نئے چیلنجز


ڈاکٹر توصیف احمد خان
================

میاں نواز شریف ایک دفعہ پھر مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہوگئے۔ میاں نواز شریف ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنھیں کئی دفعہ سیاست سے پیچھے دھکیلا گیا مگر وہ پھر سیاست کے کینوس پر طلوع ہوگئے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پاناما کیس میں اپنے بیٹے کی فرم میں ملازمت کرنے اور تنخواہ نہ وصول کرنے کے جرم میں پبلک عہدے کے لیے تا عمر نا اہل قرار دیا تھا۔ احتساب عدالت نے میاں صاحب کو7 سال قید کی سزا دی تھی، یوں ثاقب نثارکا فیصلہ تاریخ کے ڈسٹ بن میں چلا گیا۔ میاں نواز شریف نے مسلم لیگ کی صدارت کا عہدے سنبھالنے کے بعد جاتی عمرے میں تین گھنٹے تک اجلاس کی صدارت کی۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ معاشی مشکلات کچھ بھی ہوں عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق دیا جائے گا۔ اجلاس میں 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ ہوا۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم ہاؤس نے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے کمی کا اعلان کیا، مگر وزارت خزانہ نے 4.70 روپے کی کمی کا اعلان کر دیا۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ میاں نواز شریف اگلے ماہ کراچی آئیں گے۔ پاکستان آنے کے 8 ماہ بعد یہ ان کا پہلا دورۂ کراچی ہوگا۔ میاں صاحب وہ خوش نصیب قیدی ہیں جنھیں ایک دفعہ جیل سے براہِ راست ریاض بھیج دیا گیا تھا اور دوسری دفعہ جیل سے انھیں لندن بھجوا دیا گیا۔

جب میاں صاحب کو لندن جانے کی اجازت ملی تو کہا گیا کہ میاں نواز شریف علاج کرا کے فوراً پاکستان آجائیں گے مگر وہ کئی سال بعد واپس آئے۔ جب میاں صاحب نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کے ساتھ پورے ملک میں بھرپور مہم چلائی جس کی بناء پر انھوں نے عوامی مقبولیت کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ اس دوران تحریک انصاف کی حکومت نے روپے کی قیمت میں کمی کی تو مہنگائی کا ایک طوفان آگیا اور یوں تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی پر قابو نہ پاسکی، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی مقبولیت کم ہو رہی تھی۔ تحریک انصاف کی غیر مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس دوران پنجاب میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی تھی۔

اس وقت ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلیوں کے شواہد ملنے پر چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات کو منسوخ کیا تھا، مگر میاں صاحب کا لندن میں قیام طویل ہوتا گیا۔ ان کی صحت یابی کے بارے میں متضاد خبریں آنے لگیں، مگر میاں نواز شریف کی لندن میں ہونے والی سرگرمیوں کی وڈیوز وائرل ہونے لگیں۔ یہی وقت تھا کہ تحریک انصاف کے نوجوان بلاگرز نے میاں نواز شریف کی شخصیت کو مسخ کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حملے شروع کردیے مگر مسلم لیگ کی قیادت نے ان بلاگرز کی سرگرمیوں کے نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا اور اس پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا۔

میاں شہباز شریف کی قیادت میں متحدہ حزبِ اختلاف نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت کو رخصت کردیا اور 11جماعتوں پر مشتمل حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس وقت کسی دانا شخص نے یہ مشورہ دیا تھا کہ میاں شہباز شریف کو قومی اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیے مگر شاید اس وقت تک مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر جمع ہوگئی تھیں اور فیصلوں کا اختیارکہیں اور منتقل ہوگیا تھا۔

