گڑبڑ آخر ہے کیا؟

گڑبڑ آخر ہے کیا؟
کہانی شروع ہوتی ہے کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے، جس میں کئی اسلامی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے لیکن سارا میلہ عمران خان، طیب اردوان اور مہاتیر محمد نے لوٹ لیا۔
اس اجلاس میں تینوں برادر اسلامی ممالک کے سربراہان نے اتحاد اور تعلقات کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا اور یہ فیصلہ بھی ہوا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ تینوں ممالک ایک ایسا مشترکہ ٹی وی چینل شروع کریں، جو پوری دنیا تک ناصرف واضح مؤقف پہنچائے، بلکہ دنیا بھر میں اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی پراپیگنڈے کو بھرپور جواب بھی دیا جاسکے۔
وہاں جو سفر ختم ہوا، اسے کوالا لمپور سمٹ میں وہیں سے شروع کرنا تھا اور اس سفر میں مزید کئی اسلامی ممالک کو شامل کرنا تھا تاکہ اتحاد و اتفاق پیدا کیا جاسکے، مگر اس پوری صورتحال کو سعودی عرب نے اپنے لیے خطرہ محسوس کیا اور یہ ماحول بنایا کہ جیسے یہ سمٹ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو غیر فعال کرنے یا اس کی جگہ لینے کے لیے بلوائی گئی
سعودی عرب کو ایسا لگا جیسے اس سمٹ کی صورت اسلامی دنیا کا نیا بلاک بن رہا ہے جو او آئی سی کی جگہ لے گا اور اس طرح اسلامی ممالک کی قیادت کا تاج سعودی عرب کے سر سے اتر کر اس نئے بلاک کے ممالک کو حاصل ہوجائے گا۔
بلکہ گزشتہ روز او آئی سی کے سیکریٹری نے یہ بیان بھی دے دیا کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے باہر کسی بھی قسم کا اجلاس بلانا اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی بات کیوں مانی؟
حال ہی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مالی امداد نے پاکستانی وزیرِاعظم کو مجبورکردیا کہ وہ جدہ جاکر واضح کریں کہ یہ ساری صورتحال کیا ہے۔ یا تو شاہ کو قائل کرلیں یا پھر اپنا ارادہ بدل لیں اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ عمران خان نے اپنا مؤقف کامیابی سے سمجھانے کے بجائے سعودی عرب کی بات من و عن مان لی، حالانکہ کوالا لمپور میں سجنے والی محفل اصل میں عمران خان کے لیے ہی سجائی گئی تھی اور وہی اس کے دلہا تھے، مگر دلہا میاں نے ہی محفل میں شرکت سے انکار کردیا۔
اس بات کو ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگرچہ سعودی عرب اور امارات نے پاکستان کی مشکل وقت میں مالی مدد کی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر ایشو پر جب پاکستان خود کو تنہا محسوس کررہا تھا تو وہاں ترکی اور ملائیشیا نے پاکستان کا ببانگِ دہل ساتھ دیا، جبکہ سعودی عرب اور امارات نے تو اپنی آنکھیں ہی بند کرلی تھیں۔ امارات نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر عین انہی دنوں جس وقت بھارت کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا تھا، کرفیو کے نام پر ان کی زندگی اجیرن کررہا تھا نریندر مودی کو سب سے بڑا سول اعزاز دیا تھا۔
یہاں ایک بات یہ بھی یاد رہے کہ جب ملائیشیا نے واضح طور پر یہ کہا کہ بھارت نے کشمیر پر ‘حملہ اور قبضہ’ کیا ہوا ہے، تو بھارت نے شدید ناراضی کا اظہار کیا، اور صرف اظہار ہی نہیں کیا بلکہ پام آئل کی صورت اربوں ڈالر کی تجارت بھی معطل کردی، لیکن اس بڑے نقصان کے پیش نظر بھی ملائیشیا اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹا۔ اس ہمت اور اپنی بات پر قائم رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتی تاجروں نے گزشتہ ماہ ایک بار پھر ملائیشیا سے تجارت کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا؟
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے پایا تو کچھ نہیں بلکہ سمٹ میں نہ جانے کا فیصلہ کرکے پاکستان نے ہم خیال دوست اسلامی ممالک کی ہمدردی، ان کی دوستی اور ان کے تعاون کو شاید کھو دیا ہے۔ جہاں تک بات رہی سعودی عرب اور امارات کی تو یقینی طور پر وہاں سے ہمیں مالی طور پر ضرور فائدہ ہوا ہے لیکن پاکستان اس فائدے کے بدلے ہمیشہ کمزور ہوا ہے۔ اور ان کے کہنے پر کسی سمٹ میں نہ جانے کا فیصلہ اس کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں یہاں یہ کہہ سکتا ہوں پاکستان سے ایسے سفارتی یوٹرن کی امید قطعی طور پر نہیں تھی- کوالا لمپور سمٹ میں نہ جاکر پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا؟ محمد ناصر زیدی published-by-dawnnews-


اپنا تبصرہ بھیجیں