صحت اور تعلیم کے حوالے سے لاہور سے بہت سی اہم اور تازہ ترین خبریں – مدثر قدیر کی رپورٹ

صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ہمارے پیشرو اناڑیوں نے چار سال محض ڈینگیں ماریں ، ہم ڈینگی مارتے ہیں۔
ڈینگی سمیت تمام وبائی امراض کی روک تھام میں شہریوں کو بھی اپنا کردار اور ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

ذمہ دار قومیں ہی عالمی سطح پر باوقار ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے انسٹیٹیوٹ آف پبلک میں ڈسٹرکٹ اینٹمالوجسٹس بطور ماسٹر ٹرینرز کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیشن کے دوران پورے سال کا ڈینگی سمیت دیگر وبائی امراض پر مشتمل ڈیزیز کیلنڈر پر روشنی ڈالی گئی۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہا کہ ہیلتھ کارڈ سسٹم میں تبدیلی لاکر ہیلتھ سسٹم کو زیادہ متحرک بنائیں گے۔خواجہ عمران نذیر نے اینٹمالوجسٹس سمیت تمام ڈاکٹرز کو زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ نئے تقاضوں کے مطابق نئی ریسرچ، نئی ٹیکنالوجی اورجدید سٹڈی سے استفادہ کرکے اپنا علم کو اپڈیٹ رکھیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ماہرین طب نئے چینجز کا سامنا کرنے اور بطریق احسن نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ
ڈینگی ملازمین کے تمام مسائل خوش دلی کے ساتھ حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ
ڈاکٹرز انسانیت کی خدمت کے ذریعے دنیا، آخرت سنوار رہے ہیں۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سال 2023 میں بہتر حکمت علی سے پنجاب میں ڈینگی سے صرف 10 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ رواں سال میں ویکٹر سرویلینس اور مانیٹرنگ کے ذریعے ڈینگی سے کوئی ڈیتھ رپورٹ نہیں ہوئی۔سیشن کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے سیشن کے دوران ماسٹر ٹرینرز اینٹمالوجسٹس میں سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔اس موقع پر آئی پی ایچ کی ڈین ڈاکٹر زرفشاں طاہر اور ڈائریکٹر کمیونیکبل ڈیزیز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر یداللہ بھی موجود تھے۔
===================

