پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کی سالمیت، جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد اور آئین کی بالادستی کیلئے بہت بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں : سید مراد علی شاہ

کراچی  :  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر اس اقدام کے خلاف ہے جو آئین اور قانون کے برعکس ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے ملک کی سالمیت اور جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد اور آئین کی بالادستی کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔ یہ بات انہوں نے آج بروز جمعرات نیشل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ ’این آئی ایم ‘ میں منعقدہ 26ویں سینئر مینجمنٹ کورس (ایس ایم سی) کی تقریب اسناد میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ واضح رہے کہ نیشل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ ’این آئی ایم ‘ میں ہونے والا سینئر مینجمنٹ کورس (ایس ایم سی) 16 ہفتے (4 ماہ) پر محیط ہوتا ہے جو گریڈ 19افسران کیلئے گریڈ 20 حاصل کرنے کیلئے ضروری ہوتا ۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نیشل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ ’این آئی ایم ‘ میں سینئر مینجمنٹ کورس (ایس ایم سی) کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سینئر مینجمنٹ کورس (ایس ایم سی) کرنے والے افسراں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ تمام افسران کی فیلڈ میں ضرورت ہے جہاں آپ کو عوام کے مسائل حل کرنے میں بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے چار ماہ کے کورس کے دوران ملک میں بہت کچھ ہو گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک اس وقت مشکل حالات سے گذر رہا ہے، معاشی مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور گورننس کےبہت مسائل ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں آئین کے تحت عوام نے ووٹ دے کر ملک کو مسائل سے نکالنے کا اختیار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام اسٹیک ہولڈرز میں جو تصادم پیدا ہوگیا ہے وہ نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سرکاری ملازمین طرز عمل والے قوانین ضرور پڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین عوام، اپنے افسران بالا اور حکومت کے ساتھ کام کرنے کیلئے بہترین قوانین موجود ہیں اور ان قوانین کی روشنی میں سرکاری افسران کو کام کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میرے پاس بورڈ ہے جو گریڈ بی ایس 19 سے گریڈ بی ایس 20 میں ترقی دیتا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نیشل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ ’این آئی ایم ‘ میں افسران کی تربیت آپ کو فیلڈ میں کام کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سینئر مینجمنٹ کورس (ایس ایم سی) کے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر اس اقدام کے خلاف ہے جو آئین اور قانون کے برعکس ہوگا۔ ہماری پارٹی نے ملک کی سالمیت اور جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد اور آئین کی بالادستی کے لیے بہت بڑی قربانیان دی ہیں۔ ایک اہم عدالتی فیصلے سے متعلق صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غداری والا فیصلہ عدالت کا ہے اور اس کی اپیل کیلئے فورم موجود ہیں اور اس پر زیادہ تنازع نہیں ہونا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھ سے کوئی خفیہ رابطہ نہیں کیا لیکن میں یہ بتادوں کہ مشترکہ مفادات کونسل(سی سی آئی) کا اجلاس جو پہلے 11 دسمبر کو ہونا تھا مگر اب 23 دسمبر کو ہوگا میں اس اجلاس میں شرکت کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں صوبہ سندھ کے اہم مسائل موجود ہیں ان کو حل کرنے کیلئے بات کرونگا۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل لیجسلیٹو پارٹ ٹو جو سی سی آئی کے ذریعے ہی نگرانی،اختیار اور انتظام کرتا ہے اور اس سلسلے میں ہر صوبے کے جو مسائل ہیں، صوبوں کے آپس اور وفاق کے ساتھ ہوتے ہیں، اس کے متعلق اجلاس وزیراعظم نے 23 دسمبر 2019ء کو رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ سندھ بلکہ دیگر صوبوں اور وفاق کے جو معاملات ہیں وہ آئین کے لیجسلیٹو پارٹ ٹو کے مطابق مناسب طریقے سےحل ہوں اور اس حوالے سے پیش رفت ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ویسے تو مسائل کی بہت لمبی فہرست ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو ہمارے کیسز سی سی آئی میں شامل ہیں ان میں آئل اینڈ گیس جو آرٹکل 158 کے حوالے سے ہے جس صوبے سے قدرتی ذخائر نکلیں گے ان وسائل پر اس صوبے کا پہلا حق ہے۔ سی سی آئی اجلاس میں پانی کے مسائل بھی شامل ہیں۔ 2016ء میں ہمارے تقریباً سات ارب روپے کے ایٹ سورس کاٹے گئے تھے جو ہمیں واپس نہیں کیے گئے یہ اہم معاملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مزید ایک مسئلے کو سی سی آئی اجلاس میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے، وہ یہ ہے کہ جامشورو سے سیہون سڑک بن رہی ہے، اس میں 50 فیصد فنڈز سندھ حکومت پہلے ہی ڈھائی سال پہلے دے چکی ہے، اس کا کام بہت سست روی سے ہو رہا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کو بھی ایجنڈہ میں شامل کیا جائے گا۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ چشمہ جہلم کینال پر ایک پاور اسٹیشن کی اجازت دی گئی ہے اس سلسلے میں ہمارا ایک کیس سی سی آئی میں ہے، یہ تمام کیسز ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح دیگر صوبوں اور وفاق کے بھی معاملات ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ آئین میں سی سی آئی کا اجلاس ہر 3 ماہ (90 یوم) میں ایک بار ضرور ہونا چاہئے اور یہ آئین کے لکھنے والوں نے ایسے ہی نہیں کہ دیا کہ جب موقع ملے بیٹھ جائیں اور گپ شپ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس (مشترکہ مفادات کونسل) ادارے کا اتنا ہی کام ہے حرف بہ حرف اہم ہے جتنا وفاقی کابینہ کا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ ہر ہفتے میں ملتی ہے ابھی اور یہ وفاقی کابینہ کا کام پارٹ ون جو لیجسلیٹو ہے اس کے بارے میں پالیسی بنانا اور فیصلے کرنا۔ اور لیجسلیٹو پارٹ ٹو کے لئے سارا کام سی سی آئی کا ہے۔ اس لئے 3 ماہ میں کم سے کم ایک بار اجلاس کرنا ضروری ہے ، بدقسمتی سے ایک سال ایک ماہ سے زائد وقت گذر جانے کے بعد سی سی آئی کا اجلاس رکھاگیا ہے اور یہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب پیر 23 دسمبر کو اجلاس ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے ذریعے اور اور میں خود وزیراعظم سے یہی درخواست کرونگا کہ 3 مہینے کا انتظار نہ کریں ایک ہفتے بعد دوبارہ اجلاس بلائیں اور آئٹم گذشتہ 4 پانچ مہینوں میں رہ گئے ہیں تاکہ ان کے پس منظر میں انھیں حل کر سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کیے گئے تھے اوریہ ہمارے مذہب میں ہے کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے خود کہا تھا کہ بھٹو صرف میں نہیں ہوں آپ سب بھٹو ہیں، اور جب تک بھٹو کو چاہنے والے موجود ہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو زندہ رہیں گے۔