لاہور ٟٞدی یونیورسٹی آف لاہور میں پہلی انٹرنیشنل کانفرنس آ ن ہیریٹیج اینڈکلچرل کنزر ویشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی

لاہور ٟٞدی یونیورسٹی آف لاہور میں پہلی انٹرنیشنل کانفرنس آ ن ہیریٹیج اینڈکلچرل کنزر ویشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔ کانفرنس میں چیئر مین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رئوف ، ماہر قانون اعتزاز احسن، عائشہ خا ن ، نجم ثاقب ، خواجہ توصیف ، ثانیہ ،ڈاکٹر عاصمہ ابراہیم ، پروفیسر ڈاکٹر محمد حمید ، رجسٹرار علی اسلم ، ڈاکٹر زاہد پرویز صباحت رفیق ، جیفری مورگن،جوہیتھم مارک،نوید شیر وانی،ایلینی گلیکاس،رنڈالا سمیت دیگر مقررین اور ماہرین آثار قدیمہ نے شر کت کی۔انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈی جی والڈ سٹی و چیئر مین کانفرنس کامران لاشاری نے کہا کہ پاکستان ثقافت اور کلچر کے حوالے سے ایک منفرد ملک ہے ۔ ہم نے اپنے ملک کا مثبت اور ثقافتی امیج پوری دنیا کو دکھانا ہے ۔والڈ سٹی لاہور کے ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہے ۔جو قومیں اپنی ثقافت اور کلچر کو محفوظ نہیں رکھ پاتیں وہ دنیا میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں ۔ ہمارے پاس لاہور ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں ایسے آثار قدیمہ کے منفرد مقامات موجود ہیں جن پر تھوڑی سی توجہ دے کر عالمی سیاحت کو اپنی طرف راغب کیا جا سکتا ہے ۔چیئر مین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رئوف نے کہا کہ یونیورسٹی آف لاہور نے پہلی انٹرنیشنل کانفرنس آف ہیریٹیج اینڈ کلچرل کنزویشن کا انعقاد کروایا ہے جس میں سات ممالک سے غیر ملکی ماہرین آثار قدیمہ نے شرکت کی ۔کانفرنس کامقصد پاکستان میں موجود آثار قدیمہ کو محفوظ بناکر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں ۔پاکستان بہت یونیک ملک ہے۔انڈس ویلی بہت ہی پرانی تہذیب ہے جہاں سے ہندو ، بدھ ازم ، سکھ ازم وغیر ہ نے جنم لیا ، ہم نے انکو نہ تو محفوظ کیا اور نہ ہی مارکیٹ کیا۔ ہم اس کانفرنس کے بعد یونیورسٹی آف لاہور میں اگلے تین ماہ کے اندر پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ شرو ع کر رہے ہیں جس میں بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسرز کا اشتراک ہوگا۔ کانفرنس کا مقصد نہ صرف لوگوں کو اکٹھا کرنا تھا بلکہ ملک کے آثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے آئیڈیاز کا تبادلہ کرنا بھی تھا ۔ کانفرنس میں آثار قدیمہ سے متعلق مختلف مباحثوں کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین نے اپنے خیالات کااظہار کیا ۔ پینل ڈسکشن میں معروف ماہر قانون اعتزاز احسن ، کامران لاشاری ، جیفری مورگن ، خواجہ توصیف ، نجم ثاقب ،عائشہ خان ، ڈاکٹر عاصمہ ابراہیم اور پروفیسر ڈاکٹر محمد حمید ،ایلینی گلیکاس اور رنڈالا نے حصہ لیا اور اپنے خیالات سے حاضرین کو آگاہ کیا۔انٹرنیشنل کانفرنس کے اختتام پر مہمان خصوصی و چیئر مین کانفرنس کامران لاشاری نے ماہر قانون اعتزاز احسن سمیت ملکی و غیر ملکی مقررین میں شیلڈز تقسیم کیں ۔
=======================


لاہور(جنرل رپورٹر)پی ایم اے کے صدر پروفیسر اشرف نظامی کا کرغیزستان واقعہ پر اظہار افسوس,حکومت پاکستان کرغیزستان کی حکومت سے فوری رابطہ کرکے پاکستانی طلبہ پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کے واقعات پر ان کو تحفظ دے اور اعلی اختیاراتی وفد بشمول نمائندگان پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹ فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس کے نمائندگان کو شامل کرکے فی الفور کرغیزستان روانہ کیا جائے.ان کا کہنا تھا کہ پی ایم اے کرغیزستان میں پاکستانی طلبہ پر ہونے والے حملوں کی پرزور مزمت کرتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے پی ایم میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے دوران کیا جس میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود خان، ڈاکٹرارم شہزادی، ڈاکٹر واجد علی، ڈاکٹر بشریٰ حق، ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم، ڈاکٹر محمد صادق،ڈاکٹر نادر خان کے علاوہ مجلس عاملہ کے اراکین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان کا مزید کہنا تھا اس وقت دس ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کرغیزستان میں غیر محفوظ ہیں اور حکومت پاکستان فوری طور پر ان طلبا ء کی حفاظت یقینی بنائے اوران کو مشکل سے نکالنے اور تحفظ فراہم کرنے کیلیے فوری اقدامات کرئے.اجلاس کے موقع پر انھوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور کرغیزستان کے سفارتی تعلقات کو خراب کرنے والے دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے اور کرغیزستان میں عدالتی عمل کو پاکستان کا سفارت خانہ حکومت کو مطلع کرئے اس سلسلہ میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے اجلاس میں سفیر کرغیزستان اسلام آباد اور لاہور میں آنریری قونصلر مہر کاشف یونس کو یاداشت بھی ارسال کردی گئی ہے.واضح رہے پاکستان اپنے نامصاعد حالات کے باوجود کڑوڑوں ڈالرز فیسوں کی مد میں کرغیزستان کو ادا کررہا.