لاہور( مدثر قدیر) دانت ہمارے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں اسے کھانے ،چبانے میں دانت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اگر ان میں درد ہو جائے تو پھر غذا کا استعمال کرنا ہمارے لئے ناگزیر ہے جبکہ دانت کے درد سے ہمارے باقی معمول زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں اس لیے جب بھی آپ کے مسوڑوں سے خون آئے یاں غذا آپ کے دانتوں میں پھنسنے لگے تو ڈینٹسٹ سے ضرور رابطہ کریں اور سال میں ایک بار اپنے دانتوں کا معائنہ ضرور کرائیں ان باتوں کا اظہار یونیورسٹی آف لاہور ٹیچنگ ہسپتال کے انچارج ڈینٹل کلینک سینئیر ڈینٹل سرجن ڈاکٹر ذوہیب فاروق نے خصوصی گفتگو میں کیا اس موقع پر ان کا کہنا تھا اکثر اوقات کچھ گرم یا ٹھنڈا پیتے ہوئے اچانک خنجر لگنے جیسا درد ہوتا ہے جو تڑپا جاتا ہے.دانتوں کی سطح کے نیچے دو مزید تہیں ہوتی ہیں جو زندہ ٹشوز پر مبنی ہوتی ہیں اور دماغ کو اس وقت سگنلز بھیجتی ہیں جب ان کا سامنا گرم اور ٹھنڈی غذاؤں سے ہوتا ہے یا جب کوئی چیز اتنی زور سے ٹکرائے کہ دانت ہی ٹوٹ جائے۔دانتوں میں خلاء یا کیویٹز اُس وقت ہوتی ہے جب اوپری سطح فرسودہ ہوجاتی ہے اور یہی درد کی وجہ بنتی ہے ۔ڈاکٹر ذوہیب فاروق نے مزید بتایاکہ میٹھا اور خاص طور ریفائنڈ شوگر کے استعمال کی وجہ سے دانتوں میں بیکٹریا جمع ہوجاتے ہیں جو دانتوں کہ جڑوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایک بار جب اوپری سطح گھس جائے تو اندر موجود خلیات گرم، ٹھنڈے اور دباؤ پر شدید ردعمل ظاہر کرنے لگتے ہیں، جبکہ بیکٹریا کے حملے کی صورت میں بھی سوجن اور انفیکشن کا سامنا ہوتا ہے۔ مسوڑوں کے امراض بھی دانتوں کے درد جیسا ہی درد پھیلاتے ہیں اور یہ دنیا کے نمبرون آٹو امیون امراض قرار دیئے جاتے ہیں۔ ان امراض سے مسوڑے گھسنے لگتے ہیں جس سے دانتوں کی جڑیں باہر آتی ہیں اور لوگ ٹھنڈی یا گرم چیزوں کے لیے بہت زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ لوگ دانتوں کے مسائل اور بیماریوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتے، حتیٰ کہ دانتوں میں پیدا ہونے والی بیماریاں دیگر کئی خطرات کی علامات ہوتی ہیں۔دانتوں کی صحت سے متعلق لاپرواہی کا معاملہ صرف پاکستان جیسے ممالک تک محدود نہیںاس حوالے سے دنیا بھر لے انسان سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اگر کسی بھی شخص میں یہ علامات ہیں تو ان کو جلد ہی ڈینٹسٹ سے رجوع کرنا چاہیے ان علامات میں سب سے پہلے مسوڑوں میں سوجن یا ان سے خون بہنا، ٹوتھ برش کرتے وقت ہمیشہ خون بہنا، برش کرنے، بات چیت کرنے یا کھانے کے دوران کانوں میں درد کا ہونا، آواز کا بیٹھ جانا، جبڑے کی سوجن ، گلے اور زبان کا سن ہوجانا ، جبڑے اور زبان کا ٹکرانا ، سانس کا بدبودار ہوجانا ، ٹھنڈے پانی یا مشروب پیتے وقت تکلیف ہونا، گرم چائے پیتے یا کھانے کھاتے وقت تکلیف ہونااور دانتوں اور منہ میں درد کا رہنا شامل ہیں ۔مسوڑھوں کی بیماری مُنہ کی سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے اس بیماری کے مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے مرحلے میں مسوڑھے سُوجھ جاتے ہیں۔ مسوڑھوں کی سُوجن کی ایک علامت یہ ہو سکتی ہے کہ اِن سے خون بہنے لگتا ہے جس کے بعد دانتوں کو مضبوط رکھنے والی ہڈی اور مسوڑھوں کے ریشے خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اِس حالت کو پوئیوریا کہتے ہیں۔ اِس صورتحال کی علامات اُس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب یہ بہت زیادہ بگڑ جاتی ہے۔مسوڑھوں کی بیماری کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ اِس کی ایک وجہ پلاک ہے۔ پلاک بیکٹیریا کی ایک تہہ ہوتی ہے جو مسلسل دانتوں پر بنتی رہتی ہے۔اگر اِسے دانتوں پر سے صاف نہ کِیا جائے تو مسوڑھے سُوجھ سکتے ہیں ،اس خطرناک بیماری سے بچنے کا سب سے بہترین علاج یہ ہے کہ آپ اپنے دانتوں کی حفاظت کریں۔ دانتوں کو باقاعدگی اور اچھی طرح سے صاف کرنے سے آپ مسوڑھوں کی بیماری سے بچ سکتے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر ذوہیب فاروق نے آگاہ کیا کہ خواتین اور مردوں کے دانتوں کی ساخت مختلف ہوتی ہے جبکہ فنگر پرنٹس کی طرح دنیا بھر کے انسانوں کے دانت بھی ایک دوسرے سے الگ پہچان رکھتے ہیں اس لیے دانتوں کی صحت ان کی صفائی ہی سے ممکن ہے اس لیے ہر روز دو بار 2سے 4منٹ تک برش کے ذریعے دانتوں کی صفائی کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ صحت مند دانتوں کے ساتھ آپ غذا کھاسکیں۔
======================
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں بائیومکینکس کے استعمال اور اس کے فوائد و نقصانات کے موضوع پر تین روزہ انٹرنیشنل ورکشاپ آج شروع ہوگی۔۔ورکشاپ کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی اور فزیکل ایجوکیشن انے مشترکہ طور پر کیا ہے جس میں پاکستان کے علاوہ برازیل اور یو کے سے مندوبین شرکت کریں گے۔ کانفرنس کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ ناز کریں گی۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی چئیرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ہوں گے
====================

صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت موٹر ویز پر ایمرجنسی ریسکیو 1122 سروس اس سال دسمبر میں شروع کرنے جارہی ہے۔ ریسکیو عملے کی تربیت کیلئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی مدد لیں گے۔ یونیورسٹیاں تھنک ٹینک ہیں جن سے ماضی میں استفادہ نہیں کرسکے۔ مستقبل میں یو ایچ ایس سے مدد لیتے رہیں گے۔ وہ پیر کے روز یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پی آئی سی پروفیسر ڈاکٹر فرقد عالمگیر، پرو وی سی یو ایچ ایس پروفیسر نادیہ نسیم اور دیگر فیکلٹی ممبران و افسران موجود تھے۔ اس سے قبل خواجہ سلمان رفیق نے یو ایچ ایس کے سہولت مرکز کا دورہ بھی کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور نے سنٹر پر طلباء و طالبات کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی۔صوبائی وزیر نے سہولت مرکز میں آئے طلبہ سے بات چیت بھی کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں قائم کئے جانے والے سہولت سنٹر دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ سنٹر پر روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں طلباء و طالبات کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ وائس چانسلر کی قیادت میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بہترین خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے مزید کہا کہ یو ایچ ایس کے ساتھ 12، 13 سال کا تعلق ہے۔ یونیورسٹی کی فیکلٹی میں 32 پی ایچ ڈی ہیں جن کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگلے ہفتے یونیورسٹی کے نیو کیمپس کا دورہ کروں گا۔ وی سی یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور نے یونیورسٹی آمد پر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بتایا کہ سہولت مرکز میں روانہ 300 سے 400 طلبہ اور افراد وزٹ کرتے ہیں۔ یہ طلبہ کیلئے یونیورسٹی کا پہلا رابطہ پوائنٹ ہے۔ مرکز میں ڈگری، رجسٹریشن اور امتحانات کے حوالے سے سروسز فراہم کی جارہی ہیں۔ پروفیسر راٹھور کا مزید کہنا تھا کہ ہماری لیباٹریز جدید ترین آلات سے آراستہ ہیں، کلینیکل سروسز میں سنٹر آف ایکسیلنس بن سکتے ہیں۔ حکومت ساتھ دے تو پورے پنجاب کیلئے ریفرل لیب کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ وی سی یو ایچ ایس نے کہا کہ میڈیکل، ڈینٹل اور نرسنگ کی ایجوکیشن کو سٹینڈرڈائزڈ کر دیا یے۔ اب الائیڈ ہیلتھ اور فارمیسی کو جنرل یونیورسٹیوں کے دائرہ کار سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر نادیہ نے یو ایچ ایس کی ورکنگ بارے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ریسرچ ہمارا طرہ امتیاز ہے ، پنجاب میں صرف یو ایچ ایس کو ریسرچ کی بنیاد پر کیو ایس ورلڈ رینکنگ ملی ہے۔
=============================

