حکومت سندھ نے اسکالر شپ اور بغیر سود کے قرض میں صوبے کو نظر انداز کرنے پر وفاقی اجلاسوں میں احتجاج کا فیصلہ کرلیا

 

اسکالرشپ اوربغیرسود کے قرض میں صوبے کو نظراندازکردیا گیا، حکومت سندھ
غربت مٹاؤ بغیر سود کے قرضوں اوراسکالرشپ سے پنجاب کو81 فیصدراورسندھ کو صرف 3 فیصد رقم دی گئی،  وزیرزراعت اسماعیل راہو
کراچی : حکومت سندھ نے اسکالرشپ اوربغیرسود کے قرض میں صوبے کو نظر انداز کرنے پر وفاقی اجلاسوں میں احتجاج کا فیصلہ کرلیا ہے،  وزیرزراعت اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ اسکالرشپ اوربغیرسود کے قرض میں صوبے کو نظراندازکردیا گیا، غربت مٹاؤ بغیر سود کے قرضوں اور اسکالر شپ سے پنجاب کو 81 فیصدرقم دی گئی۔انہوں نے مزید اپنے بیان میں کہا کہ وفاق کی جانب سے سندھ کو صرف 3 فیصد رقم دی گئی, دیگر صوبوں سےزیادہ ریوینیو دینے والا صوبہ سندھ ہے،اس صوبے کو ہی نظر انداز کیا جارہا ہے,ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے 46 ہزار طلبا کو اسکالر شپ فراہم کی گئی.انہون نے کہا کہ اسکالرشپ میں بھی سندھ کو سب سے کم اسکالر شپ دی گئی ہے،

وفاقی نے پنجاب کو اسکالرشپ اور بغیر سود کے 81.61 فیصد قرض کیوں دیا؟سندھ کو 38 کروڑ 16 لاکھ 91 ہزاردیے گئے، پنجاب کو 9 ارب 7کروڑ 90 لاکھ روہے دیے گئے, بلوچستان کو غربت مٹانے والے بغیر سود فنڈز سے صرف 5 کروڑدیے گئے ہیں, پنجاب کے 16 ہزار758 طلباء کو اسکالر شپ دی گئی، کے پی کے 8 ہزار621 طلبا کو تعلیم کے لیے اسکالرشپ دی گئی,سندھ کے صرف 5 ہزار 935 طلبا کو اسکالرشپ دی گئی ہے،جس میں کراچی شہر شامل ہی نہیں،ایسا لگتا ہے کہ وفاق نے صوبہ سندھ کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ہے، وفاق نے غربت مٹاو پروگرام کے تحت سندھ کے لیے 4 ارب 26 کروڑ رکھے، غربت مٹاو پروگرام کی مختص رقم سے سندھ کو ملا کچھ بھی نہیں، وفاق نے پنجاب کے لیے 5 ارب 22 کروڑ 52 لاکھ رکھے، کے پی اور گلگت کے لیے 7ارب 95 کروڑ 76 لاکھ رکھے. اسماعیل راہو نے کہا کہ نیازی حکومت ملک میں غربت مٹانے کا نعرہ لگاکر چور دروازے سے آئی ہے، نیازی سرکار نے ملک کو مزید غربت میں دہکیل دیا ہے، سلیکٹڈ کوچاہئیے کہ سلیکٹربچاؤمہم سے باہرنکلے.صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاق مہنگائی اور غربت مٹاؤ مہم شروع کرے۔