الیکٹرک گاڑیوں سے اڑنے والی الیکٹرک گاڑیوں تک

تحریر: زبیر بشیر
دنیا بھر کو درپیش ماحولیاتی مسائل اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر دنیا کے کئی ممالک میں الیکٹرک گاڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ چین اس تبدیلی کو متعارف کروانے اور لاگو کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔ چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ ساتھ اب چین نے اڑنے والی الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں بھی اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔جنوبی چین کے صوبہ گوانگ دونگ میں مقامی طور پر تیار کردہ بغیر پائیلٹ کے اڑنے والی برقی گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی گئی ہے۔ اس سال کے آخر تک ان گاڑیوں کو “اڑنے والی ٹیکسیوں” کے طور استعمال کرنے منصوبہ بنایا گیا ہے۔
چینی ڈرون ساز کمپنی ای ہینگ کی طرف سے تیار کردہ یہ گاڑی بغیر پائیلٹ کے دو افراد کو لیجانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی مدد سے کم اور درمیانے فاصلے کی شہری نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔اس گاڑی کے مسافروں کی نقل و حمل، ہوائی سفر، ایئر لاجسٹکس اور طبی ہنگامی ردعمل جیسے شعبوں میں استعمال کے وسیع امکانات موجود ہیں ۔7 اپریل کو چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی منظوری کے بعد، گوانگ دونگ کے یونفو شہر میں واقع فیکٹری میں ان گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز ہوا۔ ابتدائی طور پر سالانہ 600 یونٹس کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی ایوی ایشن اتھارٹی نے خود مختار مسافر ڈرون کے لیے پروڈکشن سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔
اس کے علاوہ چینی ٹیکنالوجی کمپنی شیاؤمی نے بیجنگ میں اپنی نئی توانائی والی گاڑیوں کی سپر فیکٹری میں اعلیٰ درجے کی آٹومیشن حاصل کرلی ہے۔ کمپنی نے پیداواری کارکردگی اور درستگی کو بڑھانے کے لیے 700 سے زیادہ روبوٹ تعینات کیے ہیں۔کمپنی نے 2021 میں NEV سیکٹر میں قدم رکھا تھا اور اس سال مارچ میں اپنی فیکٹری میں مکمل طور پر تیار کردہ پہلی گاڑی متعارف کروائی۔شیاؤمی کی یہ سپر فیکٹری سات لاکھ مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہے۔ فیکٹر کی چھ ورکشاپس میں 700 سے زیادہ روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں، جو اسے دنیا کی جدید ترین NEV فیکٹریوں میں سے ایک بناتا ہے۔ڈائی کاسٹنگ ورکشاپ میں لگائی گئی ایک مشین ایک ہی بار میں گاڑی کا پچھلا حصہ مکمل طور پر تیار کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گاڑی کے عقبی حصے میں 72 حصوں کی ویلڈنگ کی ضرورت ہوتی تھی۔نئی مشین کی تعیناتی سے پیداواری کارکردگی میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ سٹیمپنگ ورکشاپ جہاں کار کے بیرونی حصے بشمول دروازے اور پینل تیار کیے جاتے ہیں۔ وہاں بھی نئے خودکار نظام کی بدولت گاڑی کے بیرونی حصوں کا ایک سیٹ تیار کرنے میں اوسطاً صرف چار سیکنڈ لگتے ہیں۔
دوسری طرف بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار میں معروف کمپنی ’ٹیسلا‘ کو بھی پیچھے چھوڑنے والی چینی کمپنی ’بِلڈ یوئر ڈریمز‘نے حال ہی میں مقامی پارٹنر میگا کانگلومریٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ پاکستان کی موٹر کاروں کی مارکیٹ میں آنے کا اعلان کیا ہے۔بی واے ڈی نے 2023 میں دنیا میں سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں بنائیں، جس نے ٹیسلاکو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرنے اور صاف ستھری فضا کیلئے توانائی کے زیادہ موثر ذرائع نقل و حمل کو اپنانے کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔یہ اقدام گرین پراڈکٹس کو پاکستانی صارفین کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔بی وائی ڈیاپنی ای وی کی پیداوار کوپاکستان میں مقامی طور پرتیار کرے گا جس سے پاکستان رائٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑیاں ایکسپورٹ کرسکے گابی وائی ڈی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا ایک بڑا ثبوت ہے۔اس سرمایہ کاری سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے اور معروف غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں پیسے لگانے میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔
یہاں دلچسپ اور اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان چین کا دوست ملک اور سی پیک کا شراکت دار ہونے کی وجہ سے ان ٹیکنالوجیز سے مستقبل میں بھر پور استفادہ کر سکتا ہے۔