بحریہ ٹاؤن کا ملک ریاض آسمان سے زمین پر آگرا ، دو ریٹائرڈ برگیڈیئر سمیت تین ملازمین سے تفتیش ، 30 آف شور کمپنیوں کے حوالے سے ملک ریاض اور بیٹے کے بارے میں اہم انکشافات ، ملک ریاض نے انقلابی ہونے اور وعدہ معاف گواہ نہ بننے کا نعرہ لگا کر عمران خان کو ماموں بنا دیا

بحریہ ٹاؤن کا ملک ریاض آسمان سے زمین پر آگرا ، دو ریٹائرڈ برگیڈیئر سمیت تین ملازمین سے تفتیش ، 30 آف شور کمپنیوں کے حوالے سے ملک ریاض اور بیٹے کے بارے میں اہم انکشافات ، ملک ریاض نے انقلابی ہونے اور وعدہ معاف گواہ نہ بننے کا نعرہ لگا کر عمران خان کو ماموں بنا دیا ، پشاور کا بحریہ ٹاؤن عذاب سے بچا لیا اور ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے پی ٹی ائی کی سوشل میڈیا ٹیم کی ڈرولنگ سے خود کو نہ صرف بچا لیا بلکہ وہی سوشل میڈیا ٹیم مفت میں مجاہد بنا کر پروموٹ کر رہی ہے اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے پی ٹی ائی سوشل میڈیا واریئرز نے ملک ریاض کو کندھوں پر اٹھا رکھا ہے وہ بھی مفت میں ۔ یہ ہوتی ہے کامیاب بزنس اسٹریٹجی ۔ لیکن جہاں تک پاکستان کے ریاستی اداروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے یا لڑنے کا معاملہ ہے تو اس میں ذرا برابر حقیقت نہیں کیونکہ ملک ریاض نے تمام مطلوبہ کاغذات اور ریکارڈ فراہم کر کے عملی طور پر سرنڈر کر دیا ہے وہ ریاست سے لڑنے کے نام موڈ میں ہیں نہ پوزیشن میں۔ ملک ریاض کو صاف نظر آرہا ہے کہ ان کے خلاف مزید ریفرنس بن سکتے ہیں انہوں نے دولت نہ صرف پاکستان سے چھپا کر باہر منتقل کی بلکہ اف شور کمپنیوں کا ریکارڈ بھی تفتیشی اداروں کے ہاتھ لگ چکا ہے صحافی راجہ عاطف ذوالفقار نے اپنے وی لاگ میں بڑی تفصیل کے ساتھ ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن کے ڈوبنے کے معاملات سے لے کر اپ شور کمپنیوں کے اہم دستاویزی ریکارڈ کی برامدگی تک ملک ریاض کے

