کراچی سمیت سندھ کے 16 اضلاع میں خصوصی پولیو مہم کا فیصلہ

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اور چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اجلاس

اجلاس میں مختلف محکموں کے سیکریٹری، ایڈیشنل آئی جی کراچی، کوآرڈینیٹر ای سو سی سندھ ارشاد علی سودھر سمیت تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز شریک

اجلاس میں سندھ کے 16 اضلاع میں 3 جون سے پولیو مہم چلانے کا فیصلہ

خصوصی مہم میں 47 لاکھ 57 ہزار 303 بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

تمام ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں پر بھی بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے لازمی پلائے جائیں۔ صوبائی وزیر صحت

منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بھی پولیو مہم میں شامل کیا جائے۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو

پولیو مہم میں زیر تعلیم میڈیکل اور پبلک ہیلتھ کے طلبہ کو بھی شامل کیا جائے گ
ا۔ اجلاس میں فیصلہ

میڈیکل اور پبلک ہیلتھ کے طلبہ انکاری والدین کو پولیو کے قطرے پلانے کے لئے آمادہ کریں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ

چیف سیکریٹری سندھ کی تمام ڈپٹی کمشنر کو پولیو مہم کی نگرانی کی ہدایت

ہائے رسک یوسیز میں پولیو مہم میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ

نئیں پیدا ہونے والے بچوں کا 100 فیصد رکارڈ نہیں ہوگا تب تک پولیو وائرس چیلینج رہے گا۔ سید آصف حیدر شاہ
====================

کمشنر کراچی نے تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں۔کو طلب کرلیا

شہر کے مسائل کے حل اور عوامی شکایات کے ازالے پر زور

کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی: سید حسن نقوی

کراچی (31 مئی 2024): کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے آج کراچی ڈویژن کے ساتوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ان کے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں کے ساتھ طلب کرلیا۔ اجلاس میں عوامی خدمات کی فراہمی، ترقیاتی اسکیموں، دیگر اداروں سے کے تعاون اور تعمیل کے مسائل اور سول سروسز کو مضبوط کرنے کے لیے مطلوبہ پالیسی فریم ورک سمیت عوامی مسائل کے ازالے کے بابت تفصیلی گفتگو کی گئی تاکہ نچلی سطح پر سرکاری افسران کی کارکردگی میں بہتری لا جاسکے جو کہ حکومت کا چہرہ ہیں. کمشنر کراچی نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں کی مکمل ذمہ داری سنبھالیں، حکومتی احکامات نہ ماننے کے خلاف چوکس رہیں، اور شہر کے میونسپل مسائل کے بارے میں عوامی شکایات پر خصوصی توجہ دیں۔

ڈی سی ساؤتھ آفس گارڈن میں واقع کمشنر کلب میں منعقدہ اجلاس میں ڈی سی ساؤتھ الطاف ساریو، ڈی سی سینٹرل فواد غفار سومرو، ڈی سی ویسٹ احمد علی صدیقی، ڈی سی ایسٹ شہزاد فضل عباسی، ڈی سی کورنگی جواد احمد، ڈی سی ملیر عرفان سالار میروانی، ڈی سی کیماڑی جنید خان اور کراچی کے مختلف علاقوں میں تعینات اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.

ڈپٹی کمشنرز نے میٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے, عوامی پالیسیوں کے نفاذ کے سلسلے میں درپیش مسئل پر زمینی حقائق کی عکاسی کرتے ہوئے کیا. انہوں نے کمشنر کراچی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تمام فیلڈ افسران کے ساتھ اس طرح کے انٹرایکٹو اجلاس میں مدعو کیا جن کے پاس زمینی حقائق ہیں اور جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مختلف دباؤ کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے مختلف اداروں کے عدم تعاون کے رویے کی بازگشت سنائی، لیکن پھر بھی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی خدمت جاری رکھیں گے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرتے رہیں گے.
اس موقع پر فیلڈ آفیسرز – اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکار – نے دیگر متعلقہ اداروں کے عدم تعاون پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جو کہ عوامی خدمات کی موثر فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ عوامی شکایات کے معاملات پر دیگر ایجنسیوں سے تعمیل حاصل کرنے کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک مرتب کیا جائے. ان کا خیال تھا کہ اگر انہیں میونسپل مجسٹری کے اختیارات دیے جائیں تو شہر کے مسائل بہتر طریقے سے حل ہونگے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور تخلیقی جدت میں مزید سرمائیکاری کی جائے.
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے فیلڈ افسران کو اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کرنے پر سراہا اور کہا کہ اگرچہ حقائق کی نبض پر آپ کا ہاتھ ہے لیکن پھر بھی عوام میں انتظامیہ کے خلاف شکایات ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افسران کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سول سروس میں بیشمار دشواریاں ہیں اور یہ قطعی طور پر ہموار سفر نہیں ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، اپنے علاقوں کا روزانہ باقاعدگی سے دورہ کریں اور عوامی شکایات سننے کے لیے اپنے دفاتر میں موجود رہیں۔ انہوں نے کہا کہ 70 فیصد عوامی مسائل اس وقت حل ہوجاتے ہیں جب آپ عوام سے ملاقات کے لیے موقع پر موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کے بارے میں افسران کو وضاحت کرتے ہوئے کہا، “میرے لیے، شہری مسائل کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔ میں کاغذی رپورٹس کے بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کی طرف سے دی گئی رپورٹس کی دوبارہ تصدیق کرواؤں گا، اور اگر غلط معلومات ملی تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی. ” انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ماتحتوں پر انحصار کرنے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر پرائس چیک کرنے کے لیے خود بازاروں کا دورہ کریں۔
سید حسن نقوی نے کہا کہ افسران کے لیے گاڑیوں سمیت دیگر لاجسٹک مسائل کو حل کیا جا رہا ہے، اور مطلوبہ پالیسی فریم ورک بھی پائپ لائن میں ہے، اور دو ماہ میں آپ کو کوئی اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ تاہم، میں عوامی خدمت کی فراہمی کے لیے آپ سے بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی توقع رکھتا ہوں۔ انہوں نے افسران کو خبردار کیا کہ عوامی خدمت میں کسی بھی قسم کی سستی و کاہلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