صدر ایف پی سی سی آئی انجینئر دارو خان اچکزئی پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی کیلئے پاک چین باہمی تجارت میں RMBکے استعمال کی تجویز کو سر اہا۔

کرا چی  : فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامر س اینڈانڈ سٹر ی کے صدر انجینئردارو خان اچکز ئی نے اپنے استقبا لیہ خطا ب میں چین کی معیشت پر رو شنی ڈالتے ہو ئے کہاکہ چین کی معیشت تیز ی تر قی کی راہ پر گامز ن ہے جس کا اندازہ چین کی کھر بو ں ڈالر کی معیشت، کھربو ں ڈالر کی تجا رت، کم تر ین افراط زر، بے روز گاری اور شر ح سود سے لگا یا جا سکتا ہے۔ سی ای او ICBCپاکستان Airdy نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ایف پی سی سی آئی کا دو رہ کیا اور FPCCIکے ممبران کے ساتھ میٹنگ کی اور انہیں RMBکر نسی میں تجا رت کے تحت ہو نے والے فوائد سے آگا ہ کیا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے پاکستان اور چین کے ما بین RMBکر نسی کے طو ر پر استعمال کر نے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہو ں نے کہاکہ کر نسی کا تبا دلہ با ہمی طو رپر فا ئدہ مند ثابت ہو گا اور دو نو ں ہمسا یہ ممالک کے ما بین معا شی و تجا رتی تعلقا ت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر ے گا۔ ایف پی سی سی آئی صدر انجینئردارو خان اچکز ئی نے آگا ہ کیا کہ پاکستان اور چین کا مو جو د ہ تجا رتی حجم 20بلین ڈالر ہے جس میں چین سے در آمد ات 18بلین ڈالر کی ہے جبکہ پاکستان کی چین کو برآمدات صرف 2بلین ڈالر کی ہیں۔ انہو ں نے مز ید کہاکہ مو جو دہ تجا رتی حجم میں سے 16بلین ڈالر چین کے حق میں ہے اسی وجہ سے پاکستا ن اور چین سے زر مبا دلہ کے ذخا ئر پر دبا ؤ کوکم کر نے اور دو نو ں ممالک کے ما بین دو طر فہ تجا رت کے حجم کو مزید بڑھانے کے با ہمی کر نسی تبا دلے کے معا ہد ے پر دستخط کیئے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی نے ICBC بینک کی جانب سے سی پیک اور چا ئنا پاکستان فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹCPFTAکے بڑ ے سر مای کاری کے منصوبو ں میں اپنی خدمات اور سہو لیات فراہم کرنے پر سراہا جس سے دو طر فہ تجا رتی تعلقا ت کو RMBمیں عملی جا مہ پہنا نے میں مدد ملی اس کے ساتھ ساتھ ایس بی پی کے کے زر مبا دلہ کے ذخائر پر ہو ئے دبا ؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملی۔

سی ای او ICBCپاکستان Airdy نے کہاکہ RMBاب اپنے حتمی محاذوں، مکمل تبا دلو ں اور ایک عام کر نسی میں تبدیلی کی طر ف جا رہا ہے جو کہ جنوب مشر قی ایشیا ء اور دیگر علاقو ں جیسے HK MACAU وغیر ہ کی کمپنیو ں اور انفرادی طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پا لیسی سے متعلق جا مع اقداما ت اٹھا ئے ہیں تا کہ یہ یقینی بنا یا جا سکے کہ درآمد ات، برآمدات اور ما لی اعانت کا لین دین RMBمیں کیا جا سکے۔ تمام نجی اور سر کا ری شعبے کے کا روباری ادارے پاکستان اور چین دو نو ں دو طر فہ تجا رت اور سر مایہ کاری کی سر گر میوں کے لیےRMB کا انتخا ب کر نے کے لیے آزاد ہیں۔ انہو ں نے کچھ حقا ئق اور اعدا د شما ر کا حوالہ دیتے ہو ئے کہاکہICBC بینک پاکستان پہلے 11ما ہ میں ما رکیٹ کا حجم 11بلین تک بڑھا لیا جوکہ گزشتہ سال کے مقا بلے میں 25گنا زیا دہ ہے۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ چین کے ساتھ تجا رت کر تے ہو ئے زیا دہ سے زیا دہ کا روبا ری افراد RMBکے استعما ل پر آمدہ ہیں تا ہم چین اور پاکستان کے ما بین total trade settlement کے مقابلے میں یہ صر ف 5$% ہے جس سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ ابھی بھی تمام کا روبا ری افراد اور بینکا ری صنعت کے لیے ایک بہت بڑی جگہ اور مواقع مو جو د ہیں۔

 

ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نا ئب صدر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہاکہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ گرین بیک پر انحصار کم کر نے کے لیے پاکستان نے دو طر فہ تجا رت کے لیے چینی یو آن کو استعمال کر نے کا فیصلہ کیا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ یوآن کا اپنا نے کے بعد پاکستان اور چین لین دین کے لیے USڈالر کی جگہ لے پا ئیں گے۔ انہو ں نے بتا یا کہ روپیہ،یو آن تبا دلہ کی رقم 10ارب یو آن سے دگنی ہو کر 20ارب یو آن کر دی گئی ہے جس سے ایک ایسے وقت میں امر یکی ڈالر پر پاکستان کا انحصا ر کم ہو جا ئے گا جب غیر ملکی کر نسی کے ذخا ئر اور روپے دبا ؤ میں ہیں۔ انہو ں نے مزید کہاکہ حکومت پاکستا ن چین، تر کی، روس اور ایران کے ساتھ بھی کر نسی تبا دلہ معاہد ے پر دستخط کیئے ہیں۔ سر کا ری اطلا عا ت کے مطا بق سی پیک پر وجیکٹس نے جس طر ح رفتا ر حاصل کی ہے اور معاشی نمو میں تیز ی آرہی ہے۔اس سال دو طر فہ تجا رتی حجم جو رواں مالی سال میں 10بلین امریکی ڈالر عبور کر نے کی توقع ہے اس سال13بلین ڈالر عبو رکر نے کی توقع ہے۔

سا ل کے نو مہینو ں میں یہ پہلے ہی 10بلین امریکی ڈالر وعبور کر چکا ہے مزید یہ کہ چائنا سے درآمدات برآمدات سے کہی زیا دہ ہیں جسطر ح برآمدات 1.5 بلین ڈالر اور 2.0بلین ڈالر کے در میان رہی اور در آمد ات آسانی سے 11بلین ڈالر کو عبو ر کر چکی ہیں۔ یہ غیر ملکی کر نسی کے ذخا ئر اور ایکسچینج ریٹ کے استحکام پر دباو کو کم کر نے میں بھی مدد گار ثا بت ہو گا۔ چینی کمر شل کو نصلر نے اپنی پر یزنٹیشن میں بز نس کمیو نٹی میں RMBکے استعمال کے با رے میں شعور پیدا کر نے ہو زور دیا۔ پہلے پاک چین FTAکا حوالہ دیتے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ پاکستا ن اور چین کے ما بین دو طر فہ تجا رتی حجم 2006میں 5.25 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2018میں 19.08 بلین ڈالر تک ہو گیا۔ انہو ں نے اس امید کا اظہار کر تے ہو ئے کہاکہ آنے والے بر سو ں میں کر اچی میں چینی قو نصل جنر ل پاکستا ن میں RMBکے استعمال اور دو طر فہ تعاون کو فر وغ دینے پر تو جہ دیں گے۔