد ایل پی ایس یا سود بہت زیادہ اور بلاجواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مارکیٹ پر مبنی پالیسی ریٹ 22 فیصد کے پیش نظر LPSایل پی ایس 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ’نیپرا کے اقدام کو یک طرفہ فیصلہ قرار دیا۔

نیپرا کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈسکوز کی جانب سے صارفین سے 14 فیصد سود پہلے ہی وصول کیا جا رہا تھا اور اسے صرف عوامی سماعت کے بعد ریگولیٹر نے باقاعدہ بنایا تھا۔

پاکستان

KARACHI

ELECTRICITY

K ELECTRIC

PAYMENT OF INTEREST
===============================

سولر پینل پالیسی میں تبدیلیاں اسرار کی لپیٹ میں
06 جون ، 2024FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد (خالد مصطفیٰ ) سولر پینل پالیسی میں تبد یلیاں متعارف کرانے کی حکومتی کوششیں اسرار میں لپٹی ہوئی ہیں ۔ جس کے تحت نیٹ میٹرنگ کی جگہ گرا س میٹرنگ کو متعارف کرانا ہے ۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری مسلسل اس بات سے انکاری ہیں کہ موجودہ میٹرنگ سسٹم میں کوئی تبدیلی ہورہی ہے نیٹ میٹرنگ جاری رہے گی۔ اور اس میں تبدیلی کے امکان کو مسترد کردیا جس سے عوام میں عدم اطمینان پھیل رہا ہے ۔ پاور سیکٹر پر بریفنگ کے بعد وزیراعظم دفتر سے جاری سرکاری دستاویز میں کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔ اجلاس گزشتہ 4اپریل کو ہوا تھا ۔ جس میں موجودہ نیٹ میٹرنگ کی گراس بلنگ میں تبدیلی کےلیے پاور ڈویژن سے سمری طلب کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ جو لوگ چھتوں پر سولر پینلز لگانے کے خواہش مند ہیں یا فکسڈ چارجز ادا کرنا چاہتے ہیں ۔
=============================

صارفین کو بجلی کے بلوں کی اقساط پر 14 فیصد سود ادا کرنا ہوگا
بجلی کی بُلند قیمتوں کا سامنا کرنے والے بے بس صارفین مالیاتی مشکلات کے سبب بھاری بلوں کی قسطیں کرواتے ہیں، انہیں اب تاخیر سے ادائیگی کرنے پر قانون کے تحت 14 فیصد سود ادا کرنا پڑے گا اور بعد ازاں جزوی ادائیگی کی سہولت سے بھی ایک سال کے لیے نااہل کر دیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اضافی رقم بل کی تاخیر سے ادائیگی پر 10 فیصد جرمانے کے علاوہ ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کنزیومر سروس مینول (سی ایم ایس) میں ایک ترمیم کرکے اس کا نوٹی فکیشن جاری کیا، جس کا مطالبہ پاور ڈویژن اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے کیا تھا، لیکن اس کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔

تاہم ریگولیٹر نے بجلی کے صارفین کے خلاف متعدد تعزیری کارروائیوں کی درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں ترجیحی بنیادوں پر نئے کنکشنز کے لیے بھاری فیس، ایک ہی جگہ پر متعدد کنکشنز پر پابندیاں اور جرمانے، اور مشکوک استعمال کے لیے جاری کردہ ڈیٹیکشن بلوں (جیسے سست میٹر، خراب میٹر، یا چوری) پر جرمانے میں اضافہ شامل ہے۔

نیپرا نے نوٹی فکیشن میں کہا کہ نیپرا نے کہا کہ اگر کوئی صارف رواں ماہ کے بل کی قسط کی درخواست کرتا ہے تو مقررہ تاریخ کے اندر پہلی قسط ادا کرنے پر کوئی سود یا تاخیر سے ادائیگی پر جرمانہ نہیں ہوگا۔

تاہم باقی اقساط پر 14 فیصد شرح سود سالانہ ادا کرنا ہوگا، اور قسطوں کی سہولت کی اجازت مالی سال میں صرف ایک بار ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صارفین مقررہ تاریخوں سے پہلے بلوں کی ادائیگی کے لیے مقررہ تاریخوں میں توسیع کی درخواست کریں گے، ڈسکوز اور کے الیکٹرک کمپیوٹرائزڈ بل تیار کریں گے، جس سے مقررہ تاریخوں پر اقساط اور توسیع کی اجازت ہوگی۔