چینی قونصل جنرل ژاؤ شیریں نے کہا ہے کہ جلد چین پاکستان راہداری منصوبے کے دوسرے فیز کا آغاز ہوگا جو خطے کی عوام کیلئے خوشحالی کا باعث بنے گا۔وہ پنجاب یونیورسٹی سکول آف کمونیکیشن سٹڈیزکے زیر اہتمام ’پاکستان اور چین کے 73سالہ سفارتی تعلقات‘پرحمید نظامی ہال میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس میں ڈائریکٹر سکول آف کمیونیکیشن سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم، صدر لاہور چیمبر آف کامرس کاشف انور،ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنٹر آف ساوتھ ایشیا اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز ڈاکٹر محمودالحسن،پروفیسر ڈاکٹر میاں حنان،پروفیسرڈاکٹر لبنیٰ ظہیر، فیکلٹی ممبران اورطلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اپنے خطاب میں ژاؤ شیریں نے کہا کہ چین پاکستان کے دفاع و نیشنل سکیورٹی کے معاملات پر بھرپور تعاون جاری رکھے گااورانشاء اللہ جلد پاکستان سکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وفاقی وزیر پروفیسراحسن اقبال، چینی حکام اورانویسٹرز کے درمیان سی پیک کے دوسرے فیز کے لئے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون کے آغاز میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف چین کا اہم ترین دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مائننگ، آئی ٹی، انرجی سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا میں پاکستان پہلا ملک ہے جس نے 1951میں چین کی آزاد حیثیت کو تسلیم کیا جو تاریخ کا حصہ ہے اور چینی قوم اس بات کو کبھی نہیں بھلا سکتی۔انہوں نے کہا کہ 73برس میں نہ صرف پاکستانی حکمران بلکہ عوام کے درمیان بھی اعتبار کا رشتہ قائم ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ قونصل جنرل لاہور تعلیمی، معاشی، ثقافتی تعلقات کے فروغ میں حکومت پنجاب سے تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی سکول آف کمیونیکیشن سٹڈیز کے شکرگزار ہیں جنہوں نے تاریخی موقع پر کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم نے کہا کہ چین پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار کر رہا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان نسل در نسل گہری دوستی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر درپیش مسائل کے حل میں بھی چین نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباء کی تربیت و آگہی کے لئے ایسی تقاریب کا انعقاد آئندہ بھی جاری رہے گا۔ کاشف انور نے کہا کہ چین نے پاکستان کی ہر سطح پر ترقی کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک شاندار منصوبہ ہے جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ڈاکٹر محمودالحسن نے کہا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کے ساتھ معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 27سال میں پاکستان اور چین کے درمیان ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر میاں حنان نے کہا کہ سی پیک راہداری منصوبہ پاکستان سمیت خطے کی عوام کیلئے تحفہ ہے جس سے استفادہ کرکے خوشحالی کا نیا باب شروع ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر 73سالہ پاک چین سفارتی تعلقات کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا۔
پنجاب یونیورسٹی کیئریئر کونسلنگ اینڈ پلیسمنٹ سنٹر کے زیر اہتمام جاب فیئر آج ہوگا
========================

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے میؤ ہسپتال کے آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ کا تفصیلی دورہ کیا۔اس موقع پر سی ای او پروفیسر احسن نعمان، سی او او پروفیسر فیصل مسعود، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر عباس کھوکھر و دیگر فیکلٹی ممبران موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ میں ریڈی ایشن مشین، کیمو تھراپی سنٹر و دیگر طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔خواجہ سلمان رفیق نے کینسر کے مریضوں سے ملاقات کی اور انتظامیہ کو مزید بہتری کی ہدایت کی۔پروفیسر عباس کھوکھر نے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کو کینسر کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ میؤ ہسپتال میں ریڈی ایشن کی سہولت بحال ہونے پر کینسر کے ہزاروں مریضوں کو سہولت حاصل ہو سکے گی۔ کینسر کے مریضوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ مریضوں نے آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ میں سہولیات بارے اطمینان کا اظہار کیا۔صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے میؤہسپتال کے آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ میں ریڈی ایشن کے دوبارہ آغاز پر انتظامیہ کو مبارکباد اور شاباش دی۔
======================


