جیکب آباد میں سینئر صحافی کے بھانجے کے قتل کے خلاف صحافیوں اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ، قومی شاہراہ پر دھرنا، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ۔

جیکب آباد:رپورٹ ایم ڈی عمرانی ۔
جیکب آباد میں سینئر صحافی کے بھانجے کے قتل کے خلاف صحافیوں اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ، قومی شاہراہ پر دھرنا، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے سینئرصحافی حاکم ایری کے بھانجے حبدار ایری کے بے رحمانہ قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف ڈسٹرکٹ پریس کلب کی کال پر صحافیوں اور سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ایک احتجاجی جلوس صحافیوں راجہ علی سرکی عبدالرحمن آفریدی، محمد نواز سولنگی،ایم ڈی عمرانی،زبیر احمد ابڑو، ندیم لاشاری، جے یو آئی کے ڈاکٹر اے جی انصاری، پی پی شہید بھٹو کے ندیم قریشی، جماعت اسلامی کے محمد حنیف کھوسو محمد اکبر سومرو اویس میر عمرانی محمد علی راجپوت ،محمد علی سریھو تاج محمد دایو، شھریار جکھرانی اور دیگر کی قیادت میں نکالا گیا، جلوس میں صحافیوں ، برکت کھوکھر، اسد علی مغل، فرید احمد جکھرو آصف علی ،عبدالنبی مگسی، اعجاز احمد میمن سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں اور سیاسی ومذہبی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی، مظاہرین نے بدامنی، ڈاکو راج اور پولیس کی نااہلی کے خلاف نعریبازی کی، مظاہرین نے قومی شاہراہ پر پہنچ کر دھرنا دیا اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاھانی گینگ کے ڈاکوؤں نے بھتہ نہ دینے پر حبدار علی ایری پر حملہ کرکے شھید کردیا شھید سینئر صحافی حاکم ایری کے بھانجہ تھا حبدار ایری کا قتل پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ تین روز گزرنے کے باوجود پولیس قاتلوں کی گرفتار کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، انہوں نے کہا کہ گڑہی خیرو میں ڈاھانی گینگ کے ڈاکوؤں نے قتل و غارت گیری کا بازار گرم کیا ہوا ہے اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں، نشاندہی کے باوجود ڈاکوؤں کی عدم گرفتاری افسوسناک اور پولیس کی ناکامی و نااہلی ہے، بدامنی کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہوچکا ہے قتل کے مقدمات میں ملوث قاتل سرعام اسلحہ لیکر گھوم رہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاھانی گینگ کے تمام کارندوں کو گرفتار کرکے امن و امان کو بحال کیا جائے بصورت دیگر سندھ بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

