سبز اور کم کاربن، خوبصورت چین

تحریر: زبیر بشیر
15 مئی چین میں کم کاربن کے قومی دن کے طور پر منایا جا رہا ہے، اور اس سال کا موضوع “سبز اور کم کاربن، خوبصورت چین” ہے.چین کی وزارت حیاتیات و ماحولیات نے 15 مئی کو موسمیاتی تبدیلی کے لئے چین کی موافقت پر پیشرفت رپورٹ 2023 جاری کی ، جو اس حوالے سے چین کی پہلی رپورٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق جون 2022 میں چین کی قومی موسمیاتی تبدیلی حکمت عملی 2035 کے اجراء کے بعد سے چین نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے متعدد پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے لیے فعال ایکشن پلان اپنایا ہے اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے مطابقت کے لئے چین میں پالیسی نظام ایک واضح شکل اختیار کر رہا ہے۔ اب تک، چین نے تقریباً 70،000 زمینی خودکار موسمی اسٹیشنوں، 200 سے زیادہ موسمی ریڈار اسٹیشنوں، ساؤنڈنگ اسٹیشنوں اور مدار میں آپریشنل موسمیاتی سیٹلائٹس پر مشتمل ایک جامع موسمیاتی مشاہدے کا نظام قائم کیا ہے. موسمیاتی پیشگوئیوں اور انتباہات کی درستگی اور باریکی میں بھی مسلسل بہتری آرہی ہے جس میں ملک بھر میں 24 گھنٹے بارش کے طوفان کی وارننگ کی درستگی کی شرح 93 فیصد تک پہنچ گئی ہے، بڑے موسمی عمل کی درست پیشگوئی ایک ہفتہ پہلے حاصل کی جا سکتی ہے اور موسمیاتی آفات کی وارننگ ایک سے تین دن پہلے جاری کی جا رہی ہے۔
چین ترقی پذیر دنیا کا رکن ہے لیکن حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں چین کی خدمات ترقی یافتہ ممالک سے کم نہیں ہے۔عالمی سطح پر ،خاص کر بیلٹ اینڈ روڈ سے متعلقہ ممالک میں سبز توانائی میں چین کی سرمایہ کاری روایتی توانائی سے بڑھ گئی ہے۔ 2022 میں، چین کی پون بجلی اور فوٹو وولٹک مصنوعات کی برآمدات نے دوسرے ممالک کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تقریباً 573 ملین ٹن کم کرنے میں مدد فراہم کی، جو عالمی قابل تجدید توانائی سے کاربن اخراج میں کمی کا تقریباً 41 فیصد تھا ۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ چین نے نئی توانائی کی صنعت میں فعال طور پر سرمایہ کاری کی ہے اور قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بہتر اور زیادہ قابل رسائی حل فراہم کر رہی ہیں۔
جب موسمیاتی تبدیلی کی بات آتی ہے تو چین سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور پاکستان کا کاربن اخراج دنیا کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، وہ بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہ ممالک میں شامل ہے۔ اس معاملے پر ترقی یافتہ ممالک کو تاریخی ، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی انقلاب کے دوران بڑی مقدار میں فوسل فیول جلایا اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نقصان دہ گیسز گرمی کا سبب بنیں۔ صنعتی انقلاب کے بعد ترقی یافتہ ممالک امیر ہو گئے ،لیکن موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات تمام بنی نوع انسان کو برداشت کرنا پڑے۔ ترقی پذیر ممالک کو اکثر نئی توانائی کی جانب منتقلی میں زیادہ لاگت اور ناکافی فنڈز کے تضاد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ترقی یافتہ ممالک ،ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اپنے وعدوں کو مکمل طور پر پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں، یہاں تک کہ کچھ ممالک نے کاربن ٹیرف جیسی یکطرفہ ماحولیاتی پابندیاں بھی نافذ کی ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک پر بوجھ اور عالمی عدم مساوات بڑھ گئی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ اور کاربن اخراج میں کمی کی تحریک ہر عام فرد کو ایک سپرمین کی طرح کرہ ارض کو بچانے کے عظیم مقصد میں شریک ہونے کی اجازت دیتی ہے کاربن اخراج میں کمی کا معاملہ تمام ممالک کے بنیادی ترقیاتی مفادات سے جڑا ہوا ہے لہذا کاربن اخراج میں کمی کے وعدے ، ان ممالک کی جانب سے اپنی قومی ترقی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مابین متوازن موازنہ کا نتیجہ ہے۔جون دوہزار بائیس میں چین کی قومی موسمیاتی تبدیلی حکمت عملی دوہزار پینتیس کے اجراء کے بعد سے چین نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے متعدد پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے لیے فعال ایکشن پلان اپنایا ہے اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے مطابقت کے لئے چین میں پالیسی نظام ایک واضح شکل اختیار کر رہا ہے