پریس ریلیز
ہتک عزت بل پر پنجاب حکومت مذاکرات کے لئے آمادہ ہو گئی
لاہور پریس کلب کا احتجاج موخر کرنے کا اعلان
مجوزہ ہتک عزت بل 2024 کے لیے پنجاب حکومت نے مثبت طرز عمل کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے لاہور پریس کلب پہلے ہی اس موقف کا حامی تھا کہ اس معاملے کا مل بیٹھ کر حل نکالا جائے اور حکومت ہتک عزت بل 2024 کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش نہ کرے مذاکرات کے لیے پنجاب حکومت نے پیر دوپہر 12 بجے پنجاب اسمبلی میں صحافتی تنظیموں اور سینئر صحافیوں کو مدعو کیا ہے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد نصاری نے کا کہنا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ان مذاکرات میں اس مسئلے کا کوئی بہتر اور پائیدار حل سامنے آئے گاکیونکہ لاہورپریس کلب اور تمام صحافتی تنظیمیں کسی طور بھی فیک نیوز پھیلانے کے حق میں نہیں ہے تا ہم ہتک عزت بل 2024 پر ہمارے اعتراضات پر حکومت بہتر انداز میں دور کرے تو مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے اسی تناظر میں لاہور پریس کلب صحافتی تنظیموں اور سینئر صحافیوں کے مشاورتی اجلاس میں پیر دوپہر 2 بجے احتجاج کرنے کی جو کال دی گئی تھی اسے مزاکرات کی پیش رفت سے مشروط کرتے ہوئے موخر کیا جاتا ہے اور امید کرتے ہیں کہ مذاکرات میں بہتر حل تلاش کر لیا جائے گا۔

زاہد عابد
سیکرٹری
===================

لاہور(جنرل رپورٹر)ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ،ڈاکٹر ایس ایم تراب حسین کو پرنسپل مقرر کردیا گیا ،بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت گورنر پنجاب نے کی ،بورڈ آف گورنرز نے پرنسپل ایچی سن کالج کے نام کی منظوری دی،بورڈ آف گورنرز اجلاس میں علی ایاز صادق، مصطفے رمدے ،علی پرویز ملک اور خواجہ حسان بھی شریک ہوئے،ڈاکٹر ایس ایم تراب حسین لمز کے مشتاق احمد گرمانی سکول کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں،
سابق پرنسپل کے استعفی کے بعد تاحال پرنسپل ایچی سن کالج کی سیٹ خالی تھی.
==================

ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر

عالمی یوم فشار خون پر طبی ماہرین کی آگاہی ۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر ) کا عالمی دن منایا گیا۔ بلڈ پریشر وہ طاقت ہے جس سے دل خون کو شریانوں میں دھکیلتا ہےاس طاقت اور نطام کی کی کمی یاں ذیادتی جسم کے دوسرے اعضائ پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے جس کی وجہ سے انسانی جسم مختلف عوارض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔بلند فشار خون کی وجہ سے دل،گردوں اور آنکھوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے جس کوطبی ماہرین کی مدد سے کنٹرول کیا جانا ضروری ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام کو ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات ، علامات ، بروقت تشخیص ، علاج اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا تھا۔پاکستان کے 52 فیصد افراد بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہیں ہر سال 18 فیصد لوگ اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں، 42 فیصد افراد کو علم نہیں کہ وہ اس مرض کا شکار ہیں۔ملک میں 18 فیصد نوجوان اور 33 فیصد 45 سال کی عمر کے لوگ اس مرض کا شکار ہیں جبکہ 40 سال کی عمر میں ہر تیسرا آدمی بلڈ پریشر کا مریض بن جاتا ہے۔دنیا بھر میں ایک ارب 25 کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہیں ،دنیا کے تقریباً 20 فیصد لوگوں کو بلڈپریشر کا سامنا ہے۔اس دن کو پہلی بار 2005 میں منایا گیا اور 2006 سے یہ دن ہر سال 17مئی کو منایا جاتا ہے ۔یہ دن ہر سال مختلف تھیم (نظریات) کے تحت منایا جاتا ہے ۔بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے ،ہائی بلڈ پریشر کی ایسی کوئی علامات نہیں جن سے اس کا پتا چل سکے اور یہ اس وقت سامنے آتا ہے جب آپ کی صحت کو نقصان پہنچنا شروع ہوتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق 120/80 یا اس سے کم بلڈ پریشر معمول کا ہوتا ہے تاہم اگر یہ 140/90 یا زیادہ ہوتو آپ کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ ہر ایک اس کا شکار ہوسکتا ہے تاہم کچھ مخصوص افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ کوٹ خواجہ سعید ہسپتال ڈاکٹر عدنان القمر کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کا مرض کسی بھی عمر میں سامنے آسکتا ہے اور اگر کافی عرصے سے بلڈپریشر چیک نہیں کرایا تو ایسا کرلیںاور یہ خیال کہ ابھی عمر کم ہے اور آپ بلڈپریشر سے محفوظ ہیں تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہےکیونکہ موجودہ عہد میں فشار خون کے نوجوان مریضوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور 18 سال کی عمر کے بعد سے ہی سال میں کم از کم ایک بار ضرور بلڈپریشر چیک کرانا عادت بنانا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے خاندان میں کبھی کوئی ہائی بلڈ پریشر کا مریض رہ چکا ہے اور یہ آپ کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اس کے لیے پہلے سے تیار شروع کردیں اور اپنا چیک اپ کراتے رہے تاکہ وہ زیادہ سنگین مسئلہ نہ بن سکے۔پروفیسر آف میڈیسن کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر اسرار الحق طور کے مطابق بلڈ پریشر کسی بھی عمر میں بڑھ سکتا ہے مگر اس کا خطرہ 40 سال کے بعد تیزی سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ آپ گھڑی کو تو پیچھے نہیں کرسکتے مگر اپنے بلڈ پریشر کے چیک اپ کو ضرور معمول بناسکتے ہیں۔ گھر میں بلڈ پریشر چیک کرنے کا آلہ اب عام ہے اور اسے ضرور رکھنا چاہئے ، اکثر بلڈ پریشر کے مریض ایسے ہوتے ہیں جو اس سے لاعلم ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کے پاس جانا نہیں ہوتا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں مختلف بیماریوں جیسے آنکھوں ،دل اور گردے کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہےجبکہ، اگر آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں اور بہت زیادہ نمک والی غذا پسند کرتے ہیں تو آپ میں بلڈ پریشر کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر سے قدرتی طور پر بچائو کے موضوع پر بات کرتے ہوئے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں اگر آپ موٹاپے کے شکار ہیں تو یہ ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کی توند نکلی ہوئی ہے تو یہ لگ بھگ سوفیصد یقینی ہوجاتا ہے۔ مگر اچھی خبر یہ ہے کہ اگر آپ اپنے وزن میں محض پانچ کلو تک کی بھی کمی لے آئے تو اس سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آجاتی ہےتو یہ ضروری ہے کہ آپ اس کے لیے پہلے سے تیاری شروع کردیں اور اپنا چیک اپ کراتے رہے تاکہ وہ زیادہ سنگین مسئلہ نہ بن سکے۔پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے مزید بتایا کہ اگر آپ کے اندر کچھ مخصوص امراض جیسے ذیابیطس، گردوں کے امراض، ہائی کولیسٹرول یا تھائی رائیڈ کے امرض کی تشخیص ہوئی ہے تو ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی دوگنا بڑھ جاتا ہے۔ ان امراض کے علاج کے لیے دی جانے والی ادویات بلڈ پریشر بڑھانے کا بھی باعث بن سکتی ہیں۔ماہر غذائیات ڈاکٹر دانیال شیث نے مجھے بتایاکہ بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے والی قدرتی غذائوں کی افادیت بہت اہم ہے جیسےکیلے پوٹاشیم کے حصول کا قدرتی ذریعہ ثابت ہوتے ہیں اور یہ نہ صرف پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں بلکہ اس میں سوڈیم (نمکیات) کی شرح بھی کم ہوتی ہے جو اسے ہائی بلڈپریشر کے شکار افراد کے لیے ایک بہترین پھل یا غذابناتا ہےجبکہ دہی کیلشیئم سے بھرپور ہوتا ہے جس کی کمی ہائی بلڈپریشر کا خطرہ بڑھاسکتی ہے۔ دہی میں نمکیات کی مقدار بھی کم ہوتی ہے اور دن بھر میں تین بار کا چھ اونس استعمال فشار خون کی شرح کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اس کا مزہ بھی ہر ایک کے دل کو بھاتا ہےان کا کہنا تھا کہ دارچینی بلڈپریشر کو معمول پر لانے میں کرشماتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ کولیسٹرول لیول کو بھی کم کرتی ہے۔ اسی طرح آلوؤں میں پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہےیہ عنصر بلڈپریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔مچھلی پروٹین اور وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے اور یہ دونوں بلڈپریشر کی شرح کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیںجبکہ جو کا دلیہ بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے ایک مثالی اور مزیدار انتخاب ہے، یہ غذا فائبر سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ بلڈپریشر کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔بلڈ پریشر سے بچائو کے لیے غذائی ضروریات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بادام جو، پروٹین، فائبر اور میگنیشم سے بھرپور ہوتے ہیں ان کی گری بلڈ پریشر کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ غذا میں میگنیشم کی کمی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے، روزانہ تھوڑے سے بادام کھانے کی عادت صحت مند سطح پر بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔تیز رفتار زندگی میں مختلف وجوہات کی بنا پر انسانی صحت کے لیے ہائی بلڈ پریشر ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد اس مرض کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ ملک کے معروف نیورولوجسٹ ڈاکٹر عدنان اسلم جو سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حثیت سے تعینات ہیں انھوں نےبتایا کہ ہائی بلڈ پریشر دماغ کو خون اور آکسیجن فراہم کرنے والی شریانوں کے پھٹنے یا بند ہونے کا سبب بن سکتا ہے جس کی وجہ سے فالج کا حملہ ہو سکتا ہے ۔ دماغی خلیے فالج کے دوران مر جاتے ہیں کیونکہ انہیں کافی آکسیجن نہیں ملتی ۔ فالج بولنے، حرکت کرنے اور دیگر بنیادی سرگرمیوں میں شدید معذوری کا سبب بن سکتا ہے ۔ایک فالج آپ کی جان بھی لے سکتا ہےان کا کہنا تھا کہ بے قابو ہائی بلڈ پریشر آپ کی سوچنے ، سمجھنے، یاد رکھنے اور سیکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے ہائی بلڈ پریشر والے لوگوں میں یاداشت یا تصورات کو سمجھنے میں پریشانی زیادہ عام ہےجبکہ تنگ یا مسدود شریانیں دماغ میں خون کے بہاؤ کو محدود کر سکتی ہیں جس سے ایک خاص قسم کا ڈیمنشیا ہوتا ہے۔ دماغ میں خون کے بہاؤ میں خلل ڈالنے والا فالج بھی ویسکولرڈیمنشیا کا بھی سبب بن سکتا ہے۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ افتھمالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر ناصر چوہدری کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے آنکھوں میں موجود خون کی نالیاں تنگ یا کمزور ہوجاتی ہیں اور بعض اوقات پھٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے بینائی متاثر ہوتی ہے اور یہ اندھے پن کی وجہ بھی بنتی ہے۔موضوع کی مناسبت سے بات کرتے ہوئے پروفیسر آف یورالوجی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر فواد نصراللہ نے بتایا کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا دونوں میں مبتلا بالغوں میں گردوں کی دائمی بیماری پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہےاور بعض اوقات گردے بیکار ہوجانے کا سبب بن جاتا ہے۔امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر عقیل جو شیخ زید ہسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کارڈیالوجی کی حثیت سے تعینات ہیں ان کے مطابق ہائی بلڈ پریشر آپ کی شریانوں کو کم لچکدار بنا کر نقصان پہنچا سکتا ہے جو آپ کے دل میں خون اور آکسیجن کے بہاؤ کو کم کرتا ہے اور دل کی بیماری کا باعث بنتا ہے اور دل میں خون کے بہاؤ میں کمی بہت سی دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے جن میں انجائنا،ہارٹ اٹیک اور دل کی خرابی شامل ہیں، 40سال سے زائد 50 فیصد افراد اس مرض کاشکار ہوتے ہیں اسی لئے اسے بہت عام ہونے والی بیماری بھی کہا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عقیل نے مزید بتایا کہ اس بیماری کےحوالے سےایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کا شکار ہونے والے افراد کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ انہیں یہ مرض لاحق ہے، اس لیے وہ اسے نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ تناؤ لیتے ہیں تو اس سے بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے۔بلڈپریشر زیادہ ہوجائے تواس سے فالج کے علاوہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہوتا ہے اور گردے ناکارہ اور بینائی بھی جانے کا خدشہ لاحق ہوتا ہے ۔ اس دن کی آگاہی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طبی ماہرین لائف اسٹائل پرتوجہ دینے کی ضرورت پرزور دیتے ہیںان کے مطابق جان ہے تو جہان ہے کی مسلمہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے انسان کو زندگی میں سادہ طرز زندگی کے ساتھ ساتھ ورزش کی طرف دھیان دینے اور خاص طور پر کام کی جگہ پر ماحول کو ذہنی تناؤ سے پاک کرنےکو یقینی بنانا ہوگااور دراصل یہی اس سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔
====================

