عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر اعظم علی اندھیروں کو روشنی میں بدلنے والا باکمال ڈاکٹر رخصت ہوا

تحریر: سہیل دانش
ڈاکٹر صاحب سے گفتگو کرکے احساس ہوتا تھا کہ مسیحائی بھی ایک آرٹ ہے کسی بھی ڈاکٹر سے مریض کا تعارف، مرض کی تشخیص، مریض کے لئے حوصلہ افزائی کے چند بول، روئیے اسلوب اور سب سے بڑھ کر ڈاکٹر کی مہارت کے یہ تمام پہلو ذرا غور کیجے، ایک ایسے شخص کے لئے کتنے حوصلے اور توانائی کا باعث ہوتے ہیں جو کسی بھی مرض میں مبتلا ہوکر خود کو انتہائی کمزور اور پسپا ہوتا محسوس کرتا ہے، مجھے بحیثیت مریض تو ڈاکٹر صاحبان کے پاس جانے کا اتفاق بہت کم ہوا لیکن بے شمار مریضوں اور نامور ڈاکٹرز صاحبان کے مابین رابطہ کار کی ذمہ داریاں نبھانے کا تجربہ ضرور رہا۔ شاید اس کی وجہ صحافتی کیرئیر کے سبب بہتر رابطے اور صحت اور بیماریوں کے متعلق آگاہی کی جستجو رہی میں جب بھی کسی پروفیشنل کی شہرت کا چرچا سنتا ہوں ناجانے کیوں مجھے اُن سے ملنے کی خواہش جاگ اُٹھتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یونیورسٹی میں زمانہ طالبِ علمی سے لے کر آج تک بڑے لوگوں کی بائیوگرافیز پڑھنا بلکہ گھول کر پی لینا میری ہابی یا عادت بن گئی ہے۔ ڈاکٹر اعظم سے میری پہلی ملاقات حادثاتی طور پر اُس وقت ہوئی جب میں اپنے دفتر کے ساتھی کو جو آنکھوں کی ایک پیچیدہ بیماری میں مبتلا تھے اور جس کا سبب شوگر اور بلڈ پریشر کے امراض تھے وہ کسی ماہر امراض چشم سے یہ آپریشن کرانا چاہتے تھے۔ میں اِس سلسلے میں مشورے کے لئے اپنے پرانے دوست جناب قاسم لاکھا کے پاس لے گیا تاکہ وہ کسی سرجن کو اِس آپریشن کے لئے Referکردیں، قاسم لاکھا طویل عرصے تک آغا خان ہسپتال کے سربراہ رہے ہیں اُنہوں نے بلا تذبذب کہا کہ اِس حوالے سے ڈاکٹر اعظم سے بہتر کوئی اور آپشن نہیں ہوسکتا، میں اُنہیں فون کردیتا ہوں۔ وہ آپکے Patient کو ترجیحی بنیاد پر دیکھ لیں گے۔ بس یہ ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات تھی وہ ایک ہمدرد، ہنس مکھ اور دردمند مسیحا کی طرح پیش آئے۔ اُنہوں نے معائنے کے بعد آپریشن کی تاریخ دیدی اور ڈاکٹر صاحب کی مہارت نے ہمارے ساتھی کی آنکھوں کو زیرومیٹر کردیا۔ ڈاکٹر صاحب ایک طویل عرصے تک آغا خان ہسپتال کے ساتھ منسلک رہے۔ اِس پورے عرصے میں ڈاکٹر صاحب کی مہارت، اُن کی پروفیشنل صلاحیت اور قطار درقطار مریضوں کی بینائی کے پیچیدہ ترین امراض سے مکمل صحتیابی کے ریکارڈ کا ڈنکا بجتا رہا۔ چند سال قبل میں نے پاکستان کے اُن چند بے مثال ڈاکٹرز صاحبان کے پروفائل جمع کرنے شروع کئے، اُن کی یادوں کو سمیٹا، صحت عامہ کے شعبے میں جس کی گرانقدر خدمات ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ میری اِس فہرست میں ایس آئی یو ٹی جیسے ادارے کے خواب کو تعبیر بخشنے والے ڈاکٹر ادیب رضوی سرفہرست تھے۔ میں نے ڈاکٹر رضوی کی اُن بے لوث خدمات اور نیکیوں کو سمیٹنے کی کوشش کی۔ جس کی داستان بہت طویل ہے اور آپ اُن کی سادگی، حوصلے اور عزم کی کتابی شکل میں پڑھ کر حیران رہ جائیں گے۔ کون ہے جو این آئی بی ڈی کے روح رواں ڈاکٹر شمسی کی خون کے امراض کے حوالے سے تحقیق اور اِس سلسلے میں وہ کس طرح زندگی بھر ملک بھر سے آئے مریضوں کے لئے اُمید بنے رہے۔ لیکن جب بلاوا آگیا۔ تو پھر ایثار اور خدمات کا بھرا میلہ اور اپنی یادیں چھوڑ کر چلے گئے۔ انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر باری کی اِس قابل تقلید ادارے کے قیام اور بلا تفریق بے بس مخلوق خدا کی بلامعاوضہ خدمت کی مثال قائم کرنے کا انوکھا باب رقم کرہے ہیں۔ میری اس فہرست میں ڈاکٹر فیصل سلطان بھی ہیں اُن سے بات کرکے یوں لگتا ہے کہ وہ طب سے زیدہ مینجمنٹ کے ماہر ہیں اور جس طرح اُنہوں نے اپنی اِس مہارت کا مظاہرہ کرکے نہ صرف عمران خان کا مان رکھا بلکہ شوکت خاتم کینسر ہسپتال کے حوالے سے اُس کے حقیقی مقصد اور اسپرٹ کو کبھی اوجھل نہیں ہونے دیا۔ دِل کے امراض کے حوالے سے سرجن رحمن، ڈاکٹر اظہر فاروقی، ڈاکٹر اسد پٹھان جیسے مسیحاؤں کی پروفیشنل مہارت کے چرچے حیران کن ہیں۔ دماغی امراض میں پروفیسر آئی ایچ بھٹی سے طویل شناسائی کے دوران اُن کی سرجری کے کمالات سنتے بھی رہے اور دیکھتے بھی رہے۔ آرتھوپیڈک کے ڈاکٹر محمد علی شاہ اور ڈاکٹر شاہد نور کے ہڈیوں کی توڑ جوڑ تراش خراش کے فن کا ہر کوئی معترف رہا۔ محمد علی شاہ صاحب بھی اب ہم میں موجود نہیں۔ اور اُنہیں بھی برین ٹیومر جیسے مہلک مرض نے زندگی ہارنے پر مجبور کیا۔ اور حالیہ رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں عالمی شہرت یافتہ ماہر امراض چشم ڈاکٹر اعظم علی بھی برین ٹیومر جیسی مہلک بیماری سے بالآخر زندگی کی جنگ ہارگئے۔
ڈاکٹر اعظم علی ایک ڈاکٹر ہی نہیں ایسے باکمال انسان تھے۔ زندگی جن کے انگ انگ سے نشر ہوتی تھی۔ آپ اندازہ کیجئے جب زندگی میں عمر کے پچھلے پہر کے سائے پڑنے لگے تو ڈاکٹر صاحب ہارلے ڈیوڈس جیسی بھاری بھرکم فراٹے بھرتی موٹرسائیکل پر اُس کی سواری سے محظوظ ہوتے رہے۔ خوش خوراک ہونے کے ساتھ ساتھ خوش گفتار بھی تھے۔ مریضوں سے خصوصاً اُن کا رویہ انتہائی عجزوانکسار سے بھرا ہوتا۔ اُن کی حوصلہ مند باتیں مریضوں کے لئے ٹانک کا کام کرتیں۔ اللہ نے انہیں “گولڈن ہینڈ” عطا کئے تھے۔ سرجری میں اُن کی کامیابیوں کی شرح حیران کُن تھی۔ ڈاکٹر اعظم علی نے انگلستان سے سرجری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اپنے شعبے میں خود کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لئے وہ تسلسل سے غیرملکی دوروں میں تحقیق کے نئے نئے زاویہ سے آگاہی حاصل کرتے اور اُسے عملی شکل میں اپنے مریضوں پر اپلائی کرتے وہ اپنے ساتھیوں اور اپنے مریضوں کے لئے حوصلہ اور اعتماد کا نشان تھے۔ اُنہوں نے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں کو سچ مچ کے اُجالوں اور روشنیوں سے منور کیا۔ اُن کی ایک قریبی ساتھی ڈاکٹر زینت نے اُن کی شخصیت پر روشنی ڈالٹے ہوئے بتایاکہ وہ حقیقت میں ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے وہ بتاتی ہیں کہ نہ جانے کیوں ڈاکٹر اعظم کو یہ یقین تھا کہ اُن کے ساتھ ہونے والی ہر چیز ہر واقعہ چاہے اچھا ہو یا بُرا اِن کے لئے کسی بہتری اور کسی خوش قسمتی کا سبب بنتا ہے ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ ہر انسان کا ٹیلنٹ اُس کا پروفیشن ہوتا ہے وہ کہتے تھے میں ڈاکٹر بن گیا۔ میں نے زمانہ طالب علمی میں ہی اپنا گروپ تلاش کرلیا تھا میں نے اللہ کے کرم سے اپنی فیلڈ پالی اور پھر انتھک محنت کی یہ ٹھیک ہے کہ کسی مقام تک پہنچنا بعض لوگوں کے لئے آسان اور بعض کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ناممکن کسی کے لئے نہیں ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ زندگی اور کامیابی کے متعلق ڈاکٹر اعظم علی کی اپنی تھیوری اور فلسفہ جو بھی ہو۔ اُن پر اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم تھا۔ اس لئے اُن کے پاس عزت شہرت اور دولت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ایک دردمند دِل دیا تھا۔ میں نے اُن کے متعدد مریضوں سے بات کی جس سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک حیرت انگیز سرجن اور باکمال انسان تھے اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ ڈاکٹر اعظم علی جیسے بلند پایہ مسیحا کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