انقلابی ملک ریاض

انقلابی ملک ریاض

ریاض ٹھیکے دار سے پراپرٹی ٹائیکون تک کرپشن کے بے تاج بادشاہ کی انوکھی کہانی ۔ سرکاری زمینوں پر قبضے کی بدترین مثال ۔ کھانچے ہی کھانچے ۔ اور رشوت ہی رشوت ۔ کرپشن ہی کرپشن ۔ فارمولا ہی یہ بنایا کہ لے کے رشوت پکڑا گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا ۔
جب عمران خان پاور میں نہیں ائے تھے تو ان کے ملک ریاض اور بحریہ کے بارے میں کیا تاثرات تھے انہوں نے حامد میر کے پروگرام میں کیا کہا تھا ان کا پرانا انٹرویو اور خیالات طلعت حسین نے اپنے وی لاگ میں دکھا دیے جہاں عمران خان کہہ رہے تھے کہ یہ ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کا جو سارا اسکینڈل ہے یہ ریاض بحریہ کیا چیز ہے ۔ ہر کسی کو خرید لیتا ہے پیسہ آفر کرتا ہے یہ لوگوں کو نیلام کرتا ہے لوگوں کی قیمت لگاتا ہے کہ اس کی قیمت کتنی ہے اس کی قیمت کتنی ہے ملک ریاض کا کیا کردار ہے کہ وہ اصف زرداری اور نواز شریف میں سمجھوتہ کرا رہا ہے کس حیثیت سے ؟ ملک ریاض اور بحریہ پر بہت سے کیسز ہیں اس نے بہت سی جنگلات کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہےاب اسے کون روکے گا پنجاب میں جنگلات کی زمینوں پر قبضہ کرنے سے ۔ایکشن لینے والوں کو یہ خرید لیتا ہے غریب لوگ مارے مارے پھرتے ہیں کہ ہماری زمینوں پر اس نئے قبضے کر لیے ہیں کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا کیونکہ یہ ڈیل ان سے کرتا ہے جو اقتدار میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔

معروف صحافی تجزیہ نگار طلعت حسین نے اپنے پروگرام میں ملک ریاض کو تنزیہ طور پر انقلابی قرار دیتے ہوئے ان کے ماضی کے حوالے سے بہت سے واقعات رپورٹ کیے اور ان پر لگنے والے الزامات اور ان کے اب حالیہ بیانات اور دعووں کو بھی موضوع بحث بنایا
=======================

ڈونلڈ ٹرمپ سزا کے بعد بھی صدارتی انتخاب لڑ سکتے ہیں؟
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی پر مجرم ٹھرا دیا گیا ہے اور ایسا امریکا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سابق صدر کو سزا سنائی گئی ہو۔

اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سزا کے بعد بھی رواں سال نومبر میں ہونیوالے امریکی صدارتی انتخاب لڑنا ممکن ہے؟

اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب بھی انتخابات میں حصّہ لے سکتے ہیں اور اس طرح امریکا کی تاریخ میں ڈونلڈ ٹرمپ مجرم کی حیثیت سے صدارتی انتخابات میں حصّہ لینے والے پہلے سابق صدر بن گئے ہیں۔

امریکا کے آئین کے مطابق، صدارتی انتخابات میں حصّہ لینے کے لیے امیدوار کی عمر کم از کم 35 سال، امریکا شہری ہونا اور کم از کم 14 سال سے امریکا میں مقیم ہونا لازمی ہے۔

امریکا کے آئین میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کے انتخابات میں حصّہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن میں کامیابی کا انحصار ووٹر کے جذبات پر ہے، بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم از کم امریکا کی ایسی ریاستیں جہاں رپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان ٹکر کا مقابلہ ہونے کا امکان ہے وہاں کے 53 فیصد ووٹرز ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے اگر وہ مجرم قرار پائے۔

کوئینی پیا یونیورسٹی کے ایک اور سروے کے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں سے 6 فیصد ووٹر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں لہٰذا سزا کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے صدارتی انتخاب جیتنا بہت مشکل ہوگا۔
======================

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 34 الزامات میں مجرم قرار
امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق صدر کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنادی گئی، نیویارک کی ایک عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 2016 کے انتخابات سے قبل ایک پورن اسٹار کو خاموش کرنے کے لیے دی گئی ادائیگی کو چھپانے کے لیے جعلی دستاویزات کا مجرم قرار دیا۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق 12 رکنی جیوری نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام 34 الزامات میں مجرم قرار دے دیا۔

ڈان نیوز کے مطابق عدالت نےکاروباری ریکارڈ میں جعلسازی کے کیس کا فیصلہ سنادیا۔

امریکی عدالت کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد تمام 34 الزامات درست ثابت ہوئے، 11 جولائی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی سزا کا اعلان کیا جائے گا۔

77 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور ان کی جانب سے اپیل کیے جانے کی توقع ہے، انہیں زیادہ سے زیادہ 4 سال قید کی سزا کا سامنا ہے، حالانکہ اس جرم کے مرتکب دیگر افراد کو اکثر کم سزائیں یا جرمانے ملتے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور 81 سالہ جوبائیڈن ایک سخت صدارتی دوڑ میں بندھے ہوئے ہیں، اور رائٹرز/ اِپسوس پولنگ کے مطابق اس فیصلے سے ڈونلڈ ٹرمپ آزاد اور ریپبلکن ووٹروں کی کچھ حمایت کھو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخاب سے قبل پورن اسٹار اسٹیفنی کلیفورڈ عرف اسٹورمی ڈینیئلز کو تعلقات کی معلومات چھپانے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