انرجی پلاننگ کمیشن کے سابق رکن سید اختر علی نے نیپرا کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر سے ادائیگی پر 10 فیصد یا شرح سود بہت زیادہ اور غیرمنصفانہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ اس وقت شرح سود 22 فیصد ہے لیکن پھر بھی تاخیر سے ادائیگی پر جرمانہ 2 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ یہ یکطرفہ فیصلہ ہے، سید اختر علی کا کہنا تھا کہ اگر آپ ڈسکوز کی آمدنی بہتر کرنے کے لیے اقساط پر 14 فیصد شرح سود عائد کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تو آپ کو بل تاخیر سے ادا کرنے پر جرمانے کو کم کرنا چاہیے، یہ بہت زیادہ ہے۔

نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ ڈسکوز پہلے ہی اپنے طور پر صارفین سے 14 فیصد شرح سود وصول کررہی ہیں، ریگولیٹر کی جانب سے یہ فیصلہ اسے باضابطہ لاگو کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنگل فیز کا ترجیحی بنیادوں پر میٹر لگوانے کے لیے 15 ہزار روپے اور تھری فیز کا میٹر لگوانے کے لیے 30 ہزار روپے ’ارجنٹ فیس‘ کے ڈسکوز کے مطالبے کو ریگولیٹر نے مسترد کردیا ہے۔
https://www.dawnnews.tv/news/1235139/
========================================

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا مزید 2 سال تک بند رہنے کا امکان
969 میگاواٹ کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (این جے ایچ پی پی) کو مکمل طور پر بند ہوئے 2 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال اس مسئلے کی اصل وجہ اور حقیقت معلوم نہ ہوسکی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس پیشرفت سے واقف حکام نے ڈان کو بتایا کہ یہ مسئلہ توقع سے زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے اور آزاد کشمیر میں مظفر آباد کے قریب واقع 500 ارب روپے کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو کم از کم مزید 18 سے 24 ماہ تک بند رکھنا پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیڈریس ٹنل پریشر (ایچ آر ٹی) میں کمی اور سرنگ کے 17 کلومیٹر کے حصے میں پانی کی کمی کسی بڑی شگاف یا منہدم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن صحیح صورت حال ابھی تک واضح نہیں ہے۔

969 میگاواٹ کی اپنی نصب شدہ صلاحیت کے باوجود، یہ منصوبہ کبھی کبھار اس سطح سے تجاوز کرجاتا ہے اور ایک ہزار 40 میگاواٹ تک پہنچ جاتا ہے، جب آپریشنل تھا تو یہ ایندھن کی قیمت کے بغیر نیشنل گرڈ کو سالانہ 5 ارب یونٹ سے زیادہ بجلی (کلو واٹ ہاؤرز) تقریباً 10 روپے فی یونٹ کے اوسط ٹیرف پر فراہم کر رہا تھا۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے بند ہونے کا مطلب سالانہ 55 ارب روپے سے زیادہ کا براہ راست نقصان ہے، جبکہ اس کا بالواسطہ اثر مہنگے متبادل ایندھن کی شکل میں آئے گا، جس کی قیمت ایندھن کے ذرائع پر منحصر ہے، اور جس کی قیمت 90 سے 150 ارب روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔

جب ڈان کی جانب سے تبصرہ کرنے کے لیے پوچھا گیا تو نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر محمد عرفان نے بات کرنے سے انکار کر دیا، جب کہ واپڈا نے ابتدائی طور پر جواب دینے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد کوئی تبصرہ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

تحقیقات میں تاخیر
2 مئی کو واپڈا نے اس مسئلے کا پتا لگانے کے لیے اپنے ہیڈریس ٹنل پریشر کے فزیکل معائنہ کے لیے میگا پروجیکٹ کے مکمل بند ہونے کی باضابطہ تصدیق کی تھی۔

اس نے اعلان کیا تھا کہ پروجیکٹ کنسلٹنٹس اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے گا تاکہ مسئلہ کا سراغ لگنے کے بعد اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے تدارک کے کام کیے جائیں۔

بعد ازاں وزیراعظم نے 7 مئی کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تیسرے فریق کے ذریعے تحقیقات کروانے کا اعلان کیا، تاہم ان کے اعلان کے 2 ہفتے بعد ایک سابق بیوروکریٹ کی سربراہی میں ایک باضابطہ کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔

اس وقت اس حادثے کی تحقیقات دو رکنی باڈی کر رہی ہے، جسے اس حادثے کی ذمہ داری کا تعین کرنے کا بھی کام سونپا گیا ہے۔

ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان اور موجودہ آبی وسائل کے سیکریٹری سید علی مرتضیٰ کی سربراہی میں کمیٹی 2 اپریل 2024 کے واقعے کے بعد نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پاروجیکٹ کی تعمیر میں خامیوں/ کوتاہیوں کی انکوائری کے لیے گزشتہ ماہ کے آخر میں تشکیل دی گئی تھی۔

کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ اس منصوبے کی ٹیلریس ٹنل میں رکاوٹ کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ستمبر 2022 میں تعینات کیے گئے ماہرین کے پینل کے نتائج/رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کی وجوہات کا پتہ لگائے اور پینل کی طرف سے پیش کی جانے والی حتمی رپورٹ کا جائزہ لے۔

کمیٹی کو یہ کام بھی سونپا گیا ہے کہ کہ وہ ٹیلریس ٹنل بلاک ہونے کی وجہ کا پتہ لگانے کے لیے پہلے سے بھرتی کیے گئے ماہرین کے بین الاقوامی پینل کے ذریعے پروجیکٹ کی ہیڈریس ٹنل میں خرابی کا آزادانہ جائزہ لے، اس کے علاوہ کمیٹی کو ہیڈریس ٹنل میں موجودہ خرابی کو دور کرنے کے لیے مناسب تدارک کے اقدامات کی سفارش کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اہلکار نے کہا کہ سخت حفاظتی انتظامات اور دسیوں کلومیٹرز تک پھیلے زیر زمین ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے اگرچہ تخریب کاری کا امکان کم ہے، لیکن سرنگ کی بحالی کی حالیہ مشق کے پیش نظر اسے مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر اب سخت حفاظتی نگرانی کی جا رہی ہے اور امید ظاہر کی کہ کچھ بھی زیادہ عرصے تک پوشیدہ نہیں رہے گا۔

ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری بار بند
واپڈا کے مطابق ایچ آر ٹی پریشر میں اچانک تبدیلی 2 اپریل 2024 کو دیکھی گئی، پروجیکٹ کنسلٹنٹس کے مشورے کے مطابق انتظامیہ ایچ آر ٹی پریشر میں اتار چڑھاؤ کی نگرانی کے لیے 6 اپریل سے 530 میگاواٹ کی محدود صلاحیت پر پلانٹ چلاتے رہے اور بغیر کسی مسئلے کے، مہینے کے آخر تک بجلی کی پیداوار جاری رکھی۔

لیکن 29 اپریل کو ایچ آر ٹی کے دباؤ میں مزید تبدیلیاں دیکھی گئیں، اس کے بعد، جنریشن کو بتدریج کم کیا گیا، لیکن ایچ آر ٹی کا دباؤ محفوظ حدود میں نہیں رہا، جس کی وجہ سے پلانٹ کو یکم مئی کو جسمانی معائنہ کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

واپڈا نے کہا کہ اس منصوبے میں 51.5 کلومیٹر طویل سرنگ کا نظام ہے، جو ایک کمزور ارضیاتی علاقے میں تعمیر کیا گیا ہے جہاں زلزلےکا خطرہ ریتا ہے، اس کی ایچ آر ٹی 48 کلومیٹر لمبی ہے، جبکہ ٹیلریس ٹنل (ٹی آر ٹی) 3.5 کلومیٹر ہے، منصوبے کا تقریباً 90 فیصد حصہ زیر زمین ہے۔

اس سے قبل جولائی 2022 میں، ٹی آر ٹی میں بڑے شگافوں کی وجہ سے، جن کی مرمت 13 مہینوں میں ہوئی تھی، اس منصوبے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، اس کے بعد بجلی کی پیداوار اگست-ستمبر 2023 میں دوبارہ شروع ہوئی، جب کہ پلانٹ نے 28 مارچ کو اپنی زیادہ سے زیادہ 969 میگا واٹ پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کی۔
https://www.dawnnews.tv/news/1235131/
=============================

بجلی ایک ماہ کیلئے 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی
بجلی ایک ماہ کیلئے 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی
ایک ماہ کیلئے بجلی 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کی۔

اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق صارفین اضافی ادائیگیاں رواں ماہ کے بلوں میں کریں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اس اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