https://www.youtube.com/watch?v=6LzdzNTNFjU

https://www.youtube.com/watch?v=kc6jGn-QpC0

https://www.youtube.com/watch?v=aGuEFUkI664

https://www.youtube.com/watch?v=MDZfgoF6xwI

بزنس کا کافی پوسٹ مارٹم کیا ہے صاف بتا دیا ہے کہ کوئی انقلابی انسان نہیں ہے نہ ہی وعدہ معاف گواہ بننے کی کوئی آفر ۔ ایک طرف ملک ریاض نے جیل میں بیٹھے عمران خان کے حق میں بیان دے کر اس کو بے وقوف بنایا ہے تاکہ خیبر پی کے میں بحریہ ٹاؤن پشاور کے معاملات کو عذاب سے بچاتا رہے ساتھ ہی پی ٹی ائی کے مضبوط سوشل میڈیا نیٹ ورک کی ٹرولنگ سے نہ صرف خود کو بچایا ہے بلکہ ان کے لیے خود کو ہیرو اور مجاہد کے طور پر پیش کیا ہے اور انہوں نے اسے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے اور وہ بھی بالکل مفت میں اس کی پروموشن کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دو ریٹائرڈ برگیڈیئر اور ایک سول ملازم سمیت جو ملازمین گرفتار ہوئے اور چھاپے پڑے ان سے بہت سے اہم انکشافات ہو چکے ہیں بحریہ ٹاؤن کے لیے کام کرنے والے برگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر بٹ اور برگیڈیر ریٹائرڈ ظفر شاہ اور ایک سویلین ملازم منظور حسین مغل کی گرفتاری ہوئی اور انہیں اس وقت جہاز سے اف لوڈ کیا گیا جب یہ ملک چھوڑ کر جا رہے تھے انہیں ایک حساس ادارے کی رپورٹ پر ایف ائی اے نے اف لوڈ کیا اور اس حوالے سے ڈان کے رپورٹر اسد ملک کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا اپ شور کمپنیوں کے بارے میں تفتیش ہو رہی ہے ایک کمپنی پر 25 سے 30 ارب ٹیکس کے معاملات ہیں مزید ریفرنس ملک ریاض کے خلاف تیار ہو رہے ہیں عملی طور پر ملک ریاض اور اس کا بیٹا ملک سے بھاگے ہوئے ہیں لیکن وہ ریاست کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح معاملات سیٹل ہو جائیں اور ان کے خلاف چھاپے کاروائیاں اور نئے ریفرنس بننا رک جائیں لیکن القادر ٹرسٹ کیس میں اور برطانیہ سے پیسوں کی واپسی میں اور سپریم کورٹ میں 460 ارب روپے کے جرمانے کے کیس میں ان کے ذمے جو رقم واجب الادا ہے وہ تو انہیں دینی پڑے گی اور عمران خان اور پوچھا بی بی کے ساتھ وہ براہ راست مجرم ہیں لہذا ان کی معافی کا سوال ہی نہیں اٹھتا یہی وجہ ہے کہ وہ کافی پریشان ہیں اور چاروں طرف سے گھیرے میں ا چکے ہیں اس لیے پریشان ہو کر انہوں نے ایسا بیان دیا کہ کمال ہوشیاری سے سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا اور یہ کہہ دیا کہ میں تو وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوں گویا مجھ پر بڑا دباؤ ہے اور پی ٹی ائی کے لوگ اب اسے ہیرو سمجھ رہے ہیں حالانکہ اس شخص نے ملک اور قوم کا پیسہ لوٹا چرایا بیرون ملک دولت منتقل کی پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے اس پر چار کھرب 60 ارب روپے کا جرمانہ لگایا وہ رقم بھی اس نے بنائے گئے خصوصی اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائی بلکہ اس رقم کی ادائیگی بھی روک دی مختلف ادارے اور شخصیات اس کو سہولت دیتے ائے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اونٹ پہاڑ کے نیچے اگیا ہے اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریکارڈ پر ریکارڈ جمع ہو رہا ہے نئے ریفرنس کی تیاری ہو رہی ہے اور ملک ریاض مختلف شخصیات کے ذریعے معافیاں مانگ رہا ہے اور جان چھڑانا چاہ رہا ہے لیکن اس کی جان چھوٹ نہیں رہی ۔ اگر اس کی دھمکیوں سے ریاست دباؤ میں ا چکی ہوتی یا ریاستی کردار اس کے سامنے ماضی کے اہم کرداروں کی طرح مفادات پر سمجھوتہ کر لیتے تو اب تک ملک ریاض اور اس کا بیٹا پاکستان سے باہر نہ بیٹھے ہوتے بلکہ پاکستان ا کر اپنی مرضی کے فیصلے کر رہے ہوتے ۔
============================

سول ایوی ایشن اتھارٹی کا غیر سنجیدہ رویہ، یورپی یونین کا پی آئی اے پروازوں پر پابندی اٹھانے سے انکار
یورپی یونین کا سی اے اے کو قابل افسران لگانے کا مشورہ
سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے ریگولیٹری ڈپارٹمنٹ کے غیرسنجیدہ رویے کے باعث یورپین یونین کمیشن (ای یو سی) نے پی آئی اے کی پروازوں سے پابندی اٹھانے سے انکار کردیا ہے۔

