سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو گرفتار کرلیا گیا


سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے پولیس کے مطابق سردار تنویر الیاس کے خلاف تھانہ مارگلا میں مقدمہ درج ہے۔

ذرائع کے مطابق تھانہ مارگلہ پولیس نے تنویر الیاس کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس کے خلاف ایک کمپنی کے دفتر پر حملے کا الزام ہے۔

ذرائع کے مطابق تنویر الیاس کیخلاف 30 اپریل کو نجی مال میں توڑ پھوڑ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
===================
سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس کو مارگلہ پولیس نے گرفتار کر لیا۔

ڈان نیوز کے مطابق سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر رانا تنویر الیاس کو آج اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ کی پولیس نے گرفتار کیا۔

تنویر الیاس کے خلاف نجی کمپنی کے دفتر پر حملے کا مقدمہ درج ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سردار تنویر الیاس 2022 میں آزاد جموں و کشمیر کے 14ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

===================
’ہارڈ لینڈنگ‘ کے بعد لاپتہ ہوا ایرانی صدر اور وزیرخارجہ کا ہیلی کاپٹر مل گیا، بین الاقوامی میڈیا کا دعویٰ
ہیلی کاپٹر میں صدر اور وزیرخارجہ سوار تھے، ایرانی میڈیا
خبر رساں ایجنسی ”روئٹرز“ نے آذربائیجان کے دورے سے واپس آتے ہوئے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہارڈ لینڈنگ کے بعد لاپتہ ہونے والا ہیلی کاپٹر ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر مل گیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو تلاش اور بچاؤ ٹیموں نے دریافت کیا، تاہم، یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ ہیلی کاپٹر کہاں تھا یا کوئی زندہ بچا ہے یا نہیں۔

تاہم، ایرانی ہلال احمر کے ایک اہلکار جو اس علاقے میں ہے جہاں تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں، اس کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے ملنے کی غیر مصدقہ اطلاعات کے پیچھے ”مقامی میڈیا“ کا ہاتھ تھا۔

علاقے میں ایک سرکاری ٹیلی ویژن کے رپورٹر نے بھی وزیر توانائی علی اکبر مہرابیان کے حوالے سے کہا کہ کوئی تازہ پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

لیکن رپورٹر نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اس علاقے کے دو کلومیٹر کے اندر ہیں جہاں ہیلی کاپٹر کے ملنے کا امکان ہے۔

ہیلی کاپٹر کیسے لاپتہ ہوا؟
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر ابراہیم رہیسی کے قافلے میں شامل 3 ہیلی کاپٹروں میں سے 2 ہیلی کاپٹر منزل پر پہنچ گئے تھے لیکن ایک نہیں پہنچ سکا تھا۔

’ہارڈ لینڈنگ‘ کس چیز کا کوڈ ہے، ایرانی میڈیا صدر کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہونے پر یہ الفاظ کیوں دہرا رہا ہے؟

ایرانی میڈیا کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں صدر اور وزیرخارجہ سوار تھے، ہیلی کاپٹر آذربائیجان کے شمال میں پرواز کررہا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ابراہیم رئیسی ایران کے مشرقی آذربائیجان صوبے میں سفر کر رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر حادثے کا یہ واقعہ ایرانی دارالحکومت تہران کے شمال مغرب میں تقریباً 600 کلومیٹر (375 میل) کے فاصلے پر آذربائیجان کی سرحد پر واقع شہر جولفا کے قریب پیش آیا۔

ایرانی صدر آذربائیجان میں ڈیم کا افتتاح کرکے واپس آ رہے تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار چند افراد سے رابطہ ہوا ہے، امید ہے تمام سوار بخیریت ہوں گے جبکہ ہیلی کاپٹر کی تلاش جاری ہے۔

دورہ پاکستان کے بعد میری سوچ پاکستان کے لئے مزید مثبت ہو گئی ہے، اہلیہ ایرانی صدر

ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے تبصروں میں کہا، ’محترم صدر اور کمپنی کچھ ہیلی کاپٹروں پر سوار ہو کر واپس جا رہے تھے اور ایک ہیلی کاپٹر کو خراب موسم اور دھند کی وجہ سے سخت لینڈنگ کرنا پڑی۔‘

ہیلی کاپٹر میں صدر رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر ملک رحمتی اور صدر کے سکیورٹی پرسنلز سوار تھے۔

صدر کا قافلہ تین ہیلی کاپٹرز پر مشتمل تھا اور کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق جس ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا، ابراہیم رئیسی اسی میں سوار تھے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر نے خراب موسم کے باعث ہنگامی لینڈنگ کی، جس کے بعد ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

تلاش میں مشکلات
تلاش کے اس عمل کے دوران ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے بتایا تھا کہ جیسے جیسے اندھیرا اور سردی بڑھتی جا رہی ہے، اس جگہ کے قریب پہنچنے والا عملہ کار میں سفر کرنے سے گریز کر رہا ہے اور پیدل جا رہا ہے، اس علاقے میں سڑکیں پختہ نہ ہونے اور بارش کی وجہ سے زمین کیچڑ بن رہی ہے۔

ایمرجنسی سروسز آرگنائزیشن کے ترجمان بابک یکتاپرست نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ اندھیرا چھانے کے باعث فضائی تلاشی کا عمل روک دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے، پورے خطے میں شدید دھند کی وجہ سے فضائی کارروائیاں جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا، علاقے میں مزید ایمبولینسیں روانہ کر دی گئی ہیں‘۔

لیکن اہلکار نے زور دے کر کہا کہ تبریز اور تہران میں ایئر ایمبولینسیں تیار کھڑی ہیں۔

مسلح افواج متحرک
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے فوج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام آلات اور صلاحیت کو ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے استعمال کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے ان کے حوالے سے بتایا کہ ’مسلح افواج، آئی آر جی سی اور پولیس کمانڈ ابتدائی گھنٹوں سے ہی علاقے میں موجود ہیں۔‘

نیشنل سکیورٹی کونسل میٹنگ کی تردید
ایران کے کچھ سرکاری ذرائع ابلاغ نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) نے سپریم لیڈر کی موجودگی میں اجلاس بلایا تھا۔

لیکن چند ہی منٹوں میں، نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دیگر ریاست سے منسلک میڈیا نے کہا کہ ایسی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی اور یہ کہ گردش کرنے والی ”افواہیں“ غلط ہیں۔

ملکی امور میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی، خامنہ ای
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے آئی آر جی سی اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات میں لاپتہ ہیلی کاپٹر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ خدا معزز صدر اور ان کے ساتھیوں کو قوم کے بازوؤں میں واپس لوٹائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سب کو سرکاری ملازمین کے اس گروپ کی صحت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ ایرانی قوم کو فکرمند یا پریشان نہیں ہونا چاہیے، ملک کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی‘۔

TEHRAN

IRAN

HELICOPTER

EBRAHIM RAISI

IRANIAN PRESIDENT

HELICOPTER CRASH

IBRAHIM RAEESI

DR IBRAHIM RAEESI

IRANI PRESIDENT

AZARBAIJAN

HARD LANDING