ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین آصف سم سم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والا بجٹ2024-25 میں مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کیلیے اقدامات اٹھائے جائیں،انھوں نے کہا کہ معاشی ترقی میں تعمیراتی صنعت کا اہم کردار کا ادراک کیا جائے۔

کراچی 3 جون 2024: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین آصف سم سم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والا بجٹ2024-25 میں مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کیلیے اقدامات اٹھائے جائیں،انھوں نے کہا کہ معاشی ترقی میں تعمیراتی صنعت کا اہم کردار کا ادراک کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ 1000 گز کے پلاٹ پر تعمیراتی پروجیکٹ شروع کرتے ہیں تو مقامی صنعتوں سے اس کے لیے 800 ملین روپے کا تعمیراتی سامان خریدتے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پورے پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہوجائیں تو اس سے کتنی بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں ہوسکتی ہے اور تعمیراتی شعبے سے منسلک سیکڑوں مقامی صنعتوں کاپہیہ بھی چلنے لگتاہے۔ چیئرمین آباد آصف سم سم نے تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے بجٹ 2024-25 میں شامل کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 7-E کا خاتمہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھاکہ 7-E کی وجہ سے پاکستان کے تعمیراتی شعبے میں آنے والی بیرونی سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے اور یہ سرمایہ اوورسیز پاکستانی تعمیرات کیلیے سازگار ماحول فراہم کرنے والے دیگر ممالک کو منتقل کررہے ہیں۔ آصف سم سم نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان میں آنے والے ترسیلات زر اور پاکستانیوں کی تعمیراتی شعبے میں ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری کا 60 سے 70 فیصد مقامی صنعتوں سے سامان خریدنے میں خرچ ہوتا ہے۔۔چیئرمین آصف سم سم نے بتایا کہ ٹیکس آرڈیننس 100-D میں 2200 تعمیراتی پروجیکٹس رجسٹر ہیں جن کی معیاد ستمبر 2023 میں ختم ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ سالوں میں مہنگائی کی شرح ڈبل ہونے اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدرکے باعث مذکورہ 2200 سو پروجیکٹس کا گرے اسٹرکچر تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مہنگائی کے باعث خود حکومت کے بھی کئی منصوبے بلند لاگت کے باعث متاثر ہوچکے ہیں۔ آصف سم سم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ 2024-25 میں 100-D میں رجسٹرڈ تعمیراتی پروجیکٹس کا گرے اسٹرکچر مکمل کرنے کے لیے مزید 2 سال کی توسیع دی جائے۔چیئرمین آباد آصف سم سم نے کہا کہ 100-D میں رجسٹرڈ پروجیکٹس پرسو فیصد ٹیکس پہلے ہی ادا کردیا گیاہے لیکن اب کہا جارہا ہے کہ ٹیکس آرڈیننس کی شق 236 کے تحت مزید 3 فیصد ٹیکس طلب کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی پروجیکٹ پر ڈبل ٹیکس طلب کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ چیئرمین آبادآصف سم سم نے کہاکہ تعمیراتی صنعت کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کا سنگ بنیاد ہے۔انھوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کا 60 سے 70 فیصد مٹیریل خریدنے میں صرف ہوتا ہے جس سے تعمیراتی شعبے سے منسلک سیکڑوں دیگر صنعتوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار کے ساتھ ساتھ قومی خزانے کو بھی ٹیکس کی صورت میں کھربوں روپے کا ریونیو بھی ملتاہے۔آصف سم سم نے کہا کہ آباد کاہرممبر ٹیکس پیئر ہے۔ حکومت اگر اپنی ٹیکس آمدنی بڑھانا چاہتی ہے تو تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات کرے۔انھوں نے کہا کہ حکومتی تعاون سے ہم پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں نمایا کردار اداکرسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگلے ہفتے قومی اسمبلی میں بجٹ 2024-25 پیش کیا جانا ہے اور ہمیں توقع ہے کہ آباد کی تجاویز پالیسیوں کی تشکیل میں اہم ثابت ہوں گی جو پاکستان کے تعمیراتی منظر نامے کے مستقبل کی سمت متعین کریں گی۔ چیئرمین آصف سم سم نے حکومت سے اپیل کی کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے تعمیراتی صنعت کو بھی اسپیشل انویسٹمنت فیسیلیٹیشن کونسل(ایس آئی ایف سی) میں نمائندگی دی جائے۔