نوجوان سماجی رہنما ذکریا محمد نے کرغستان میں پاکستانی طلبہ پر مقامی طلبہ کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

ابوظہبی رپورٹ تحسین احمدخان ~
نوجوان سماجی رہنما ذکریا محمد نے کرغستان میں پاکستانی طلبہ پر مقامی طلبہ کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات سے اپنے بیان میں اس واقعے کو نہ صرف پاکستانی طلبہ بلکہ بین الاقوامی تعلیمی برادری کے لیے بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
ذکریا محمد نے کہا کہ “کرغستان میں ہمارے طلبہ پر ہونے والا یہ حملہ ناقابل برداشت ہے۔ پاکستانی طلبہ وہاں تعلیم کے حصول کے لیے گئے ہیں اور ان پر اس قسم کا تشدد کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ہم اس واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کرغستانی حکومت فوری طور پر اس واقعے کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
ذکریا محمد نے کہا کہ “پاکستانی طلبہ ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں اور ان کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ہم حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے پر فوری اقدامات کرے اور کرغستانی حکام سے اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستانی طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔”ذکریا محمد نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے اس واقعے پر فوری نوٹس لینے اور پاکستانی سفیر کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت دینے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ “وزیر اعظم کا یہ قدم قابل تحسین ہے اور ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں تاکہ ہمارے طلبہ کے حقوق اور تحفظ کو عالمی سطح پر یقینی بنایا جا سکے۔
ذکریا محمد نے بین الاقوامی برادری اور تعلیمی اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے واقعات کی مذمت کریں اور تعلیمی ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ “تعلیم ایک عالمی حق ہے اور کسی بھی طالب علم کے ساتھ نسلی، مذہبی یا قومی بنیادوں پر امتیازی سلوک قابل مذمت ہے۔ذکریا محمد نے کرغستان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ “ہم اس مشکل وقت میں اپنے طلبہ اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں گے اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ذکریا محمد کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی طلبہ اور ان کے اہلخانہ کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایسے واقعات کا سدباب صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب حکومت، تعلیمی ادارے اور سماجی رہنما مل کر طلبہ کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔*