آزاد کشمیر کی تازہ صورت حال، اجلاس محض خانہ پوری۔

سچ تو یہ ہے،

بشیر سدوزئی

گزشتہ چار روز سے آزاد جموں و کشمیر بند، عوامی بے چینی اور امن امان کی صورت حال مخدوش ہے۔ اس پر تو ہر درد دل اور محب وطن کو تشویش ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ طاقت ور اقتدار کے نشے میں اتنے مست ہیں کہ ان کو احساس ہی نہیں ہو رہا، کہ یہ مسئلہ انتظامی نہیں سیاسی ہے، اسے جتنی طول دی جائے اتنی ہی خرابی پیدا ہو گی تاہم ایک تاثر یہ بھی ہے کہ یہ سارا فسانہ ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کہ مسئلہ کشمیر کو لپیٹنے کی صورت میں آزاد کشمیر کے عوام کا کس حد تک ردعمل آ سکتا ہے اور اس کو قابو میں رکھنے کے لیے کس قدر اقدامات کی ضرورت ہو گی یا آزاد کشمیر کی حیثیت کو ختم کر کے صوبوں میں ضم کرنے کی صورت میں ردعمل سے نمٹنے کے لیے کیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت دبے لفظوں اس سارے ہنگامے کے پیچھے را کے ملوث ہونے کی طرف اشارے بھی کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پونچھ ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر راولاکوٹ خاص ٹارگٹ ہے جو انقلابی تحریکوں کے حوالے سے خاص طور پر مشہور ہے۔ موجودہ عوامی حقوق کی تحریک بھی ایک سال قبل 8 مئی 2023 کو راولاکوٹ سے ہی شروع ہوئی تھی جو آج سارے آزاد کشمیر میں پھیل چکی جب کے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کو بھی راولاکوٹ نے ہی ثبوتاز کیا تھا، لہذا راولاکوٹ اور اس کا نوجوان خاص ٹارگٹ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کو بدنام اور ملک دشمن دیکھا کر عوام کا اعتماد کم کیا جا سکے۔ گزشتہ روز راولاکوٹ کی دیواروں پر ایسے پوسٹر پائے گئے جن پر آزاد کشمیر کے جھنڈے کے ساتھ بھارتی جھنڈے کو دیکھایا گیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان پوسٹر سے لاتعلقی اور مذمت کی ہے تاہم اس صورت حال کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا۔ ریاست بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کو عوام نے پاوں تلے روند دیا۔ لیکن ابھی تک حکومت نے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ تعلیمی ادارے بند ہیں اور نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر سہیل حبیب تاجک کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے گروپس پکڑے گئے ہیں جن میں 25، 25 لوگ شامل تھے، ان لوگوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ امن و امان کی صورت حال خراب کرنے اور انتشار پھیلانے کے لیے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیز کے پے رول پر ہیں۔ لیکن ان گرفتار مبینہ بھارتی ایجنسی کے رابطہ کاروں میں سے کسی کو بھی ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا۔ برحال سردست آزاد کشمیر میں شدید سیاسی بے چینی اور افراتفری ہے۔ شہر اور قصبے بند ہیں لوگوں کو خوراک اور بچوں کے لیے دودھ ناپید ہے ۔ اسپتالوں میں ادویات کا ملنا مشکل ہو گیا ہے جب کہ عوامی ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسی غیر یقینی اور بد انتظامی آزاد کشمیر کی پٹی میں پہلی مرتبہ دیکھی جا رہی ہے۔ حکومت کو باور کرایہ جا رہا ہے کہ سیاسی مسائل فوج یا نیم فوجی دستوں کی تعیناتی سے حل نہیں ہو سکتے، اگر ایسا ہوتا تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 15 لاکھ فورسز کب کی امن امان بحال کر چکی ہوتی جو 34 برس سے خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے۔ مودی کو متعدد مرتبہ لوگوں نے سمجھایا کہ یہ مسئلہ انتظامی نہیں سیاسی ہے لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اسی طرح نالائق حکمرانوں نے آزاد کشمیر میں خالصتا سیاسی اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو خوامخوہ طول دے کر الجھا دیا حالاں کہ یہ اتنا پیچیدہ نہیں تھا ۔۔ انہی کالموں میں ہم بار بار لکھتے رہے کہ آزاد کشمیر کو اتنا آسان نہ سمجھا جائے۔ گو کہ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ایک مختصر اور قدر چھوٹی جگہ ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک ریاست کا نمائندہ خطہ ہے جس کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے جو حالت جنگ میں ہے جس کو اقوام متحدہ کی جانب سے لوکل اتھارٹی ہونے کا تحفظ حاصل ہے۔ ممکن ہے نیم فوجی دستوں کی مدد سے اس شورش پر قابو پا لیا جائے لیکن اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے اور مستقبل میں مجھے تو بڑے بھیانک نتائج نظر آتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے سیاسی فرنچائز کو اس سے بڑا جھٹکا لگا ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ اپنی ذیلی فرنچائز جو آزاد کشمیر میں حکمران بھی ہیں سے بات چیت کو آزاد کشمیر کی صورت حال پر اجلاس اور رپورٹس کا نام دیا جس کے کوئی نتائج نکلنے تھے نہ نکلے۔ یہ اجلاس محض خانہ پوری تھے، اس لیے کہ ان پارٹیوں اور چوری کھانے والے مجنوں کے غبارے سے ہوا نکل چکی، یہ لوگ اس خوف میں ریاست چھوڑ چکے کے کئیں سری لنکا والی صورت حال نہ ہو جائے۔ آزاد کشمیر کے حکمرانوں سمیت سارے فرنچائز صرف اسلام آباد میں آنیاں جانیاں کر رہے ہیں عوام کی مشکلات اور مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ ان کو تو اپنی پنشن اور تنخواہ کی فکر کھائی جا رہی ہے جو یہ سابق اور موجودہ ایم ایل اے کی حثیت سے کروڑوں روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں۔ پورے آزاد کشمیر میں صرف خالد ابراہیم مرحوم ہی ایک مرد قلندر تھے جنہوں نے کہا تھا کہ پنشن وصول کر کے میں پارلیمانی سیاست میں کرپشن کی نئی روایت میں شامل نہیں ہونے چاہتا جس کو یہ اسمبلی ممبران اپنے لیے جائز قرار دے رہے ہیں ۔ قارئین! ان سطور کے تحریر ہوتے وقت میرپور بھمبر سے چلا قافلہ آزاد کشمیر کے بلند ترین، خوب صورت شہر اور صحت آفزاں مقام دھرکوٹ کو عبور کر کے مظفرآباد کی حدود میں داخل ہو چکا ہو گا۔ تمام تر منفی پروپیگنڈہ کے باوجود ہزاروں افراد کا یہ قافلہ ابھی تک پرامن ہے تاہم آغاز میں ہی میرپور کی حدود میں ایک پولیس افسر کی شہادت اور متعدد شہری اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی افسوس نام خبر منظر عام پر آنے کے بعد آزاد کشمیر کے معاشرے میں خاصی تشویش پائی جاتی تھی لیکن بعد کی صورت حال خاصی اطمینان بخش رہی۔ جلوس جب راولاکوٹ میں تھا تو اس قلم کار کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی راولاکوٹ کے نمائندے ساجد کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں تو حالات کو خراب کرنا چاہتی ہیں لیکن ایکشن کمیٹی کی اولین ترجیح ہے کہ حالات پر امن رہیں اور ہمارا فوکس صرف اور صرف یہ رہے کہ حکومت آزاد کشمیر ہمارے پہلے سے منظور کئے ہوئے مطالبات کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ راولاکوٹ کی دیواروں پر چسپاں پوسٹر یا مطالبات کی منظوری سے ہٹ کر نعرے بازی یا کسی بھی غیر اخلاقی اقدام کے ہم ذمہ دار نہیں بلکہ بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ہماری تحریک پرامن اور غیر سیاسی تھی ہے اور رہے گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ راولاکوٹ کی دیواروں پر متنازعہ پوسٹر کس نے چپکائے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی راولاکوٹ کے رکن ساجد صاحب کا کہنا تھا کہ اس کا جواب پولیس ہی دے سکتی ہے جو ہمیں جائز مطالبات پر مبنی پوسٹر چپکانے نہیں دیتی تو متنازعہ پوسٹر کوئی کیسے چپکا سکتا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے سے جب پوچھا گیا کہ وزیراعظم نے تو رات گئے ہنگامی پریس کانفرنس میں تمام مطالبات منظور کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اب ہڑتال اور جلوس جاری رکھنے کا کیا جواز ہے تو کہا گیا کہ یہ تو محض لولی پاپ دینے کی باتیں ہیں مذاکرات کی اب بات ہی نہیں، حکومت صرف ان مطالبات کا ٹوٹی فیکشن کر دے جس کو خود تسلیم کر چکی تو ہم یہاں سے ہی گھر چلے جائیں گے” جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی تو پہلے سے منظور مطالبات کے نوٹی فکیشن کے اجراء کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر نکل آئی ہے جس کے ساتھ عوام کا جم غفیر ہے۔لیکن من پسند بٹھائے گئے وزیر اعظم کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ سڑکوں پر آنے سے پہلے لوگوں کو مذاکرات اور بات چیت میں انگیج کر کے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر عوامی ایکشن کمیٹی کو باعزت راستہ دیا جانا اس سے زیادہ بہتر اور آبرومند ہے کہ ریاستی طاقت سے کنٹرول کیا جائے۔ ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ ماضی کی روایات کے مطابق اس ڈرامہ کا آخری سین سرکار کی تبدیلی ہو گئی ممکن ہے ایسا ہو جائے۔ مظفر آباد، پونچھ اور میرپور ڈویژن کے تمام ضلعی صدر مقام اور چھوٹے بڑے شہروں میں آج بھی شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ لانگ مارچ کے شرکا مظفرآباد پہنچنے والے ہیں ضلع حویلی سے مظفرآباد جانے والے قافلے کو محمود گلی پر روک لیا گیا، قافلے میں شریک متعدد افراد کو گرفتار کرکے سٹی تھانہ فاروڈ کہوٹہ منتقل کیا گیا۔مظفرآباد میں مظاہرین کو کنٹرول نہ کرنے پر حکومت آزاد کشمیر نے کمشنر مظفرآباد اور ڈی آئی جی کو رات گئے تبدیل کیا۔ مظفرآباد ریجن میں عرفان مسعود کشفی کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس مظفرآباد ریجن تعینات کیا گیا۔ ان چار روز کے دوران کوٹلی کے سوا پولیس اور مظاہرین کے درمیان کوئی بڑا تصادم نہیں ہوا۔ جہاں ایک اے ایس آئی جاں بحق جب کہ 12 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے مظفر آباد کے داخلے اور خارجی راستے بند کرنے کے علاوہ تمام اضلاع کے بھی داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا تھا ۔ تاہم مظاہرین دیگر اضلاع میں تو رکاوٹیں ہٹانے ہوئے مظفرآباد تک پہنچ چکے، شہر میں داخل ہوتے ہیں یا حکومت ریاستی طاقت کے زور پر روکتی ہے یہ چند گھنٹوں میں معلوم ہو جائے گا۔ کشمیر حکومت کے ترجمان اور ممبر اسمبلی عبدالماجد خان نے مظاہرین کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستے بند نہیں ہیں اس وقت کشمیر اور پاکستان کے داخلی اور خارجی راستے کھلے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی دعوئے اپنی جگہ لیکن آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ مناسب نہیں لیکن طاقت ورں کو سب اچھا لگتا ہے تو تماشہ ہم بھی دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔
” بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب،
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں،
تجھے دیکھ کر ایسی عادت ہے بگڑی،
کہ ہم خواب میں بھی صنم دیکھتے ہیں “