جیکب آباد:ايم ڈی عمرانی
جے یو آئی میڈیا ونگ کی جانب میڈیا کانفرنس، صحافی انسانی آزادی کا وکیل، معلومات کی فراہمی کا سر چشمہ اور انسانی حقوق کا علمبردار ہے: مقررین۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام میڈیا ونگ کی جانب سے میڈیا کانفرنس تعلقہ میڈیا ونگ کے کوآرڈینیٹر تاج محمود امروٹی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ کونسل ہال جیکب آباد میں منعقد کی گئی جس میں جے یو آئی کے ضلعی امیر اور پریس کلب جیکب آباد کے سابق صدر ڈاکٹر اے جی انصاری، ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے ضلعی کوآرڈینیٹر اسداللہ حیدری، حاجی محمد عباس بلوچ، انجینئر حماد اللہ انصاری، پروفیسر خالد محمود مہر، سینئر صحافی عبدالسمیع سومرو، شاہنواز رحمانی، واحد بخش انڑ، ثناء اللہ قلندرانی، رضوان اللہ چاچڑ سمیت صحافیوں، ادیبوں اور رہنماؤں نے خطاب میں کہا کہ صحافی اخبارات اور رسائل کے ذریعے سیاسی، معاشی، معاشرتی، تعلیمی، دینی اور تہذیبی محاذ پر کمیونٹی کی بہتر رہنمائی کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صحافی انسانی آزادی کا وکیل، معلومات کی فراہمی کا سرچشمہ اور انسانی حقوق کا علمبردار ہوتا ہے، ملک کے آئین کے آرٹیکل 19 پریس کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، دنیا میں میڈیا ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی اور میڈیا کو جتنی سہولیات میسر ہیں اتنی ہی تکالیف بھی پیدا ہورہی ہیں، ہمارے ملک میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے پالیسیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، انہوں نے کہا کہ دنیا سمیت پاکستان میں صحافیوں کے قتل اور دھمکیوں کی وجہ سے ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، صحافیوں کے لیے پاکستان 4 نمبر پر خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ صحافت کے تحفظ کے لیے قانون بنانے کی ضرورت ہے اور صحافیوں کے لیے مالیاتی منصوبے بنائے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا پر نامناسب کردار بھی ادا کیے جارہے ہیں اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینئر صحافی جان محمد مہر سمیت دیگر صحافیوں کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے ورثاء کے لیے معاوضے کا اعلان کیا جائے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے ڈاکووں کے ہاتھوں صحافی کے بھانجے کے بہیمانہ قتل کی مذمت
قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ترجمان جماعت اسلامی
جیکب آباد (نامہ نگار)جماعت اسلامی سندھ نے گڑھی خیرو کے تھانہ دوداپور کے حدود حسین آباد میں بھتہ نہ دینے پر جیکب آباد کے سینئر صحافی اورڈسٹرکٹ پریس کلب کے صدر حاکم علی ایری کے بھانجے حبدارعلی ایری کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت اور قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پورا سندھ ڈاکو راج کے حوالے ہے کسی شہری کی جان ،مال اور عزت محفوظ نہیں ہے، حکومت کھوکھلے دعووں کے سوا کچھ نہیں کرپارہی ہے ۔ جماعت اسلامی سندھ کے ترجمان مجاہد چنا نے کہا کہ ہر ضلع میں مقامی ظالم وڈیرے اور پولیس کی سرپرستی میں ڈاکو گینگ قائم ہیں جنہوں نے اغوا برائے تاوان سمیت جرائم کا بازار گرم کرکے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔جس دن ڈاکو راج کی سرپرستی ختم اور پشتیبان ظالم وڈیروں اور پولیس میں موجود کالی بھیڑوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو امن بحال اور جرائم کا خاتمہ ہوجائے گا۔جماعت اسلامی کے رہنما نے ایس ایس پی جیکب آباد سے مطالبہ کیاکہ وہ ضلع میں قیام امن ،جرائم کے خاتمے اورصحافی کے بھانجے کے قاتلوں کو قانون کی پکڑ میں لاکر قرارواقعی سزادلانے کے لیے کردار اداکرکے اپنی ذمہ دارای پوری کرے۔ صوبائی سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا نے جیکب آباد کے سینئر صحافی حاکم علی ایری سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے بھانجے کے قتل پر اظہار افسوس بھی کیا۔#
جیکب آباد:ایم ڈی عمرانی ۔
جیکب آباد میں صحافی کے بھانجے کے قتل میں ملوث بھتہ خور ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کا آپریشن، 20 سے زائد مشتبہ افراد۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی تحصیل گڑہی خیرو کے تھانہ دوداپور کے علاقے حسین آباد میں بھتہ خور ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے صحافی کے بھانجے نوجوان حبدار ایری کے قتل میں ملوث میں ملزمان انعام یافتہ ڈاکوؤں امان اللہ ڈاھانی، بہارو ڈاھانی، خانو ڈاھانی، اکرم ڈاھانی، سردارو ڈاھانی اور ان کے گینگ و سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے تھانہ دوداپور، تھانہ پنہوں بھٹی کی حدود میں آپریشن کیا، پولیس کی جانب سے آپریشن کے دوران علاقے کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا، پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران 20 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ایس ایس پی سید سلیم شاہ کے مطابق ڈاکوؤں کی گرفتاری تک آپریشن جاری رکھا جائے۔

جیکب آباد:رپورٹ ایم ڈی عمرانی ۔
جیکب آباد میں کوسٹر الٹنے سے ایک شخص جاں بحق، بچوں و خواتین سمیت 50 سے زائد افراد زخمی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے آباد تھانہ کی حدود گوٹھ ڈیول سولنگی کے قریب مسافر کوسٹر الٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص سچل سولنگی موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ کوسٹر میں سوار 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے، زخمیوں کو پولیس نے طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا، پولیس کے مطابق کوسٹر سوار افراد بلوچستان کے پیر تیار غازی کی دربار سے منت دیکر اپنے گاؤں جارہے تھے کہ تیز رفتاری کے باعث کوسٹر کا ٹائرراڈ ٹوٹنے کی وجہ سے کوسٹر الٹ گیا اور تمام افراد زخمی ہوگئے، اسپتال انتظامیہ کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں میں اللہ داد، عبدالمالک، نذیراں، عزیزاں، شاہل، فیروزہ، مزمل، نوید سولنگی اور دیگر شامل ہیں، زخمیوں میں 7 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے، دوسری جانب سول اسپتال میں سہولیات کے فقدان اور ادویات کی قلت کے باعث زخمیوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، اسپتال میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ایک بیٹ پر 3 سے 4 زخمیوں کو طبی امداد دی گئی جبکہ زخمیوں کے لیے ادویات بھی نجی میڈیکل اسٹور سے منگوائی گئی۔