سنجے لیلا بھنسالی کی’’ ہیرا منڈی‘‘

سہیل دانش

ہیرا منڈی سنجے لیلا بھنسالی کی ایسی کاوش ہے جس پر ہر طرف سے تنقید کے تیر چل رہے ہیں۔ زبان کی غلطیوں اور لوکیشن کی خامیوں کی نشاندہی کرنے والے یہ بھول گئے کہ لیلا بھنسالی خود ایک پروڈیوسر و ڈائریکٹر سے زیادہ اپنے آپ میں ایک انوکھا کردار ہے۔ وہ آپ کو اپنی مرڊی کا کچھ دکھانا چاہتا ہے۔اگر وہ اپکو وہ دکھانا چاہتا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ان کی پیشکش ہیرا منڈی فلاپ نہ ہوتی ۔ بھنسالی کا سنیما کے متعلق اپنا طرز فکر اور اسلوب ہے۔ تاریخ سے نام اٹھاتا ہے ۔ تاریخی واقعات پڑھتا ہے مگر لکھی ہوئی تاریخ کو من و عن تسلیم نہیں کرتا ۔ تاریخ کو بدل کر دکھاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی کاوش کو دیکھ کر اس کی کوشش کے منفی پہلو اجاگر کئے جارہے ہیں ۔آخر وہ دکھانا کیا چاہتا ہے ۔ کیا سالہا سال قبل کا لاہور کا بازار حسن ہیرا منڈی دکھانا چاہتا ہے ۔ لیکن وہ نہ جانے کیوں بھول جاتا ہے کہ بھارت کی کامیاب ترین فلم مغل اعظم کو بنانے کے لیے تاریخ کے کون کون سے سرے تلاش کئے گئے تھے۔ پھر بھارت کی فلموں میں لکھنو، دہلی، بمبئی اور کلکتہ کے بازار حسن کی رونقوں کو فلموں کے ذریعے کس طرح اجاگر کیا گیا تھا ۔ یہ فلمیں اپنے وقت اور حالات کی گواہی دیتی نظر آتی تھیں۔ ان کی کامیابی کی شرح باکس آفس پر خاصی حوصلہ افزا رہی یوں تو لاہور کے بازار حسن کے حوالے متعدد کتابیں اور مشاہدات شائع ہوتے رہے ہیں ۔سب نے اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے اس بازار کی چمک دمک رونقوں اور معاشرت کو اجاگر کیا ۔ لیکن مستنصرحسین تارڑ کی تصنیف ’’ لاہور آوارگی ‘‘ میں طوائفوں کے کردار پر بڑی سیر حاصل بحث کی گئی ۔ لیاقت علی سندھو کی تصنیف ’’ لاہور کی تلاش ‘‘ میں اس پہلو کو کئی واقعات سے جوڑتے ہوئے ثابت کیا گیا ہے کہ1857ء کی تحریک آزادی میں اس بازار کے مکینوں نے مجاہدوں کے بجائے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا ۔ کانپور کی طوائف عزیز النساء اور پھول بائی نے باغیوں کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔ یہ بات بھی کتابوں میں ملتی ہے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اس بازار کی خواتین نے بہت اہم اور حساس راز چرانے کے لئے بڑے بڑے سرکردہ عہدیداروں سے دوستیوں کا کھیل رچایا تھا ۔ آج لیلا بھنسالی کی ہیرا منڈی دیکھ کر ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بھنسالی تاریخی مغالطے کا شکار ہو گیا ہے۔ لائبریری میں ایک مشہور کتاب پیر کامل کی موجودگی، اخبار پر کرونا کی خبر، دیوار پر غلط املا سے لکھے گئے جملے، تنگ اور غلیظ گلیوں کے بجائے لاہور کی ہموار اور صاف گلیاں، دیکھنے والے سیریز میں غلطیاں اور حماقتیں ڈھونڈنے پر لگ گئے ہیں در حقیقت یہ بھی الگ دنیا ہے کیونکہ لیلا بھنسالی شارٹ کٹ کے بجائے طویل سڑک، کئی چوراہے کاٹ کر طے کرنے کا عادی ہے اس لیے اس نے لکھنو کے بازار حسن کی بجائے لاہور کی ہیرا منڈی کا انتخاب کیا ۔ میں نے چند دہائیاں قبل تقریباً تمام ہی بڑے شہروں کے بازار حسن پر ایک سیریل لکھی ۔ اس میں مختلف ادوار میں ان بازاروں کی رونقوں ان کی طرز معاشرت انداز اور طور طریقوں پر نظر ڈالی اس میں بہت سے فنکاروں کے انٹرویو کیے جن کا تعلق ان بازاروں سے تھا ۔ نادرہ اور نازلی اور کئی دوسری اداکاراؤں کا تعلق انہی بازاروں سے تھا ۔ کراچی کے نیپئر روڈ پر واقع اس بازار میں پہلی بار اداکار محمد علی اور طارق عزیز کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا ۔ محمد علی سیلاب زدگان کی مدد کے لئے فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں زندگی کے مختلف طبقات سے براہ راست ملاقات کر کے فنڈ جمع کررہے تھے ۔ نیپئر روڈ پر بھی انتہائی فراخدلی کے ساتھ ان چندہ مہم میں حصہ لیا ۔ یہ وہ دور تھا جب اس بازار میں رونقیں تھیں سرشام گانے سننے کے شوقین لوگ یہاں آتے پھول والوں اور نوٹوں کے ہاروں والی دوکانیں ایک قطار میں تھیں کیونکہ یہ ایک کمرشل علاقہ تھا ۔ اس کے قرب و حوار میں ہول سیل مارکٹیں تھیں لیکن یہ بازار بھی ایک خاصے بڑے حصے میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا ۔ پھر بتدریج یہاں سے نقل مکانی ہوئی ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں یہاں کے رہنے والے بنگلوں اور اپارٹمنٹس میں شفٹ ہو گئے ۔ ان کی شاندار رہائش گاہیں اب بااثر سرکاری افسران امراء اور رعوسا کے لئے طرب و نشاط کا ٹھکانا بن گئے ۔ اس حوالے سے چند نام ایک کارپوریٹ بزنس کی طرح مشہور ہوئے۔ حیدر آباد اور ملتان میں واقع بازاراپنی منفرد کہانیوں کے سبب شہرت رکھتے تھے ۔ سر ے گھاٹ کے علاقے میں واقع حیدرآباد کا یہ بازار بھی ایک قدیم تاریخ کا گواہ تھا ۔ فلم انڈسٹری میں سب سے زیادہ چہرے ملتان کے بازار سے متعارف ہوئے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ لاہور کی ہیرا منڈی کی اپنی ایک الگ شناخت رہی ۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ لیلا بھنسالی نے جو کچھ اپنی سیریز میں دکھانے کی کوشش کی ہے وہ حقیقت سے کتنی قریب ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ بھنسالی نے ڈرامہ اور افسانے کو گڈ مڈ کرکے دیکھنے والے کے لئے کوئی نیا ذائقہ اور چسکا ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اسکپرٹ لکھتے ہوئے معین بیگ بھی بار بار پٹڑی سے اترتے نظر آتے ہیں۔ اس بازار کی شہرت کے ساتھ ساتھ پھجے کے پائے کی مقبولیت بھی زبان زدوعام رہی اور پائے کی یہ دکان درحقیقت اس بازار سے منسلک ہو کر رہ گئی۔ اس بازار کے متعلق ایسی بے شمار تحریریں کاوشیں منظر عام پر آئیں جنہیں پڑھ کر آپ کو یہاں کے مکینوں سے ہمدردی پیدا ہو جائے گی۔ ہیرا منڈی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ نادرہ کے قتل اور پھر اس کے تفتیشی پہلوئوں کو جان کر آپ کو ایسے کرداروں سے ہمدردی پیدا ہو جائے گی کہ زرق برق اور چمک دمک والے یہ کردار حقیقت میں کن خطرات اور مصائب کا شکار رہتے ہیں۔ پھر ان بازاروں سے وہ ستارے بھی فلم انڈسٹری میں آئے جنہوں نے شہرت اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اگر لاہور کے حوالے سے آپ ان کتابوں کی ورق گردانی کریں تو مصنف کنہیا لال نہدی لاہور کے اس بازار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ رنجیت سنگھ ہی تھا۔ جس کے دور میں طوائفوں کو بڑا عروج ملا۔ لاہور کے کچھ علاقوں کو بھی ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ پھر بعض ایسے دریا دل مکین بھی نظر آئے ہیں۔ جنہوں نے مسجدیں تعمیر کرائیں۔ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد متعدد واقعات ہیں جب انہوں نے نیکی کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالا۔ سرسید احمد خان نے جب علیگڑھ یونیورسٹی کی تعمیر کی تو وہ لاہو تشریف لائے اور رقم جمع کی اس سے یونیورسٹی کی راہداریاں اور باتھ روم بنے۔ سرسید کی علیگڑھ یونیورسٹی سے لے کر زمانہ جنگ ہو یا قدرتی آفات ان بازاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہیرا منڈی کی اس کاوش میں سچ مچ آپ کہہ سکتے ہیں لیلابھنسالی نے اس بازار کی آڑھی ٹیڑھی تاریخ کو سیدھا اور سہل بنا کر پیش کیا ہے۔ یا سہل تاریخ کو آڑھا ٹیڑھا کرنے کا تجربہ کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس فلم کو دیکھ کر ہم یہ سبق سیکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنا زلف و رخسار بیچتی ہیں اور اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ہم جابجا اپنا کردار بیچتے نظر آئیں گے۔