لاہور (جنرل رپورٹر) ڈاکٹر ناصر چوہدری جنرل سیکرٹری اوپتھلمولوجیکل سوسائٹی آف پاکستان لاہور برانچ اور ایم ایس لیڈی ایچی سن ہسپتال کو اسلام آباد انٹرنیشنل کانفرنس میں تعلیمی اور تحقیقی شعبے میں شاندار کارکردگی پر گولڈ میڈل سے نوازا گیا ہے۔دوسری طرف اعلیٰ کارکردگی لیڈی ایچی سن کالج کے تمام ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر سٹاف نے ڈاکٹر ناصر چوہدری کو گولڈ میڈل حاصل کرنے پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے مستقبل میں مزید کامیابیوں کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
==================

لاہور(جنرل رپورٹر)ریڈیو آج بھی لوگوں کو خبریں, تفریح, اور معلومات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور سماجی اقدار پر مبنی پروگرام پیش کر کے اپنی ساکھ کسی نہ کسی طرح بحال رکھے ہوئے ہےان باتوں کا اظہار انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائزیشن اور فیبا ریڈیو کے اشتراک سے ایک روزہ کانفرنس کے دوران کیا گیا جو ارلو پاکستان , پنجاب کے صوبائی دفتر میں ہوئی
جس میں راولپنڈی سے شعبہ خط و کتابت کے سر براہ نبیل منہاس, ایف ایم مینجمنٹ کے سربراہ نعیم اور سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پرسن اعجاز صادق نے شرکت کی جبکہ عالمی طور پر مختلف چینلز کو سننے والے رشید ناز,سید شکیل حیدر بخاری,ریاض احمد خاں , رانا ہارون خان,ناصر عزیز,شفاقت علی باجوہ,احسن اعجاز,ارشد اقبال,ذیشان علی,تابش علی, مشتاق خان,اعجاز کریم اور مہر عبدالستار سلفی بھی شامل تھے۔نئے سامعین نے بھی اس ایک روزہ کانفرنس میں شمولیت اختیار کر کے اچھا محسوس کیا۔انہوں نے خصوصی طور پر نئی نسل کو ریڈیو کی جانب مائل کرنے والے پرانے اور نایاب ریڈیوز کو بھی دیکھا اور بہت سے سوالات کئے جس کے جواباب اعجاز کریم نے بخوبی دئے۔
کانفرنس میں ریڈیو کے پروگراموں پر تعریفی اور تنقیدی نقطہ نظر سے فیبا ریڈیو کے سٹاف اور سامعین کے درمیان خوشگوار مکالمہ بھی ہوا اور مختلف انداز سے ایکدوسرے کو سمجھانے اور سمجھنے کی کوشش کی گئی۔اس کانفرنس میں مرکزی کردار ماہر علوم الہیات اور مختلف زبانوں پر علوم رکھنے والے محقق اسلم نے ریڈیو اور ہمارے سماجی تعلقات کے متعلق بڑی مدبرانہ گفتگو سے رہنمائی کی۔
سامعین اور فیبا ریڈیو کے سٹاف کے درمیان تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔ ایک اچھی کانفرنس کے انعقاد کی کاوش پر فیبا ریڈیو کی انتظامیہ کی جانب سے ایک اعزازی سیرٹیفکیٹ بھی انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائزیشن کے عہددران کے حوالے کیا گیا.
=======================

لاہور(جنرل رپورٹر)لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی نے الاحسان ویلفیئر آئی ہسپتال کے تعاون سے معزز ممبران اور انکی فیملیز کیلئے فری میڈیکل آئی کیمپ کا اہتمام کیا۔میڈیکل آئی کیمپ میں آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر عاطف شمشاد ، ڈاکٹر محمد اویس ، ڈاکٹر اشعر رﺅف ، ڈاکٹر محمد اسیس، پروفیسر شاہد محمود ،محمد سعید بھٹی،محمد بلال شفیق، حافظ عتیق الرحمن ، احتشام کاکڑ سمیت پیرامیڈیکل سٹاف و ٹیکنیکل سٹاف نے شرکت کی اور کیمپ میں آنے والے مریضوں کی آنکھوں کی کمزوری ، آنکھوں کا بھینگاپن ، سفید موتیا ، کارنیا سمیت دیگربیماریوں کا معائینہ کیا۔ میڈیکل آئی کیمپ میں شرکت کرنے والے مریضوں کو ڈاکٹرزکی ایڈوائس کے مطابق موقع پرمفت عینکیں اور ادویات فراہم کی گئیں جبکہ بہت سے سیریس مریضوںکو مستقل علاج کے لئے الاحسان ہسپتال آنے کی ہدایت کی گئی جہاں جدید ٹیکنالوجی فیکو آپریشن کے ذریعے فولڈ ایبل لینز ڈالے جائیں گے ۔میڈیکل آئی کیمپ میںصحافیوں اور انکی فیملیزکی بڑی تعداد نے شرکت کی اورمیڈیکل آئی کیمپ کے کامیاب انعقاد پر گورننگ باڈی کے اقدام کو سراہا۔ الاحسان ویلفیئر آئی ہسپتال میں ممبران اور ان کے اہلخانہ کے علاج کے لئے لاہورپریس کلب کے ساتھ معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ۔لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور الاحسان ویلفیئر آئی ہسپتال کے صدر ثناءاللہ خان کاکڑ نے معاہدے پر دستخط کئے جس کے مطابق ممبران اور ان کے اہلخانہ کو علاج کی مفت سہولیات مہیا کی جائیں گی۔اس موقع پر لاہور پریس کلب کے صدرارشد انصاری نے کہاکہ منتخب گورننگ باڈی ممبران اور ان کے اہلخانہ کی خدمات کے جذبہ سے سرشارہے اور ہم اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے پروگرامز ترتیب دے رہے ہیں جس سے ممبران اور ان کی فیملیز زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں ۔ صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہدعابد نے پریس کلب کی جانب سے میڈیکل آئی کیمپ کے انعقاد پرنائب صدر امجد عثمانی اور سینئر کونسل ممبر محمد عبداللہ کی کاوش کو سراہتے ہوئے کیمپ میں شرکت کرنے والے ڈاکٹرزاور پیرامیڈیکل سٹاف کا شکریہ ادا کیااور انہیں کلب کی جانب سے یادگاری شیلڈز اور پھول پیش کئے۔
========================

