”جنرل پرویز مشرف امریکا کا ملازم تھا اور کرپٹ بھی تھا“ مرحوم جنرل (ر) حمید گُل کی سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی پُرانی ویڈیو وائرل ہو گئی

سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو رواں ہفتے کے دوران خصوصی عدالت کی جانب سے سنگین غداری کیس میں سزائے موت سُنائی گئی۔ اس فیصلے پر پاکستان میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کی مخالفت اور حمایت میں لفظی جنگ پُورے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ دونوں اطراف سے پُرانی پُرانی پوسٹس اور ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔
ایسی ہی ایک ویڈیو ٹویٹر پر سامنے آئی ہے جس میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ مرحوم جنرل ریٹائرڈ حمید گُل ایک ٹی وی پروگرام کے دوران سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ جنرل پرویز مشرف امریکا کا ایک ملازم تھاتھا، اس لیے میں نے شروع میں ہی اپنی راہیں اُس سے جُدا کر لیں ۔
حالانکہ وہ میرا سٹوڈنٹ تھا۔ اس نے میرے ماتحت بھی کام کیا اور وہ بھی مجھے اپنا رول ماڈل سمجھتا تھا۔
وہ اکثر میرے حوالے دیا کرتا تھا۔ جہاں تک اُس کے ”سب سے پہلے پاکستان“ کے نعرے کا تعلق تھا، وہ دراصل خود کو سب سے آگے رکھنے کا ایک بہانہ تھا اور وقت نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک کرپٹ آدمی تھا۔اُس کا ”سب سے پہلے پاکستان “ کا نعرہ اپنی جگہ جس کے ساتھ پاکستانی عوام جُڑے ہوئے تھے۔ مگر اس بات کو آپ چھوڑ دیجیے۔ جنرل مشرف نے ایجوائر روڈ پر ایک ملین ڈالر مالیت کا ایک فلیٹ خریدا ، وہ پیسہ کہاں سے آیا۔
جب اینکر نے سوال کیا کہ مشرف کا کہنا تھا کہ میں نے بے شک فلیٹ خریدا ہے، میں اب لیکچرز سے پیسے اکٹھے کر کے کما رہا ہوں۔ جس پر جنرل حمید گُل نے کہا کہ انہیں یہودی پیسے دے رہے ہیں۔ شمعون پیریز نے 2003ء میں امریکی جریدے نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک یہودی کے طور پر میں نے کبھی اس بات کا تصور نہیں کیا تھا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب میں بستر پر سونے سے قبل پرویز مشرف کی لمبی عمر کی دُعائیں کر رہا ہوں گا۔ سو مشرف یہودیوں کا پروردہ ہے، اسے ہمارا آدمی نہ سمجھا جائے- محمد عرفان published-by-urdupoint-


اپنا تبصرہ بھیجیں