تشنج سے آگاہی ڈاکٹر خالد محمود اختر کی زبانی.

ن و القم۔۔۔مدثر قدیر
تشنج سے آگاہی ڈاکٹر خالد محمود اختر کی زبانی.

کل اندرون شہر جانا ہوا تو سلیم کی دکھ بھری داستان سن کر ہوش اڑ گئے اس نے بتایا کہ کچھ روز قبل گھر سے نکلتے ہوئے کچھ دوری پر ایک کیل اس کے پائوں میں چبھا جس کی وجہ سے اس کا کافی خون نکلا اور کچھ دیر بعد جسم اکڑاہٹ کا شکار ہونے لگا اور میں نے گھر ہی میں ململ کے کپڑے کو جلا کر اس کی راکھ اپنے پائو ں پر باندھ لی جس پر کچھ افاقہ ہوا اور مجھے میڈیکل اسٹور والے عاصم نے کہا کہ فوری میو ہسپتال جاکر ٹیٹنس سے بچائو کا انجکشن لگوا لو کیونکہ اگر انفیکشن پھیل گئی تو مسئلہ ہوگا.میرے پاس یہ انجکشن کافی دنوں سے ختم ہوا ہے اور مارکیٹ میں بھی دستیاب نہیں شاید ہسپتال کی ایمرجنسی میں مل جائے ابھی تمھارے ذخم کو 12گھنٹے گزر چکے ہیں فوری طور پر اس انجکشن کو لگائو ورنہ جسم کی اکڑاہٹ بڑھ کر تشویش ناک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔جس پر میں نے فوری طور پر میو ہسپتا ل کی ایمرجنسی سے اس انجکشن کو لگوایااور آج 5دن ہونے کو ہیں ابھی تک انجکشن والی جگہ ہر اکڑاہٹ محسوس ہوتی ہے اور درد بھی ہوتا ہے جس پر میں نے اسے تسلی دی کہ ابھی کچھ روز اکڑاہٹ رہے گی جس کے بعد بازو کا یہ حصہ نارمل ہونا شروع ہوگا ۔اندرون شہر میں آج سے 20سال پہلے حالات یہ تھے کہ خواتین اپنی قمیض کے اوپر ہی سے بازو پر انجکشن لگواتی تھیں جو کہ ان کی صحت کے حوالے سے کافی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ سوئی جب قمیض کے اوپر لگتی ہے تو یہ اپنے ساتھ وائرس یاں بیکٹیریا کو بھی جسم میں داخل کرنے کا سبب بنتی ہے اور میں نے اس وجہ سےایک نہایت قیمتی جا ن کو اپنے عزیزوں و اقارب سے دور جاتے دیکھا مگر اب عوامی آگاہی کی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں نہایت کمی آئی ہے ۔میں بات کررہا تھا تشنج کی بیماری کی جس کی روک تھام کے لیے اس سے بچائو کا انجکشن لگانا پڑتا ہے جو آجکل نایاب ہے جس کی وجہ سے روڑ ایکسیڈنٹ کے بعد ایمرجنسی میں جانے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کا ڈرگ کنٹرول ونگ اس کی نایابی پر خاموش تماشائی بناہوا ہے اور مریضوں کو ٹیٹنس کا انجکشن نا لگنے کے باعث اگر مریض کا زخم بگڑ جائے تو مریض کی جان بچانا مشکل ہوتی ہے۔اس حوالے سے میں نے سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں تعینات کمیونٹی میڈیسن کے ڈاکٹر خالد محمود اختر سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ مدثر بھائی ، ٹیٹنس یعنی تشنج بیکٹیریا سےہونےوالا ایک انفیکشن ہے،جو کلوسٹریڈی ٹیٹنیClostridium tetani کی وجہ سے ہوتا ہے۔جب بیکٹیریا جسم پر حملہ کرتا ہےتو یہ ایک زہریلا مادہ پیدا کرتا ہےجومسلسل اور تکلیف دہ پٹھوں کے سکڑاؤ کا سبب بنتا ہےاور اس سکڑاؤ کے نتیجے میں گردن اور جبڑے کے پٹھے بند ہو جاتے ہیں،لہذا اس کا نام لاک جا بھی ہے۔ڈاکٹر خالد محمود اختر نے بتایا کہ
1889میںKitasato Shibasaburo نےاس کا سبب بننےوالےایجنٹ کودریافت کیاتھااور پہلی ویکسین ایڈمنڈ نوکارڈ نے1897میں بنائی تھی ۔ٹیٹنس زیادہ آمدنی والے ممالک کے مقابلےکم آمدنی والےممالک میں زیادہ پایا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ اس سکے خلاف آگاہی نہ ہونا ہے ،امریکہ میں ہرسال بمشکل30 کیسزرپورٹ ہوتے ہیں جن میں زیادہ تروہ لوگ شامل ہیں جنہوں نےٹیٹنس کے ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔اس کے برعکس،کم آمدنی والےممالک میں ہم ٹیٹنس کےزیادہ واقعات دیکھتے ہیں اور بدقسمتی سےاموات کی شرح بھی زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں ہرسال تشنج کی وجہ سے ہزاروں اموات واقع ہوتی ہیں ۔