کیپشن: لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں ٹیلنٹ ہنٹ جوڈو پراونشل لیگ کی تقریب میں شرکاء کا چئیرمیں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں اور وائس چانسلر ڈاکٹر شگفتہ ناز کے ساتھ گروپ فوٹو
لاہور( جنرل رپورٹر )
پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت ٹیلنٹ ہنٹ پراونشل جوڈو کا پروگرام لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں کامیابی سے مکمل ہو گیا۔ افتتاحی تقریب میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے چئیرمین رانا مشہود احمد خان مہمان خصوصی جبکہ وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ ناز، ڈی جی سپورٹس ہائر ایجوکیشن کمشن پاکستان جاوید علی میمن مہمانان اعزاز تھے۔ رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں علاقائی ثقافت کی جھلکیاں بھی پیش کی گئیں۔ تقریب میں سپورٹس سے متعلق ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کھلاڑی اولمپئن خواجہ جنید، پاکستان کبڈی ٹیم کے کپتان شفیق احمد چشتی، اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے والی قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی حنان شاہد اور مختلف یونیورسٹیوں اور ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹس کے سپورٹس ڈائریکٹرز شامل تھے۔ ڈائریکٹر سپورٹس لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر سمیرا ستار کی میزبانی میں منعقدہ تقریب میں اس پروگرام میں شرکت کرنے والی بہاولپور، فیصل اباد، لاہور راولپنڈی اور سیالکوٹ ریجنز کی ٹیموں کی کھلاڑیوں اور ان کے منتظمین بھی موجود تھے۔ مہمان خصوصی رانا مشہود احم خاں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجا گر کیا جائے اور با صلاحیت کھکاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی سیولتیں اور کوچنگ فراہم کرکے اعلیٰ ہائے کا کھلاڑی بنایا جائے تاکہ دنیا بھر میں وہ ملک کا نام روشن کر سکیں۔ اس سلسلے میں ٹیلنٹ اینڈ یوتھ پروگرام سپورٹس لیگ بڑی مفید ثابت ہوئی ہے۔ وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ ناز نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمشن پاکستان کے پراجیکٹ کو مکمل کرنا ہماری یونیورسٹی کیلئے اعزاز کی بات ہے جس کیلئے ڈائریکٹر سپورٹس ڈاکٹر سمیرا ستار، ان کی ٹیم اور ڈین آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی مبارک باد کے مستحق ہیں۔۔ ڈائریکٹر سپورٹس ایچ ای سی پاکستان جاوید علی میمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایچ ای سی پاکستان بھر میں ڈیڑھ سو سے زائد یونیورسٹیوں میں ٹیلنٹ تلاش کرنے کے مختلف پراجیکٹس پر فنڈنگ کر رہا ہے۔ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام اس مقصد کیلئے فیاضانہ فنڈز فراہم کر رہا ہے۔
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں جاری جوڈو لیگ کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ تھے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ ناز اور ڈائریکٹر سپورٹس کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے.
========================

لاہور(مدثر قدیر)ایسویسی ایٹ پروفیسر آف نیورالوجی سروسز انسٹیٹیوٹ آف میٖڈیکل سائنسز ڈاکٹر عدنان اسلم پاکستان ہیڈ ک (سردرد)سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری منتخب جبکہ پروفیسر سلیم بریچ صدر اور بلوچستان سے ڈاکٹر عبدالمالک نائب صدر منتخب ہوگئے ۔سردرد کے علاج کے حوالے سے بننے والی یہ سوسائٹی پاکستان سوسائٹی آف نیورالوجی کی ذیلی سوسائٹی ہے جس کے تمام عہدیدران کو 2سال کے لیے منتخب کیا گیا ہے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عدنان اسلم نے بتایا کہ اس سوسائٹی کا کوئی سیاسی مقصد نہیں بلکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہم نیورولوجسٹ اور جنرل ڈاکٹرز کی سردرد کی بیماری کے حوالے سے تربیت کریں گے اور ان کی مختلف سیمینارز کے دوران ٹریننگ کی جائے گی کہ کیسے ہیڈک ڈس آرڈرز جیسے مائیگرین ،آدھے سر کا درد اس کے علاج میں جدید اپڈیٹس کیا ہیں اور کیسے ان مریضوں کا علاج کرنا شامل ہیںانھوں نے بتایاکہ جلد ہی سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ہیڈک سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ نوجوان ڈاکٹر کی تربیت کی جاسکے،واضح رہے ڈاکٹر عدنان اسلم فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی ،سرگنگارام ہسپتال کے شعبہ نیورالوجی سے بھی وابستہ رہ ہیں اور نیورالوجی کے مریضوں کے علاج کے حوالے سے مستند اہمیت کے حامل ہیں اور آجکل شعبہ نیورالوجی سروسز ہسپتال سے وابستہ ہیں۔
========================

: پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام ’سی پیک اور علاقائی ڈائنامکس‘ کے موضوع پر بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر پولینڈ سے ڈاکٹر اگنیسکا نتزا ماکوسکا، ڈاکٹر کیری لانگ ہرسٹ، ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور کی ڈاکٹر ارم نصیر، سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ، ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سنٹر پروفیسر ڈاکٹر نعمانہ کرن، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر کیری لانگ ہرسٹ نے خاص طور پر چینی طاقت کے ’سبز پہلو‘،، جس میں انسانی سلامتی کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ شامل ہے، پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسی تناظر میں سی پیک کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ چین بہتر ماحولیاتی حالات کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ڈاکٹر نتزا ماکوسکا نے سی پیک اور پاکستان میں چین کی سافٹ پاور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعتماد حاصل کرنے کے لیے چین کی جانب سے خارجہ پالیسی، ثقافت اور ملکی اقدارپر سیر حاصل بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چین کا سافٹ پاور اپروچ گیم چینجر ہے۔ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ نے کہا کہ اس وقت دنیا ملٹی پولرائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس دوران چین معاشی طاقت بن کر ابھر رہا ہے اور وہ نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ میں بھی معاشی ترقی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ڈاکٹر ارم نصیر نے علاقائیت اور مربوط سلطنتوں سے عالمی، باہم مربوط، آزاد ریاستوں تک دنیا کے ارتقاء پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک خطے کی جغرافیائی سیاسی حرکیات کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین کے ون بیلٹ ون روڈ اقدام کے لیے اہم ہے، جس کی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور علاقائی رابطوں پر توجہ دی گئی ہے۔ڈاکٹر نعمانہ کرن نے مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا اور سمپوزیم کے مقصد اور موضوع بارے بتایا۔ انہوں نے جغرافیائی سیاسی حرکیات کو نئی شکل دینے کے لیے سی پیک کی صلاحیت پر روشی ڈالی۔