میاں شہباز شریف نے 16 ماہ حکومت کی، یہ مخلوط حکومت جب تک برسرِ اقتدار رہی ناکام ثابت ہوئی۔ مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ حکومت کا کام صرف بجلی، تیل اور پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا رہ گیا۔ آئی ایم ایف نے نئے معاہدے کے لیے حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ میاں شہباز شریف نے مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا۔ مفتاح اسماعیل شریف فیملی کا اعتماد حاصل نہ کرسکے اور اسحاق ڈار نئے وزیر خزانہ بن گئے مگر ان کے دعوؤں کے باوجود آئی ایم ایف کے حکام نے سرد مہری کا رویہ ختم نہ کیا۔

اس دفعہ پورے ملک میں عام طور پر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی تنظیم تقریباً مفلوج ہوگئی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کے واقعات میں شدت آگئی جس سے مسلم لیگ ن کی مقبولیت متاثر ہوئی۔ اس دوران مسلم لیگ ن پنجاب اسمبلی کی 16 نشستوں کے ضمنی انتخابات میں ہاری مگر شاید پنجاب کی قیادت ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ کی شکست کی حقیقی وجوہات سے لندن میں مقیم اپنے قائد کو آگاہ نہ کرسکی۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں نگراں حکومتیں قائم ہوئیں۔ نگراں حکومتوں نے سارا زور تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر لگایا اور مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہ ہوا۔

اتحادی حکومت اتنی کمزور تھی کہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے بھارت سے تجارت پر عائد پابندیاں اعلانات کے باوجود ختم نہ کرا پائی، یوں جب نگراں حکومت میں میاں نواز شریف تین سالہ خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے واپس آئے تو پنجاب کی صورتحال تبدیل ہوچکی تھی مگر اس بات کا ادراک نہ کیا گیا۔ اگرچہ مسلم لیگ ن نے فروری کے انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی مگر مسلم لیگ ن کی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ میاں نواز شریف نے ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کو تبدیل کردیا اور ان کا بیانیہ ماضی میں ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کوبیان کرنے میں گزرنے لگا۔ یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اور عوام میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

8 فروری کے انتخابات میں واضح اکثریت نہ ہونے کی بناء پر میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کا عہدہ قبول نہ کرنے کا مناسب فیصلہ کیا، مگر یہ امید کی جاتی تھی کہ انھوں نے برطانیہ میں قیام کے دوران وہاں کے جمہوری اداروں کے ارتقاء کا مطالعہ کیا ہوگا اور سیاسی جماعتوں کی تنظیم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی ہونگی اور تحریک انصاف کے بیانیہ کو ناکام بنانے کے لیے بہتر حکمت عملی سوچی ہوگی، مگر انھوں نے ماضی کی طرح اپنے بھائی کو وزیر اعظم، سمدھی کو نائب وزیر اعظم اور بیٹی کو وزیر اعلیٰ بنا کر اس تاثرکی تصدیق کردی کہ اہم عہدے خاندان میں ہی رہنے چاہیئیں، یوں تحریک انصاف کے بلاگرزکا بیانیہ مزید طاقتور ہوگیا۔ مریم نواز نے اچھی طرزِ حکومت کے لیے خاصی محنت کی ہے مگر گندم کے بحران اور طویل لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ اب تو توانائی کے وزیر نے واضح کردیا ہے کہ یہ اکانومی لوڈ شیڈنگ ہے، یعنی جو لوگ بجلی کا بل ادا کریں گے، انھیں ہی بجلی ملے گی۔

نیا بجٹ آئی ایم ایف کی ہدایت سے تیار ہوگا، یوں میاں صاحب کے لیے نئی مشکلات پیدا ہونگی، انھیں اپنے ایجنڈے کو ازسر ِنو ترتیب دینا چاہیے۔ ریاستی ڈھانچے کو آدھے سے کم کرنے، بھارت سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات، برطانیہ کی طرح ریاست میں ہر سطح پر سادگی کا کلچر منظم کرنے جیسے اقدامات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہیے تاکہ نئی نسل ان کے بیانیہ کی طرف متوجہ ہو۔

https://www.express.pk/story/2648670/268/