تشنج کی 4اقسام ہیں جن میں پہلی عمومی جس میں متاثر شخص میں علامات کے آغاز میں تقریبا 10دن لگتے ہیں اس قسم کی علامات ہلکی شروع ہوتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ شدت کی طرف بڑھتی ہیں جس کا پہلا شکار انسانی جبڑا ہوتا ہے جس کے بعد پٹھوں کا کھچاؤ گردن اور جسم کے دیگر حصوں کو متاثر کرتا ہے۔ چہرے کے پٹھوں کے طویل سکڑاؤ کی وجہ سے مریض کو نگلنےمیں دشواری ہوسکتی ہےاس کی دوسری قسم کو نوزائیدہ بچوں کا ٹیٹنس کہا جاتا ہے۔اس بیماری کا بنیادی سبب بیکٹیریا کے علاوہ، ایک غیر ویکسین شدہ ماں ہے۔ جب غیرجراثیم کش آلات کا استعمال کرتے ہوئے،نال کو کاٹا جاتا ہےتو بیکٹیریا زیادہ تر منتقل ہوتے ہیں ۔نوزائیدہ بچوں میں چڑچڑاپن، چوسنے یا کھانا کھانے میں ناکامی اور پٹھوں کی سختی جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کا ٹیٹنس کی تشخیص مشکل ہے، اور اگراس کی تشخیص کرکےعلاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ہوسکتا ہے۔تشنج کی تیسری قسم مقامی کہلاتی ہے جس سے مراد جسم کے ایک محدود حصے میں پٹھوں کا کھچاؤ ہے۔ اس قسم کے ٹیٹنس زیادہ ترکھلی جلد اورزخمی جگہوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بیکٹیریا چوٹ کی جگہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور وہاں اپنا زہر پیدا کرنا شروع کر دیتا ہےجس کی وجہ سے چوٹ کے قریب اس مخصوص جگہ میں پٹھوں میں کھچاؤپیدا ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں میں ہو سکتا ہےجنہوں نے ویکسینیشن تو کروائی ہوتی ہے مگر کمزورمدافعتی نظام کےحامل ہونے کی وجہ سے بیماری کا شکار ہوتے ہیں ۔تشنج کی آخری قسم دماغی تشنج کہلاتی ہے جسےسیفلک ٹیٹنس بھی کہا جاتا ہے، یہ سر کے پٹھوں تک محدود ہوتی ہے جس کا سبب ایک یا ایک سےزیادہ کرینیل اعصاب کےفالج کی وجہ سے ہوتا ہے مگر یہ قسم بہت نایاب ہے اور اس کا احتمال نہایت کم ہوتا ہے۔تشنج کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد محمود اختر نے بتایا سخت پٹھے، پٹھوں میں کھچاؤ،بند جبڑا،نگلنےمیں دشواری،چہرے کےسخت پٹھے، سانس لینےمیں دشواری،فضلہ میں خون آنا،تیزبخار،شدید سردرد،گلےکی سوزش اوربہت زیادہ پسینہ آنا شامل ہیں ۔ٹیٹنس کا سبب بننے والا بیکٹیریم کلوسٹریڈیم ٹیٹانی کہلاتا ہے۔ اینیروبک گرام پازیٹو بیکٹیریا کئی دہائیوں سےموجود ہیں اوران کی بیج تعداد میں اضافہ کرنے کی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں ماحول سے ختم نہیں کیا جا سکتاجو انہیں انتہائی درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ بیکٹیریا ایک زہر پیدا کرتا ہےجو ٹیٹنس میں پائےجانے والےتمام پٹھوں کے سکڑنےوالےاثرات کومتحرک کرتا ہے ۔بیکٹیریا عام طور پرمٹی میں پایا جاتا ہےاورچوٹوں اورکھلی ہوئی جلد کے ذریعےانسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ چوٹ کی جگہ کےذریعے جسم میں بیکٹیریا داخل ہونےکےبعد یہ مزید بڑھ جاتا ہے۔اینٹی مائیکروبائیلز ادویات کا استعمال بیکٹیریا سےپیدا ہونے والے زہریلےمادےکوختم کرنےکےلئےکیا جاتا ہے۔ ابتدائی طورپر پینیسیلین جی کو اس مقصد کے لیےاستعمال کیاجاتا تھا، لیکن اب میٹرونیڈازول کواس کی بہتراینٹی مائیکروبائیل سےترجیح دی جاتی ہےجبکہ ٹی آئی جی ویکسین کی وجہ سے زہریلے مادوں کا خاتمہ ممکن بنایا جاتا ہے۔تشنج کی پیچیدگیاں اس کی قسم پر منحصر ہوتی ہیں جن میں سانس لینے میں دشواری ،پلمونری ایمبولزم – خون کےجمنے سےمرکزی شریان یا اس کی شاخوں میں رکاوٹ،شدید عمومی کھچائوجو جسم میں فریکچر کا باعث بنتا ہے۔سانس لینے کےعمل میں رکاوٹ یا اعصابی نقصان بھی موت کا سبب بن سکتا ہے۔تشنج کے خطرے کے عوامل میں سرفہرست و یکسین نہ لگوانا ہے ،مٹی یا آلودہ چیز سے متاثر ہونےوالےغیرمحفوظ زخم، ذیابیطس والےلوگوں میں جلد کےزخم اورقدرتی آفات کا شکار ملک جہاں پر اس کی ویکسین لگوانے کی شرح نہایت کم ہو۔ڈاکٹر خالد محمود اختر کی گفتگو سے تشنج کی بیماری کے خلاف مکمل آگاہی حاصل ہوتی ہے اور اس کے علاج بروقت ویکسینیشن سے انسانی جان بچ جاتی ہے۔