یورپ میں قومی ایئر لائن کی پروازوں پر چار سال سے پابندی عائد ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اقدامات نہ کرنے پر پابندی میں توسیع ہوئی ہے۔

نجی ایئر لائن کے طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، گورنر سندھ حادثے سے بال بال بچ گئے

اکتیس مئی کو ہوئے ای یو کمیشن کے اجلاس میں سی اے اے کو قابل افسران لگانے کا مشورہ دیا گیا ہے، پی آئی اے کی نجکاری پر بھی منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔
https://www.aaj.tv/news/30389215/
EUROPEAN UNION COMMISSION

CIVIL AVIATION AUTHORITY (CAA)

BAN ON PIA FLIGHTS
================================

خیبرپختونخوا: آخری پرواز بھی بشکیک سے 287 طلبہ کو لے کر پشاور پہنچ گئی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایئر پورٹ پر خود طلبہ کا استقبال کیا
خیبرپختونخوا حکومت کی آخری پرواز بھی کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک سے 287 طلبہ کو لے کر پشاور پہنچ گئی۔

خیبرپختونخوا حکومت کی آخری پرواز کے ذریعے 287 طلبہ بشکیک سے پشاور ایئر پورٹ پہنچے تو وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے صوبائی کابینہ ممبران کے ہمراہ جاکر خود ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان کے مطابق مجموعی طور پر خیبرپختوںخوا حکومت کی 5 خصوصی پروازوں کے ذریعے 1500 افراد کو وطن واپس لایا گیا جس پر 14 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی۔

پروازوں کے ذریعے خیبرپختونخوا کےعلاوہ پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر کے طلبہ کو بھی لایا گیا جن کو اپنے علاقوں تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا گیا۔

کرغزستان سے طلبہ کی واپسی: چوتھی پرواز پشاور پہنچ گئی

واضح رہے کہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں مقامی طلبہ کی جانب سے غیر ملکی طلبا پر حملوں میں کئی پاکستانی طلبہ زخمی ہو گئے تھے۔

طلبہ کو سیکیورٹی نہ دے سکے، کرغیز حکومت کا اعتراف

13 مئی کو بشکیک کی بودیونی کے ہاسٹل میں مقامی اور غیرملکی طلبہ میں لڑائی ہوئی تھی، جھگڑے میں ملوث 3 غیرملکیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

کرغز میڈیا کے مطابق 17مئی کی شام چوئی کرمنجان دتکا کے علاقے میں مقامیوں نے احتجاج کیا، مقامی افراد نے جھگڑے میں ملوث غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، بشکیک سٹی داخلی امور ڈائرکٹریٹ کے سربراہ نے مظاہرہ ختم کرنے کی درخواست کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق حراست میں لیے گئے غیرملکیوں نے بعد میں معافی بھی مانگی لیکن مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کیا اور وہ مزید تعداد میں جمع ہوگئے، پبلک آرڈر کی خلاف ورزی پر متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

ALI AMIN GANDAPUR

KPK GOVERNMENT

KYRGYZSTAN

KYRGYZSTAN CLASH

BISHKEK

KYRGYZSTAN PAKISTANI STUDENT

KYRGYZSTAN AMBASSADOR TO PAKISTAN
Facebook
Twitter
========================

عشرت العباد کی صدر آئی پی پی محمود مولوی سے دبئی میں ملاقات، مل کر چلنے پر اتفاق

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ڈاکٹر عشرت العباد نے استحکام پاکستان پارٹی سندھ کے صدر محمود مولوی سے دبئی میں ملاقات کی۔

ملاقات میں ملکی، سیاسی و معاشی صورت حال اور کراچی میں امن و امان سمیت باہمی دلچسپی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے کراچی میں بڑھتی ڈکیتی وارداتوں اور نوجوانوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار اور ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے مل کر چلنے اور مستقبل میں رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم پر تشویش ہے، عشرت العباد

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عشرت العباد نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملک کی خاطر ایک پیج پر آکر کام کرنا ہو گا۔

