سربراہان مملکت اور معروف سیاسی شخصیات جن کی موت فضائی حادثے میں ہوئی۔

گزشتہ روز ایران کے صدر  سید  ابراہیم رئیسی  ایران کے  صوبے مشرقی آذربائیجان  میں ہیلی کاپٹر  حادثے کا  شکار  ہوکر  جاں بحق ہوگئے۔ ایرانی صدر کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں ایرانی وزیر خارجہ، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ترجمان اور مشرقی آذربائیجان صوبے کے گورنر بھی ہیلی کاپٹر میں سوار تھے جو اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ایرانی صدر کا  ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونا کسی سربراہ مملکت، سربراہ حکومت یا کسی اہم سرکاری شخصیت کی فضائی حادثے میں ہلاکت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ تاریخ میں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ ذیل میں فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والی کچھ اہم شخصیات کا ذکر دیا جارہا ہے۔فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے سربراہان مملکت میں ایک نام پولش صدر لیخ کاچینسکی کا بھی ہے۔ 10 اپریل 2010 کو پولش صدر  اپنے  وفد کے ہمراہ  روس جا رہے تھے کہ  روس کی  سمولنسک  ائیر بیس پر لینڈنگ کے وقت ان کا جہاز کریش کرگیا۔ اس حادثے میں پولش صدر، ان کی اہلیہ  اور   وفد کے دیگر 94 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس وقت کے روسی وزیر اعظم  ولادیمیر پیوٹن کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیٹی نے پائلٹ کی غلطی کو حادثے کی وجہ قرار دیا تھا۔فضائی حادثے میں وفات پانے والی شخصیات میں ایک بڑا نام اس وقت کے صدر پاکستان جنرل ضیا الحق کا بھی ہے۔17 اگست 1988کو جنرل ضیا الحق اپنے سی 130 جہاز میں پرواز کررہے تھے کہ ان کا جہاز بہاولپور سے کچھ فاصلے پر دریائے ستلج کے قریب گرکر تباہ ہوگیا۔ جنرل ضیا الحق کے ساتھ جہاز میں جوائنٹ چیف اسٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان اور  پاکستان میں امریکی سفیر آرنلڈ رافیل سمیت 29 افراد سوار  تھے۔ سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی  23 جون 1980 کو فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے۔سنجے گاندھی جہاز خود اڑا رہے تھے جو دہلی کے صفدر جنگ ائیر پورٹ کے نزدیک حادثے کا شکار ہوا۔ یکم جون 1987 کو لبنانی وزیر اعظم رشید کرامی پرواز کے دوران اپنے ہیلی کاپٹر میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔اس حادثے میں صرف لبنانی وزیر اعظم کی ہی ہلاکت ہوئی جبکہ  ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر افراد زخمی ہوئے۔بھارتی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بپن راوت 8 دسمبر 2021 کو ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوئے۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں پیش آنے وال اس واقعے میں جنرل پبن راوت اور ان کی اہلیہ سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے۔
حکومت کی جانب سے کی جانے والے تحقیقات میں بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر حادثہ موسم میں آنے والی اچانک تبدیلی کے باعث پیش آیا۔ عراق کے دوسرے صدر عبدالسلام عارف 13 اپریل 1966 کو  فضائی حادثے میں جاں بحق ہوئے، ان کا طیارہ بصرہ کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔عبد السلام عارف کی ہلاکت کے بعد ان کے بھائی عبد الرحمان عارف ملک کے صدر بنے۔سیکرٹری جنرل، اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل داگ ہمارشولد 18 ستمبر 1961 کو فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے۔ داگ ہمارشولد ایک امن مشن پر کانگو میں تھے جہاں ان کا ڈگلس ڈی سی 6 طیارہ تباہ ہوا جس میں داگ ہمارشولد سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے۔امریکی صدر بل کلنٹن کے دور حکومت میں امریکا کے وزیر تجارت رونلڈ براؤن بھی فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے۔ 3 اپریل 1996 کو رونلڈ براؤن سرکاری دورے پر کروشیا جارہے تھے کہ کروشیا میں لینڈنگ کے دوران ان کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔اس حادثے میں رونلڈ براؤن سمیت جہاز میں سوار 35 افراد ہلاک ہوگئے۔ 
=====================

سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ایک نوٹس کے زرئیعے متوجہ کیا گیا ہے کہ گذشتہ سال محکمہ تعلیم میں 9 ہزار آسامیوں کیلئے 175000 امیدواروں کا بلوچستان کے 34 اضلاع میں سکریننگ ٹیسٹ منعقد کرنے اور ہر طالب علم کو کاربن کاپی کے زرئیعے امتحان کے نتیجے کا علم ھونے اور سپریم کورٹ کے فیصلے و حکم کے صادر کرنے کے باوجود نتائج کو اسی روز اپ لوڈ کرنے کے باوجود اس کو مخفی رکھنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اس لئے اساتذہ کی آسامیوں کیلئے امیدواروں کے وکیل سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مس ساجدہ نورین صاحبہ کو آئین کے آرٹیکل 189/204 کی روشنی میں توھین عدالت کی کاروائ سے قبل مطلع کرتے ھوئے تین دن کے اندر سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرنے کی تلقین کی ہے بصورت دیگر وہ عدالت عظمیٰ سے توھین عدالت کے فوجداری اختیار کے تحت دانستہ طور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کی پاداش میں سزا کی استدعا کیلئے درخواست داخل کی جائے گی نوٹس کی کاپی پبلک کردی گئ ہے
==================

صدر زرداری نجی دورے پر دبئی روانہ، چیئرمین سینیٹ نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

کابینہ سیکرٹریٹ نے قائم مقام صدر کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

صدر  مملکت آصف علی زرداری نجی دورے پر دبئی روانہ ہوگئے۔صدر مملکت کی غیر موجودگی پر  چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے قائم مقام صدر کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔کابینہ سیکرٹریٹ نے قائم مقام صدر کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق صدر آصف زرداری کے بیرون ملک دورے کے باعث یوسف رضا گیلانی قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔خیال رہے کہ  آئین کی رو سے صدر کی چھٹی، بیرون ملک دورے یا دیگر ناگزیر وجوہ پر چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر ہوتا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق   ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان قائم  مقام چیئرمین سینیٹ ہوں گے۔