محمود مولوی کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے اور سیاسی و معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ اور معتبر شخصیات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت العباد کا ملکی عملی سیاست میں کردار ادا کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔
==========================

ملک کے لیے عدلیہ اور فوج کے سربراہ سمیت سب کو ساتھ بیٹھنا ہو گا، شاہد خاقان
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ماضی میں رہنا ہے یا آگے بڑھنا ہے، ملک کے لیے عدلیہ اور فوج کے سربراہ سمیت سب کو ساتھ بیٹھنا ہو گا۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر وِد نادیہ مرزا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ماضی کو دیکھنا ضروری ہے لیکن اس میں رہنا ضروری نہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ماضی میں رہنا ہے یا آگے بڑھنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی تاریخ چھپا رکھی ہے، قوم سے حقائق مخفی کر رکھے ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح کی ایمبولینس کے ساتھ کیا ہوا؟، عوام کو کچھ پتا نہیں، جو کتابیں ہمیں طالب علمی میں پڑھائی جاتی ہیں وہ ملک کی تاریخ نہیں۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حالیہ سوشل میڈیا بیان سے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حمود الرحمٰن کمیشن ایک پبلک دستاویز ہے جو انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے، عمران خان تو جیل میں ہیں تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ یہ ٹوئٹ کر دیں؟۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر لیڈرکے خلاف غداری کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے، اگر کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو کارروائی ہونی چاہیے لیکن حکومت کا یہ کام نہیں کہ وہ الزامات لگائے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایک ٹروتھ کمیشن بنا دیا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ ملک میں آخر ہوا کیا ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا موجودہ حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی؟ تو سینئر سیاستدان نے جواب دیا کہ حکومت کا مدت مکمل کرنا نظر نہیں آتا کیونکہ ہماری یہ تاریخ رہی ہے کہ کوئی بھی حکومت مدت مکمل نہیں کر سکی لہٰذا یہ حکومت بھی مدت مکمل نہیں کر پائے گی۔

نئی سیاسی جماعت سے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ نئی سیاسی جماعت بنانے جا رہے ہیں جس کا نام عوام پاکستان ہو گا، نئی جماعت ملک کو اصلاحات کا منصوبہ دے گی جبکہ حالات کے مطابق مسائل کا حل بھی پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئی جماعت میں وہی لوگ شامل ہوں گے جو مسائل حل کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں، ہم ’شارٹ کٹ‘ کے حامی نہیں کیونکہ سیاست اقتدار کا نام نہیں ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایک جماعت آج زیر عتاب ہے اور جو بھی جماعت زیر عتاب ہوتی ہے وہ وہی باتیں کرتی ہے جیسی آج پی ٹی آئی کررہی ہے، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی یہی باتیں کر چکی ہیں، اس سے سبق حاصل کریں کہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچا کیسے ہے، اس سے سبق حاصل کر کے آگے دیکھیں، اگر کسی کے پاس بہتر راستہ ہے تو میں اس کی بات سننے کے لیے تیار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اکٹھا بیٹھنا پڑے گا، جو ملک آپس میں جنگ کرتے رہے ہیں وہ بعد میں آپس میں بیٹھے ہیں، آج ملک کے بے پناہ مسائل ہیں اور عوام تکلیف میں ہیں، کیا ملک کے چھ سات لوگ اکٹھے میز پر بیٹھے نظر نہیں آسکتے؟، ان کرسیوں کو ایک طرف کردیں ان میں پاکستان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں جن چھ سات لوگوں کی بات کررہا ہوں ان میں چار بڑے سیاسی لوگ ہیں، ساتھ میں فوج کے سربراہ اور عدلیہ کے سربراہ بھی بیٹھیں، یہ سب لوگ ارباب اختیار بھی ہیں اور ارباب اقتدار بھی ہیں، یہ ایک ہائبرڈ حکومت ہے اور آنکھیں بند کرنے سے حکومت نہیں بدلے گی۔